جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر مدرسے کے بچوں کی پٹائی، بجرنگ دل پر لگے الزام 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2019, 10:56 PM | ملکی خبریں |

یوپی،12/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) اناؤ میں ایک مدرسے کے بچوں کی جے شری رام کے نعرے نہ لگانے پر پٹائی کی گئی۔اس واقعہ میں بہت سے بچے زخمی ہو گئے۔مدرسے کے لوگوں کا الزام ہے کہ حملہ کرنے والے لوگ بجرنگ دل کے تھے۔حملہ آوروں نے بہت سے بچوں کی سائیکل بھی توڑ دی۔فی الحال اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کی جا رہی ہے۔پولیس نے تین زخمی بچوں کا طبی علاج کروایا ہے اور فیس بک پروفائل کے ذریعے ملزمان کی تلاش کر رہی ہے۔کچھ لوگ حراست میں لئے گئے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔اس سے پہلے آسام کے بارپیٹا ضلع میں چار غنڈوں نے تین مسلم نوجوانوں کی پٹائی کر دی تھی اورانہیں جے شری رام بولنے کے لئے مجبور کیا تھا۔یوپی کے کانپور سے بھی کچھ وقت پہلے اسی طرح کا معاملہ سامنے آیا تھا۔کانپور کے بررا علاقے میں ایک مسلم نوجوانوں کی کچھ لوگوں نے بری طرح پٹائی کر دی تھی۔لڑکے کا الزام تھا کہ اس نے ٹوپی پہن رکھی تھی اور لوگ اس سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہہ رہے تھے۔بررا کارہنے والا تاج قدوائی نگر میں واقع مسجد سے نماز پڑھ کر گھر واپس آ رہا تھا اسی وقت تین چار نامعلوم موٹر سائیکل سوار لوگو ں نے اسے روک لیا تھا اور اس کے ٹوپی پر احتجاج کیا۔بررا پولیس چوکی انچارج ستیش کمار سنگھ کے مطابق موٹر سائیکل سوار نوجوانوں نے تاج کو’جے شری رام‘ کہنے کو کہا تھا۔ جب اس نے یہ کہنے سے انکار کیا تو اس کی پٹائی کر دی گئی۔جھارکھنڈ میں 24 سالہ موٹر سائیکل چوری کے ملزم تبریز کو ایک کھمبے سے باندھا گیا تھا اور پھر اس کوبری طرح پیٹا گیا۔اس کے ساتھ ہی زبردستی اس سے ’جے شری رام‘ اور’جے ہنومان‘ کے نعرے لگوائے گئے تھے۔اس کوبیہوش ہونے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا پولیس حراست میں چار دن بعد اس کی موت ہو گئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی