لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد اب کرناٹک اور مدھیہ پردیش حکومتوں پر لٹکی تلوار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 25th May 2019, 10:44 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 25 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کے نتائج آ گئے ہیں اور بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ملک میں ایک بار پھر وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت بننے جا رہی ہے۔30 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی حلف لیں گے۔ادھر بی جے پی نئی حکومت بنانے کی تیاری میں مصروف ہے تو ادھر مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی مخلوط حکومتوں پر تلواریں لٹکنے لگی ہے۔مدھیہ پردیش اور کرناٹک کی سیاست میں اتھل پتھل کا دور شروع ہو گیا ہے۔خبروں کی مانیں تو بی جے پی کانگریس اور اس کے اتحاد کی حکومت کو گرانے کے فراق میں ہے۔ایسے میں آئیے دیکھتے ہیں دونوں ریاستوں کے مساوات کیا ہے اور کس ریاضی کو سادھ کر بی جے پی ریاست میں بغاوت کر سکتی ہے۔کرناٹک میں فی الحال جنتا دل سیکولر اور کانگریس کی حکومت ہے۔ریاست میں سیاسی مساوات تبدیل ہو رہا ہے۔کانگریس لیڈر روشن بیگ نے بغاوتی تیور دکھانے شروع کر دئے ہیں۔انہوں نے کرناٹک کانگریس کے انچارج کے سی وینو گوپال کو بھینسا کہہ ڈالا۔کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے تو راہل گاندھی پر ترس آتا ہے۔ایگزٹ پول کے نتائج پر کہا کہ یہ وینو گوپال اور سددارمیا کے تکبر کا فلاپ شو ہے۔بیگ نے سابق وزیر اعلی سدارمیاپر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود نہیں چاہتے ہیں کہ حکومت زیادہ دن چلے۔225 اسمبلی والے کرناٹک میں بی جے پی کے پاس 104 سیٹ ہیں، جبکہ جے ڈی ایس کے پاس 37 اور کانگریس کے پاس 78 نشستیں ہیں۔ایک بی ایس پی کا رکن اسمبلی بھی کانگریس جے ڈی ایس کے حکومت کے ساتھ ہے۔اکثریت کے لئے 112 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ابھی کانگریس، جے ڈی ایس اور بی ایس پی اتحاد میں ہے اور اس کے پاس 116 سیٹیں ہیں لیکن پارٹی کے لئے کچھ لیڈروں کے بغاوتی تیور نے فکر کھڑی کر دی ہے،اگر بی جے پی ان ممبران اسمبلی میں سے 8 کو اپنے پالے میں کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ریاست میں کانگریس کی حکومت گر جائے گی۔انہیں باتوں سے پریشان ریاست کے وزیر اعلی ایچ ڈی کماراسوامی نے آج رکن اسمبلی جماعتوں کی میٹنگ بلائی ہے۔مانا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں وہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ کوئی ناراض ہو کر پارٹی چھوڑنے کا دل تو نہیں بنا لیاہے۔جو خطرہ کرناٹک حکومت کے اوپر ہے وہی خطرہ مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت کے اوپر بھی ہے۔دراصل جیسے ہی ایگزٹ پول کے نتائج آئے تبھی بی جے پی کی جانب سے گورنر کو خط لکھ کر کہا گیا کہ کمل ناتھ سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے۔اس کے بعد سے ہی حکومت خطرے میں آ گئی۔مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت آزاد اور ایس پی-بی ایس پی کے اراکین اسمبلی کی حمایت سے چل رہی ہے۔اسمبلی انتخابات میں کانگریس پانچ سیٹوں سے اکثریت سے دور رہ گئی تھی۔ریاست میں 231 اسمبلی کی سیٹیں ہیں، اکثریت کے لئے 116 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہوتی ہے۔کانگریس کے پاس 113 ممبران اسمبلی ہی ہیں، جبکہ چار آزاد امیدوار، دو بی ایس پی اور ایک ایس پی کے رکن اسمبلی نے کانگریس کی حکومت کو حمایت دی ہے۔ریاست میں بی جے پی کے پاس 109 سیٹیں ہیں یعنی بی جے پی اگر یہاں 7 ممبران اسمبلی کو خریدنے یا کسی بھی طرح اپنے پالے میں کر لیتی ہے تو وہ ریاست میں حکومت بنا لے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

ماروتی سوزوکی نے نرملا سیتا رمن کو غلط قرار دیا، کہا کہ ”پہلے تحقیق کریں پھر بیان دیں“

آٹو موبائل سیکٹر میں مندی کیلئے وزیر مالیات نرملا سیتارمن کی جانب سے اولا اوبیر کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر ہر طرف تنقید ہورہی ہے۔ اب ملک کی سب سے بڑی کارمینو فیکچرنگ کمپنی ماروتی سوزوکی نے بھی اس بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔

بابری مسجد معاملہ: سپریم کورٹ کا فیصلہ عقیدے کی بنیاد پر ہو گا: سبرامنیم سوامی

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیدڑ و راجیہ رکن سبرامنیم سوامی نے دعوی کیا ہے کہ اجودھیا قضیہ کا فیصلہ عقیدے کی بنیاد پر آئے گا اور متنازعہ زمین پر جلد ہی رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوجائے گا۔

اعظم خان کی حمایت میں جیل جانا بھی منظور: اکھلیش یادو

سماج وادی پارٹی رکن پارلیمان محمد اعظم خان کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے 81 سے زیادہ مقدمے درج کئے جانے کے بعد رکن پارلیمان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی صدر اکھلیش یادو نے سنیچر کو کہا کہ پارٹی کے سینئر لیڈر کی حمایت میں وہ پارٹی لیڈروں و کارکنوں ...

ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کےامت شاہ کے بیان پر اپوزیشن کا سخت ردعمل

  بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ کے یوم ہندی کے موقع پر ہندی کو پورے ملک کی زبان بنانے کے بیان پر حزب اختلاف نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کو متاثر کرنے والا بیان قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