لوک سبھا انتخابات کے نتائج؛ ملک میں پھر ایک بار مودی سرکار؛ کانگریس اور اسکی حلیف جماعتوں کو شرمناک شکست کا سامنا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd May 2019, 10:48 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بھٹکل 23/مئی (ایس او نیوز)  لوک سبھا انتخابات کی 542 سیٹوں کے لئے  ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور اب تک سامنےآئے رجحانات میں بی جے پی اور اس کی حلیف این  ڈی اے  کو زبردست جیت حاصل ہورہی ہے اس کے ساتھ ہی  پھر ایک بار مودی سرکار کا  اقتدار میں آنا طئے ہے۔ کانگریس اور اس کی حلیف جماعتیں اس قدر پیچھے ہیں کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں بھی اس بار نہایت کمزور مظاہرہ پیش کیا ہے۔

دوپہر دو بجے تک سبھی 542 سیٹوں کے  رجحانات سامنے آچکے  ہیں جس میں بی جے پی واحد پارٹی کو  292 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے، بی جے پی اور ان کی حلیف پارٹیوں کی بات کریں تو  این ڈی اے 350 سیٹوں پر آگے چل رہی تھی جبکہ  کانگریس  اس الیکشن میں شرمناک شکست کے قریب تھی اور صرف 51 سیٹوں پر سمیٹتی نظر آرہی تھی۔ کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں یو پی اے کی بات کریں تو  انہیں صرف 84 سیٹوں پر سبقت حاصل تھی۔

کرناٹک کی 28 سیٹوں پر  نظر دوڑائیں تو  بی جے پی 24 میں آگے چل رہی تھی ، کانگریس کو دو  اور جے ڈی ایس   اور آزاد ایک ایک میں آگے چل رہے تھے۔

اُترکنڑا میں بی جے پی کے آننت کمار ہیگڈے نے تین لاکھ سے زائد ووٹوں سے چھٹی کامیابی درج کرلی ہے، البتہ الیکشن کمشنر کی طرف سے باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے، اسی طرح پڑوسی ضلع   اُڈپی اور دکشن کنڑا میں بھی  بالترتیب  بی جے پی کی شوبھا کرندلاجے اور  نلین کمار کٹیل بھی انتخاب جیت چکے ہیں، صرف اعلان کیا جانا باقی ہے۔

سمجھا جارہا تھا  کہ اُترپردیش میں  سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی   کا مہا گٹھ بندھن بننے کے بعد   یہاں بی جے پی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا، مگر  حیرت انگیز طور پر یہاں  بی جے پی اور اس کی حلیف  این ڈی اے نے یہاں بھی بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ، میڈیا رپورٹوں کے مطابق  بی جے  پی اور اس کی حلیف پارٹیاں یہاں  59 سیٹوں پر آگے چل رہی ہیں اور اکثر سیٹوں پر جیت درج بھی کرچکے ہیں، جبکہ مہا گٹھن بندھن   صرف  20 پر اور کانگریس  ایک سیٹ   پر آگے چل رہی ہیں۔

بہار میں بھی این ڈی اے 38 اور یو پی اے صرف 2 سیٹوں پر آگے چل رہی تھی، تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں کے بیگوسرائے میں  کنہیا کمار بھی  ہار رہے تھے  جبکہ ان کے مقابلے میں بی جے پی کے گری راج سنگھ ایک لاکھ ووٹوں کے فرق سے آگے چل رہے تھے۔

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس  نے بھلے ہی 25 سیٹوں پر آگے چل رہی تھی   مگر  یہاں بھی بی جےپی کافی سیٹیں اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں اور 16 سیٹوں پر قابض ہونے کے آثار نظر آرہے  ہیں۔ بنگال میں  کانگریس کو  صرف  ایک سیٹ پر کامیابی مل سکتی ہے۔

بی جے پی نے  سات ریاستوں میں کلین سویپ  حاصل کرتے ہوئے سبھی سیٹوں پرقابض ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ جن میں  دہلی، گجرات، اتراکھنڈ ، چنڈی گڑھ، ارونا چل پردیش اور  راجستھان شامل ہیں جہاں  کسی بھی دوسری پارٹی کو کھاتہ کھولنے کا بھی موقع نہیں ملا ہے۔

اسی طرح بی جےپی  تمل ناڈو، کیرالہ اور اندھراپردیش میں اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی ہے اور بری طرح شکست سے دوچار ہوگئی ہے۔

ادھر کانگریس رہنما سونیا گاندھی  ایک طرف رائے بریلی میں اپنی ہی سیٹ بچانے میں ناکام ہورہی ہیں  تو امیٹھی میں راہول گاندھی بھی اپنا انتخاب ہاررہے ہیں، البتہ کیرالہ کے وائناڈ میں راہول گاندھی کے جیتنے کی  توقع ہے۔  کلبرگی میں کانگریس کے اہم قائد ملیکارجن کھرگے اور بیدر میں کانگریس کے ایشور کھنڈرے انتخابات ہار چکے ہیں، اسی طرح  ہاویری میں بی جے پی کے شیو کمار اُداسی،  میسور میں  پرتاپ سنہا ، سدانند گوڈا ، بی این بچّے گوڈا جیت درج کرچکے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی وارانسی میں شاندار جیت درج کررہے ہیں تو وہیں گجرات کے   گاندھی نگر میں  امت شاہ چار لاکھ ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔

