مرڈیشورمیں گندگی اور آلودگی کی بھرمار : عوام سمیت سیاح بھی پریشان؛ قریب میں پولنگ بوتھ ہونے سے ووٹروں کو بھی ہوسکتی ہے بڑی پریشانی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th April 2019, 10:02 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:11؍اپریل (ایس او نیوز) مشہور سیاحتی مرکز مرڈیشور فی الحال یتیمی کی صورت حال سے دوچار ہے، انتظامیہ کی بدنظمی سے مرڈیشور کا ماحول خراب حالت کو پہنچا ہواہے، کچرے میں لگاتار اضافہ ہونے سے مرڈیشور میں عوام کا  چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوگیا ہے۔ 

حالیہ برسوں  میں مرڈیشور کی سیاحت کرنےو الے سیاحوں کی تعداد میں  کافی اضافہ ہواہے، لیکن بنیادی سہولیات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ، سڑک، اندرونی نالیوں کی تو حالت بہت ہی ابتر ہے، بے شمار سیاحوں کی آمدو رفت کودیکھتے ہوئے جہاں دیکھو وہاں  بے حساب پرائیویٹ ہوٹل، لاڈج نظر آرہے ہیں، سیاحوں  کو راغب کرنے ہوٹلوں اور لاڈجوں کے درمیان  مقابلہ آرائی بھی جاری ہے، لیکن کچرا نکاسی کا مسئلہ مرڈیشور کے لئے ناسور بن گیا ہے ۔ چند ہوٹلوں اور لاڈجوں کے ٹائلیٹ کا گندہ پانی روزانہ نالوں کی طرح  بہتے ہوئے سمندر میں مل رہاہے۔ بارش کے موسم میں پانی بہنے کے لئے بنائی گئیں نالیوں کو ٹائلیٹ سے راست کنکشن دیا گیا ہے، مچھروں کی پیدائش حد سے زیادہ ہوگئی ہے، عوام مرض کے خوف میں دن گزار رہے ہیں، سب کے آنکھوں کے سامنے نظر آنے والے ان حالات کو دیکھتے ہوئے بھی عوامی نمائندے اور افسران اندھے ہوگئے ہیں۔

انسداد ماحولیاتی آلودگی بورڈماحولیات کا جائزہ لئے بغیر ایسے ہوٹلوں اور لاڈجوں کو سندعطا کیا جانا کئی سوالات  کھڑے کرتاہے۔ پچھلے چند برسوں سے عوام مسئلےکو لے کر چیخ پکار کرنے پر بھی کوئی سننے والا نہیں ہے ۔ ان حالات میں متعلقہ علاقے میں اندرونی نالیوں اور سڑک کا کام کرنے  مزدور بھی پس  و پیش کرنے  کی بات کہی جارہی ہے۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے کہیں کہیں گندہ پانی جمع ہونے سے پھیلنے والی بو کو برداشت نہ کرتے ہوئے عوام بھی  اپنی ناراضگی و برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔

