میسورو: ’مہیش دسہرا‘منانے کی اجازت نہ دینے پر دلت لیڈران ناراض۔بغیر اجازت منایا تہوار۔ ضلع انتظامیہ کے خلاف درج کریں گے مقدمہ

Source: S.O. News Service | Published on 16th October 2020, 11:24 PM | ریاستی خبریں |

میسورو،16؍اکتوبر (ایس او نیوز) ہندوستان کے قدیم باشندوں کے عقائد کے مطابق دیوتا کے اوتار مہیش (مطلب بھینسا) اوراصلی باشندوں کے راجامہیشا سورا  کے نام پر ’مہیش دسہرا‘منانے کی اجازت ضلع انتظامیہ کی طرف سے نہ دئے جانے پر دلت سماج کے سماجی اور مذہبی ذمہ دار کافی ناراض ہوگئے ہیں۔ دلتوں کی  مذہبی کہانی کے مطابق مہیشا سورا کو(برہمن جسے راکھشس مانتے ہیں )کو باہر سے آنے والے آرین لوگوں (برہمنوں )نے ایک دُرگا( جسے دلت فاحشہ مانتے ہیں) کے جال میں  پھانس کر قتل کروایا تھااسی لیے میسورو میں جسے قدیم زمانے میں  اس راجا کا پایہ تخت مانا جاتا ہے ، ’مہیش دسہرا‘ منانے کا رواج ہے۔

ضلع انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے باوجود بھی ’مہیش دسہرا سمیتی ‘ کے ارکان اور ذمہ داران نے چامنڈی پہاڑ پر موجود مہیشا سورا راجا کی مورتی کو پھولوں کی مالا  پہنا نے کے بعد شہر کے اشوک پورم میں واقع پارک میں تہوار منایا۔

اس موقع پر گیان پرکاش سوامی جی نے کہا کہ ’چونکہ مہیش دسہرا دلت سماج کے لوگ مناتے ہیں اس لئے ضلع انتظامیہ نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ ہم کسی کے جذبات کوٹھیس پہنچائے بغیر گزشتہ ۶ برسوں سے مسلسل مہیش دسہرا مناتے آئے ہیں۔لیکن گزشتہ سال اور امسال ہمیں انتظامیہ کی طرف سے اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔اور اس کے لئے امن وامان کی صورتحال بگڑنے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔اگر ایسا ہے تو ہمیں بتایا جانا چاہیے کہ اس سے پہلے تو بابا صاحب امبیڈ کر کا بنایا ہوا آئین تھا مگر اب دیش میں کونسا آئین  لاگو  ہوگیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ملک میں منووادی دستور لاگو ہوگیا ہے۔ ہماری مذہبی رسومات اور عقائد کا تحفظ دستور میں موجود ہے۔ ہمیں مہیش دسہرا منانے کی اجازت نہ دینے کا مطلب ہمیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ہم امبیڈکر کے بچے ہیں۔ ہم قانون اور دستور کا احترام کرتے ہیں۔  ہم ذات پات کی بنیاد پر اس تذلیل کے لئے ضلع انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔‘

ایک نظر اس پر بھی