لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 21st April 2019, 2:11 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 20/اپریل (ایس او نیوز)  اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ایک ایک ووٹ کو بے حد قیمتی سمجھ کر  پولنگ میں حصہ لیں۔  سمجھا جارہا ہے کہ  اقلیتوں کے ساتھ  دیگر پسماندہ ذات کے طبقات  اگر ایک طرف اپنا جھکاو رکھتے ہیں  تو وہ  جس اُمیدوار کے حق میں بھی  آگے بڑھیں  گے، اُس اُمیدوار کو جیت درج کرنے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔

تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ اُترکنڑا لوک سبھا حلقے پر اقلیتی اُمیدوار چار مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں، نامدھاری سماج کے اُمیدوار کو پانچ مرتبہ کامیابی ملی ہے، جبکہ حلقہ میں برہمن ووٹروں کی تعداد کم ہونے کے باوجود آننت کمار ہیگڈے  پانچ مرتبہ جیت درج کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس بار چونکہ کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے مشترکہ اُمیدوار آنند اسنوٹیکر  میدان میں  ہے،  مقابلہ نہایت سخت ہونے کے آثار ہیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ آنند آننت کے لئے نہ صرف  لوہے کے چنے ثابت ہوں گے  بلکہ  آنند ہی آننت کو پچھاڑنے میں کامیاب بھی ہوں گے۔

  آنند اسنوٹیکر  چونکہ مراٹھا طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، سمجھا جارہا ہے کہ اُنہیں اپنے طبقے کے مکمل نہیں تو کم از کم 60 فیصد ووٹ ضرور حاصل ہوسکتے ہیں، کاروار اور انکولہ میں اسنوٹیکر  کی کافی مضبوط پکڑ ہے، اس لئے توقع کی جاسکتی ہے کہ ان تعلقہ جات کے  ووٹروں  کا زیادہ وزن  پھر ایک بار اسنوٹیکر کے پلڑے میں جاسکتا ہے۔ اُدھر ہلیال اور یلاپور میں کانگریس کی پکڑ ہونے کی وجہ سے اُس حلقہ کے زیادہ تر ووٹ بھی  اسنوٹیکر کے حصے میں جانے کے آثار ہیں۔ ایسے میں  جس مضبوطی کے ساتھ  اسنوٹیکر  ہیگڈے پر یکے کے بعد دیگرے  وار کررہے ہیں،  ایسا لگ رہا ہے کہ آنند اننت پر بھاری پڑسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اُترکنڑا پارلیمانی حلقہ میں  اُترکنڑا کے تمام تعلقہ جات سمیت پڑوسی تعلقہ خانہ پور اور کتور بھی آتے ہیں جہاں مراٹھا ووٹروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

پورے پارلیمانی حلقہ کے ووٹروں پر نظر دوڑائیں تو  یہاں جملہ ووٹروں کی تعداد 15,52,544  ہے جس میں  مرد ووٹروں کی تعداد  786,417  اور خواتین ووٹروں کی تعداد  7,66,106 ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق  حلقہ میں نامدھاری ووٹروں کی تعداد  قریب 3 لاکھ ، مراٹھا ووٹروں کی تعداد  قریب تین لاکھ، اقلیتوں  کی تعداد قریب  تین لاکھ، برہمن قریب ڈیڑھ لاکھ،  ہالّکی۔وکلیگاس  قریب ایک  لاکھ،  ماہی گیر قریب ایک  لاکھ،   لنگایت قریب ایک لاکھ،  ایس سی ایس ٹی قریب ڈیڑھ لاکھ، دیگر 50 ہزار ہیں۔

سمجھا جارہا ہے کہ اگر نامدھاری کے پچاس فیصد ووٹوں  کے ساتھ مراٹھا  ، پچھڑی ذات اور ماہی گیروں کے پچاس فیصد ووٹ کسی  ایک اُمیدوار کو ملتے ہیں اور ایسے میں متعلقہ اُمیدوار اقلیتوں کے ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوپاتا  ہے   تو پھر متعلقہ اُمیدوار کی جیت پکی ہے۔یہ دیکھنا اب دلچسپ ہوگا کہ   نامدھاری سماج کے ووٹ  کس اُمیدوار کے پالے میں جاتے ہیں، کیا بی کے ہری پرساد اپنے  نامدھاری سماج  کے لوگوں  کو اپنی  طرف  مائل کرنے میں کامیاب ہوں گے  ؟ سول یہ بھی ہے  کیا اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ملک کی جمہوریت کو بچانے   کے لئے  اپنی پوری قوت پولنگ کے دن جھونکیں گے ؟ 

 یہ دیکھنا بھی اب دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ  حالیہ ایم پی  کی کارکردگی کو لے کر پورے ضلع میں  جو باتیں گردش میں ہیں، کیا زیادہ تر ووٹروں پر اُس کا کچھ اثر ہوگا اور تبدیلی لانے کے مقصد سے ضلع کے ووٹرس پولنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے  یا  ایک بار پھر  دو فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرکے انگریزوں کی تقسیم کرو حکومت کرو کی پالیسی کامیاب ہوگی ؟ 

یاد رہے کہ آج اتوار  انتخابی تشہیر کا آخری دن ہے ، خبر ہے کہ پوری طاقت جھونکنے کے لئے  جے ڈی ایس سپریمو دیوے گوڈا صاحب آج ہوناور ہوتے ہوئے بھٹکل پہنچیں گے، خیال رہے کہ اس سے قبل  ریاست کے وزیراعلیٰ کماراسوامی  کمٹہ اور ضلع کے دوسرے حلقوں میں انتخابی پرچار کرچکے ہیں  اور ووٹروں کو لبھانے کی پوری کوشش ہورہی ہے۔ دیکھئے آگے آگے ہوتا ہے کیا!