تعجب ہے کہ کوئی  بھی مسئلہ کی جڑ کی طرف توجہ نہیں دے رہاہے۔ کون گندہ پانی بہا رہاہے ، پانی بہہ کر کہاں جارہاہے ، دیکھنے سننے والا کوئی نہیں ہے۔ عوام بھی اس زعم میں ہیں کہ مسئلے کو لےکر کبھی کبھی کسی کو کچھ کہہ کر  سمجھ لیتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ اب وہیں نالیوں کا کام کررہے ٹھیکدار کی ہتک کرنے والا بورڈ چسپاں کرکے  احتجاج کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ غیر معیاری کام کے متعلق عوام اپنا اعتراض جتارہے ہیں سمجھتے ہوئے اصل جڑ  تک پہنچنے جائیں تو سامنے گندہ پانی ہی نظر آتاہے۔ جب یہ سوال کیا جاتاہے کہ  ہوٹلوں اورلاڈجوں سے بہنے والے گندے پانی اور نالی کے تعمیراتی کاموں کے ٹھیکدار کے درمیان کیا تعلق ہے تو کوئی واضح جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔پوچھا جاتا ہے کہ  گند ہ پانی ہمیشہ کی طرح بہہ کر سمندر میں جاملتاہے تو  اس میں حرج کیا ہے۔ کام کی وجہ سے گندہ پانی جمع ہونے سے پورے علاقے میں بدبو پھیل رہی ہے۔ حالات ابتر ہوتے دیکھ ہوٹلوں اور لاڈجوں کے گندے پانی کو روکنے کی صدا لگائی جارہی ہے۔ پاس پڑوس میں اسکول ہونے سے بچوں کے لئے کلاسوں میں بیٹھنا  کسی ظلم سے کم نہیں ہے ۔ اب پولنگ بوتھ بھی اسی پڑوس میں واقع  اسکول میں  ہے تو عوام ووٹنگ کے لئے آئیں بھی تو کیسے آئیں ؟ اس کا جواب افسران ہی دے سکتےہیں۔ وہیں ٹائلیٹ کے  پانی کو آگے بہنے کے لئے راہ دے کر ، جاری کام کو عارضی طورپر روکنے کی مانگ بھی کی جارہی ہے۔ 

اس سلسلے میں ماولی کے  پنچایت ممبر کرشنا نائک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دوبرس پہلے ہوٹلوں اور لاڈجوں کے ٹائلیٹ کا پانی اندرونی نالیوں اور سمندر میں ملنے سے روکنے کے لئے ضلع پنچایت انجنئیر کی موجودگی میں میٹنگ ہوئی تھی۔ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ،آج بھی مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس کے لئے ٹھیکدار ہی ذمہ دار ہیں، لیکن اس سلسلے میں عوامی نمائندوں کو ٹھیک طرح سے جانکاری نہیں دینا اہم وجہ ہے۔

 نالیوں کے تعمیراتی کام کے ٹھیکدار بابو موگیر سے سوال کرنے پر وہ اُلٹا سوال کرتے ہیں  کہ ہوٹلوں اور لاڈجوں کے ٹائلیٹ کا پانی نالیوں سے جا ملنے سے ہمار ا اس میں  کیا تعلق ہے؟ اس سلسلے میں عوام  پنچایت کے افسران اور تعلقہ انتظامیہ  پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس تعلق سے مناسب  کارروائی کریں اور عوام کو گندگی سے راحت دلائیں۔

اس تعلق سے بھٹکل تحصیلدار این بی پاٹل نے بتایا کہ مرڈیشور کے ماحولیاتی آلودگی کے متعلق ضروری کام کرنے کے لئے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئی ہے اور توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں معاملہ حل ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار میں ’سوچھ رتھ ‘موبائیل سواری کا اجراء: ضلع کو پاکیزہ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے: جئے شری موگیر

اترکنڑا ضلع کو ’پاکیزہ ضلع‘ کی حیثیت سے ترقی دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ضلع کو ریاست کا پہلا گندگی سے پاک ضلع بنانے کے لئے ہم سب کو کام کرنا ہے۔ اترکنڑا ضلع پنچایت کی صدر جئے شری موگیر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

شرالی میں پنچایت افسران کا دکانوں پر چھاپہ :28.45کلوگرام پلاسٹک ضبط

بھٹکل تعلقہ کے شرالی میں پلاسٹک کے استعمال سے غلاظت بھرے کچرے کا مسئلہ پیدا ہونے کے پیش نظر اور ضلع پنچایت سی ای اؤ کی ہدایات پر پیر کو شرالی گرام پنچایت حدود کے کئی دکانوں پر چھاپہ ماری کرتے ہوئے 28.45 کلوگرام وزنی پلاسٹک کی تھیلیاں ضبط کرنے کا واقعہ پیش آیاہے۔

ملکی معیشت  کے برے اثرات سے ہر شعبہ کنگال؛ بھٹکل میں بھی سونا اور رئیل اسٹیٹ زوال پذیر؛ کیا کہتے ہیں جانکار ؟

ملک میں نوٹ بندی  اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونےکے متعلق ماہرین نے بہت پہلے سے چوکنا کردیا  تھا۔ اب اس کے نتائج بھی  ظاہر ہونے لگے ہیں۔ رواں سال کے دوچار مہینوں سے جو خبریں آرہی ہیں، اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے  ملک میں روزگاروں کا بےروز ...

ملکی معیشت  کے برے اثرات سے ہر شعبہ کنگال؛ بھٹکل میں بھی سونا اور رئیل اسٹیٹ زوال پذیر؛ کیا کہتے ہیں جانکار ؟

ملک میں نوٹ بندی  اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونےکے متعلق ماہرین نے بہت پہلے سے چوکنا کردیا  تھا۔ اب اس کے نتائج بھی  ظاہر ہونے لگے ہیں۔ رواں سال کے دوچار مہینوں سے جو خبریں آرہی ہیں، اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے  ملک میں روزگاروں کا بےروز ...

بارش کے بعد بھٹکل کی قومی شاہراہ : گڑھوں کا دربار، سواریوں کے لئے پریشانی؛ گڑھوں سے بچنے کی کوشش میں حادثات کے خدشات

لوگ فورلین قومی شاہراہ  کی تعمیر کو لے کر  خوشی میں جھوم رہے ہیں لیکن شہر میں شاہراہ کا کام ابھی تک  شروع نہیں ہوا ہے، اُس پرستم یہ ہے کہ سواریوں کو پرانی سڑک پر واقع گڑھوں میں سے گرتے پڑتے گزرنے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ لوگ جب گڈھوں سے بچنے کی کوشش میں اپنی سواریوں کو دوسری طرف ...

ضلع شمالی کینرا میں بڑھ رہی ہے گردے کی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد

ایک عرصے سے ضلع شمالی کینرا میں ایچ آئی وی اور کینسر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج کل گردے کے امراض اور اس سے گردے فیل ہوجانے کے واقعات میں بڑی تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے۔اس مرض کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت گردوں کی ناکامی کی وجہ ...

کیا ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے ایسے ہی غداروں کی ضرورت تو نہیں ؟ آز: مدثراحمد (ایڈیٹر، روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ)

جب سے ملک میں بی جے پی اقتدار پر آئی ہے  ہر طرح کی آزادی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔بولنے کاحق،لکھنے کاحق،تنقید کرنے کا حق یہ سب اب ملک مخالف سرگرمیوں میں شمار ہونے لگے ہیں اور جو لوگ ان حقوق کا استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں ملک میں غدار کہا جارہا ہے۔ملک کے موجودہ ...

بھٹکل اور اطراف میں برسات کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے مچھروں کا عذاب؛ کیا ذمہ داران مچھروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں گے ؟

اگست کے مہینے سے مسلسل برس رہی موسلادھار بارش نے جہاں ایک طرف عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں پر جگہ جگہ پائے جانے والے گڈھوں، تالابوں اور نالوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں بھی ہوا ہے۔ اور مچھروں کے کاٹے سے پھیلنے والی بیماریوں نے لوگوں کے لئے عذاب ...

بھٹکل میں کبھی عرب تاجروں کی بندرگاہ رہی شرابی ندی کی حالت اب ہوگئی ہے ایک گندے نالے سے بھی بدتر؛ کیا تنظیم اور کونسلرس اس طرف توجہ دیں گے ؟ ؟

بھٹکل تعلقہ کی شرابی ندی اب جو ایک گندے نالے سے بھی بدتر حالت میں آگئی ہے اس کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ ہے۔  کیونکہ اس ندی کے کنارے پرکبھی سمندری راستے سے آنے والے عرب تاجروں کے قافلے اترا کرتے تھے۔لیکن کچرے، پتھر اورمٹی کے ڈھیر کے علاوہ اور ندی میں گندے پانی نکاسی کی وجہ سے آج ...