منڈیا میں آزاد اُمیدوار سوما لتا امبریش اور جےڈی ایس اُمیدوار نکھل  کماراسوامی کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھی جارہی تھی، اور نکھل آگے چل رہے تھے  مگردوپہر ہونے تک پھانسہ پلٹ گیا ہے اور سوما لتا امبریش ایک لاکھ ووٹوں کے فرق سے آگے نکل گئی ہیں۔

ٹمکور میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا 20 ہزار ووٹوں سے پیچھے چل رہے تھے اور بی جے پی کے بی ایس بسوراج کے جیتنے کے آثار تھے۔بنگلور  سینٹرل میں کانگریس کے رضوان ارشد اور بی جے پی کے پی سی موہن کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھی جارہی تھی اور رضوان ارشد 25 ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے تھے، مگر تازہ خبر یہ ہے کہ  اب بی جے پی کے مقابلے میں رضوان ارشد آٹھ ہزار ووٹوں سے  پیچھے چل رہے ہیں۔

تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں ضمانت پر رہا ہونے والی  سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی بھوپال میں  جیت کے قریب تھی اور وہ مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ دگ وجئے سنگھ سے ہزاروں ووٹوں سے آگے چل رہی تھی، اس موقع پر سادھوی نے اپنی جیت کو  دھرم کی جیت قرار دیا ہے۔

لکھنو میں بی جے پی کے راجناتھ سنگھ نے شاندار جیت درج کرلی ہے، اسی طرح گرداسپور سے  بی جے پی اُمیدوار  سنی دیول  اور مشرقی دہلی سے  مشہور کرکٹر گوتم گھمبیربھی جیت درج کررہے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ  بی جے پی نے اس بار 55 خواتین کو میدان میں اُتارا تھا جس میں 34 خواتین جیت درج کر  رہی ہیں۔

دوپہر تک آنےوالے رجحانات سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ پھر ایک بار ملک میں مودی سرکار اقتدار سنبھالے گی ۔

ایک نظر اس پر بھی

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی مدد کے لئے اے پی سی آر کی خدمات دستیاب

آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرکے دھوکہ کھانے والے متاثرین کی قانونی رہنمائی اور اُن کی  مدد کے لئے  اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس  (اے پی سی آر)  کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔جن  لوگوں نے  اپنی چھوٹی چھوٹی سرمایہ  کاری  اس کمپنی میں کی تھی اور اب وہ کنگال ہوچکے ہیں، اے پی ...

جندال اسٹیل کمپنی معاملہ سے متعلق حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی، کے پی سی سی سے استعفیٰ دینے کی خبرو ں میں کوئی سچائی نہیں: دنیش گنڈو راؤ

پردیش کانگریس کمیٹی(کے پی سی سی) صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ جندال کمپنی کے لئے زمین فروخت کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت نے سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔

آئی ایم اے معاملہ میں نرم رویہ اختیار کرنے کاسوال پیدا نہیں ہوتا: ضمیر احمد خان

آئی مانیٹری اڈوائزری (آئی ایم اے) نامی پونزی کمپنی کے دھوکہ دہی معاملہ میں نرم رویہ اختیار کئے جانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔اس پس منظر میں بی جے پی کی جانب سے عائد کئے جارہے الزامات بکواس ہیں۔

آئی ایم اے گھپلہ کی جانچ سی بی آئی کے ذریعہ کروانے عبدالعظیم کا مطالبہ؛ متاثرین کا ہرممکن تعاون کرنے ایڈی یورپااور شوبھا کا تیقن

آئی ایم اے کے متاثرین کو انصاف اور ان کا حق دلانے کے سلسلہ میں آج شہر کے آنند راؤ سرکل پر واقع گاندھی مجسمہ کے روبرو بی جے پی مائنارٹی مورچہ کے ریاستی صدر عبدالعظیم کی صدارت میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا تھا،

تریپورہ: بی جےپی-آئی پی ایف ٹی اتحاد خطرے میں

تریپورہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اپنے کارکنوں پر مبینہ حملے کے سلسلے میں اتحادی حکومت کی معاون انڈین پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) سے رشتہ توڑنے کے بعد دباؤ کے درمیان آئی پی ایف ٹی لیڈروں نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ موجودہ صورت حال میں اتحادی حکومت میں شامل نہیں رہ ...

بہار میں شدت کی گرمی، 183 افراد ہلاک،22 جون تک سرکاری اسکول بند،گیا میں دفعہ 144 نافذ

بہار میں زبردست گرمی اور لُو کے تھپیڑوں سے لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے۔ حالات اتنے بدتر ہیں، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پچھلے 3 دن کے دوران تقریباً 183 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

پرگیہ ٹھاکر کو لوک سبھا میں پہلے ہی دِن اپوزیشن کی مخالفت کا کرنا پڑا سامنا

عام انتخابات کے دوران ناتھو رام گوڈسے کے متعلق دئے گئے بیان کی وجہ سے تنازعہ کا شکار بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو آج لوک سبھا میں پہلے ہی دن اس وقت اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے حلف لیتے وقت اپنے نام کے ساتھ چنمیانند اودھیشانند گری بھی ...