ایک نظر اس پر بھی

کاروار میں ’سوچھ رتھ ‘موبائیل سواری کا اجراء: ضلع کو پاکیزہ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے: جئے شری موگیر

اترکنڑا ضلع کو ’پاکیزہ ضلع‘ کی حیثیت سے ترقی دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ضلع کو ریاست کا پہلا گندگی سے پاک ضلع بنانے کے لئے ہم سب کو کام کرنا ہے۔ اترکنڑا ضلع پنچایت کی صدر جئے شری موگیر نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

شرالی میں پنچایت افسران کا دکانوں پر چھاپہ :28.45کلوگرام پلاسٹک ضبط

بھٹکل تعلقہ کے شرالی میں پلاسٹک کے استعمال سے غلاظت بھرے کچرے کا مسئلہ پیدا ہونے کے پیش نظر اور ضلع پنچایت سی ای اؤ کی ہدایات پر پیر کو شرالی گرام پنچایت حدود کے کئی دکانوں پر چھاپہ ماری کرتے ہوئے 28.45 کلوگرام وزنی پلاسٹک کی تھیلیاں ضبط کرنے کا واقعہ پیش آیاہے۔

ملکی معیشت  کے برے اثرات سے ہر شعبہ کنگال؛ بھٹکل میں بھی سونا اور رئیل اسٹیٹ زوال پذیر؛ کیا کہتے ہیں جانکار ؟

ملک میں نوٹ بندی  اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونےکے متعلق ماہرین نے بہت پہلے سے چوکنا کردیا  تھا۔ اب اس کے نتائج بھی  ظاہر ہونے لگے ہیں۔ رواں سال کے دوچار مہینوں سے جو خبریں آرہی ہیں، اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے  ملک میں روزگاروں کا بےروز ...

ملکی معیشت  کے برے اثرات سے ہر شعبہ کنگال؛ بھٹکل میں بھی سونا اور رئیل اسٹیٹ زوال پذیر؛ کیا کہتے ہیں جانکار ؟

ملک میں نوٹ بندی  اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونےکے متعلق ماہرین نے بہت پہلے سے چوکنا کردیا  تھا۔ اب اس کے نتائج بھی  ظاہر ہونے لگے ہیں۔ رواں سال کے دوچار مہینوں سے جو خبریں آرہی ہیں، اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے  ملک میں روزگاروں کا بےروز ...

بارش کے بعد بھٹکل کی قومی شاہراہ : گڑھوں کا دربار، سواریوں کے لئے پریشانی؛ گڑھوں سے بچنے کی کوشش میں حادثات کے خدشات

لوگ فورلین قومی شاہراہ  کی تعمیر کو لے کر  خوشی میں جھوم رہے ہیں لیکن شہر میں شاہراہ کا کام ابھی تک  شروع نہیں ہوا ہے، اُس پرستم یہ ہے کہ سواریوں کو پرانی سڑک پر واقع گڑھوں میں سے گرتے پڑتے گزرنے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ لوگ جب گڈھوں سے بچنے کی کوشش میں اپنی سواریوں کو دوسری طرف ...

ضلع شمالی کینرا میں بڑھ رہی ہے گردے کی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد

ایک عرصے سے ضلع شمالی کینرا میں ایچ آئی وی اور کینسر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ لیکن آج کل گردے کے امراض اور اس سے گردے فیل ہوجانے کے واقعات میں بڑی تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے۔اس مرض کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت گردوں کی ناکامی کی وجہ ...

کیا ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے ایسے ہی غداروں کی ضرورت تو نہیں ؟ آز: مدثراحمد (ایڈیٹر، روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ)

جب سے ملک میں بی جے پی اقتدار پر آئی ہے  ہر طرح کی آزادی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔بولنے کاحق،لکھنے کاحق،تنقید کرنے کا حق یہ سب اب ملک مخالف سرگرمیوں میں شمار ہونے لگے ہیں اور جو لوگ ان حقوق کا استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں ملک میں غدار کہا جارہا ہے۔ملک کے موجودہ ...

بھٹکل اور اطراف میں برسات کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے مچھروں کا عذاب؛ کیا ذمہ داران مچھروں پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں گے ؟

اگست کے مہینے سے مسلسل برس رہی موسلادھار بارش نے جہاں ایک طرف عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں پر جگہ جگہ پائے جانے والے گڈھوں، تالابوں اور نالوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں بھی ہوا ہے۔ اور مچھروں کے کاٹے سے پھیلنے والی بیماریوں نے لوگوں کے لئے عذاب ...

بھٹکل میں کبھی عرب تاجروں کی بندرگاہ رہی شرابی ندی کی حالت اب ہوگئی ہے ایک گندے نالے سے بھی بدتر؛ کیا تنظیم اور کونسلرس اس طرف توجہ دیں گے ؟ ؟

بھٹکل تعلقہ کی شرابی ندی اب جو ایک گندے نالے سے بھی بدتر حالت میں آگئی ہے اس کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ ہے۔  کیونکہ اس ندی کے کنارے پرکبھی سمندری راستے سے آنے والے عرب تاجروں کے قافلے اترا کرتے تھے۔لیکن کچرے، پتھر اورمٹی کے ڈھیر کے علاوہ اور ندی میں گندے پانی نکاسی کی وجہ سے آج ...