مہاراشٹر الیکشن: خواتین ریزرویشن کی بات کرنے والی پارٹیاں خود خواتین کو نہیں دے رہیں حق

Source: S.O. News Service | Published on 17th October 2019, 12:03 PM | ملکی خبریں |

اورنگ آباد،17؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی)  مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کی 46 اسمبلی سیٹوں کے لئے 21 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے واسطے کل 676 امیدواروں میں سے صرف 30 خواتین امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک بار پھر سبھی سیاسی جماعتوں نے خواتین كو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ پورا نہیں کرپائی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مراٹھواڑہ کے آٹھ اضلاع کے سبھی 46 حلقوں میں مجموعی طور پر 30 خواتین امیدوار اپنی قسمت آزما رہی ہیں جن میں تسلیم شدہ جماعتوں کی آٹھ امیدوار بھی شامل ہیں۔ باقی امیدوار علاقائی پارٹیوں یا پھر آزاد امیدوار کے طور پر اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔

سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ دریادلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے دکھائی ہے۔ اس نے اپنا امیدوار تبدیل کیے بغیر کل تین امیدوار اتارے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہ تعداد دس فیصد سے بھی کم ہے۔ اورنگ آباد، جالنہ اور بیڑ اضلاع میں چھ چھ، ناندیڑ میں پانچ، پربھنی میں چار، لاتور میں دو اور عثمان آباد میں ایک خاتون امیدوار انتخابی میدان میں ہے۔ جبکہ هنگولی ضلع سے کوئی خاتون الیکشن کوئی خاتون امیدوار انتخاب نہیں لڑ رہی ہے۔

خاتون امیدواروں میں پرلی حلقہ سے ریاست کی وزیر پنکجا منڈے (بی جے پی) اور كیج (محفوظ) حلقہ سے نويتا منڈاڈا (بی جے پی)، دونوں حلقے بیڑ ضلع سے ہیں جبکہ میگھنا بورديكر (بی جے پی) پربھنی ضلع کے جنٹر حلقہ سے کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ راجشرا پاٹل (شیوسینا) ناندیڑ۔جنوبی حلقہ سے، ساوتری كامبلے (بہوجن سماج پارٹی) دیگلور حلقہ سے، ركمنی گیتے (جنتا دل ایس) لوہا حلقہ سے، سبھی ناندیڑ ضلع میں ہیں۔ دو اہم سیاسی جماعتیں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس حلقے میں کسی بھی خاتون امیدوار کو میدان میں اتارنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی