بھٹکل: کوروناوائرس کی روک تھام اور لاک ڈاون میں مزید سختی برتنے اب اُڑائے جائیں گے ڈرون کیمرے؛ گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرنے والے ہوشیار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 30th March 2020, 9:38 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 30/مارچ  (ایس او نیوز) صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھٹکل کو لے کر تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ  اتنے چھوٹے سے علاقہ میں  کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد  بڑھتی جارہی ہے۔چونکہ یہاں کے اکثر لوگ بیرون ممالک میں رہتے ہیں، اس لئے یہ وائرس دوسرے ملکوں سے یہاں آرہی ہے۔  ہمیں دہلی سے فون بھی موصول ہورہا ہے کہ بھٹکل میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں، ویسے تو بھٹکل سمیت پورے ضلع میں لاک ڈاون پر پورا عمل ہورہا ہے اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں لیکن بعض جگہوں سے ہمیں خبریں مل رہی ہیں کہ گلی کوچوں اور اندرونی علاقوں میں  لوگ آوارہ گردی کرتے ہیں اور فاصلے رکھے بغیر جمع ہورہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ عوام خود اپنی حفاظت کریں  اور اپنے گھروالوں کی حفاظت پر پورا زور  دیں جس کے لئے ضروری ہے کہ لوگ  اپنے  اپنے گھروں میں ہی رہیں،  آپ دوسروں سے میل جول رکھیں گے تو وائرس ایک سے دوسرے میں  پھیلے گا،اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا ہے  مگر  اب ہم ضلع اُترکنڑا میں  مزید سختی برتتے ہوئے  لاک ڈاون پرعمل کروانے  ڈرون کیمروں کو اُڑانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ شہر پر مکمل نگرانی رکھی جاسکے۔ اس بات کی اطلاع اُترکنڑا کے ایس پی شیو پرکاش دیوراج نے دی۔

کاروار سے بھٹکل پہنچ کر بھٹکل میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد  اور محکمہ پولس کو ضروری ہدایات دینے  کے بعد وہ اخبار نویسوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے بھٹکل میں  بے جا لاٹھی چارج کئے جانے کے تعلق کو سرے سے خارج کردیا اور کہا کہ ہم نے کہیں پر بھی لاٹھی چارج  نہیں کی ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست کے دیگر اضلاع  میں لاٹھی چارج  ہوئی ہوگی، مگر  بھٹکل یا اُترکنڑا میں کہیں پر بھی لاٹھی چارج  کے واقعات نہیں ہوئے ہیں۔ ساحل آن لائن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بھٹکل کے ڈی وائی ایس پی سے بھی پوچھا کہ آخر بھٹکل میں کہاں لاٹھی چارج کی گئی تھی۔ ایس پی نے واضح کیا   کہ بھٹکل میں  کرفیو یا ایمرجنسی فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے  نافذ نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں پر پولس زبردستی کرے،  بلکہ یہاں ہیلتھ ایمرجنسی اس لئے  نافذ کی گئی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ہم کورونا  وباء سے محفوظ رکھ سکیں۔ ہم لوگ آپ کی صحت  کی بہتری کے لئے یہاں اپنی خدمات انجام دے  رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی میں یہ وائرس پایا جاتا ہے تو اس میں  اُس شخص کی کوئی غلطی نہیں ہوتی،  یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص کو  پھیلتا چلا جاتا ہے، لہٰذا عوام کو چاہئے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھیں اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے انتظامیہ اور میڈیکل ٹیموں کےساتھ تعاون کریں۔

ایس پی شیو پرکاش نے عوام الناس سے درخواست کی کہ برائے کرم  اپنے اپنے گھروں میں ہی بند رہیں، گھر میں بھی ایک دوسرے سے فاصلہ بنائے رکھیں اور کورونا کا خاتمہ کرنے ہرممکن تدابیر اختیار کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ  امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر ضلع بھر میں 46 معاملات درج کئے گئے ہیں، اب ہم ہیلتھ ایمرجنسی کی خلاف ورزی کرنے پر سیدھے سیدھے کیس فائل کررہے ہیں،لوگ اگر غیر ضروری طو پر اپنی سواریوں پر گھومتے ہیں تو  سواریوں کو ہی ضبط کررہے ہیں اور بعض معاملات  میں غیر ضروری  اِدھر سے اُدھر جانے والوں پر  بھاری جرمانہ بھی   عائد کررہے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر ضروری طور پر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اب انتظامیہ کی طرف سے ضروری اشیاء کو گھر گھر پہنچانے کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں، بعض جو چھوٹے موٹے مسائل ہیں اور شکایتیں ہیں ہم اُن پر بھی قابو پانے کے لئےہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ مگر عوام کو گھروں میں رہنے ہرممکن سہولت فراہم کررہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایس پی نے بتایا کہ سوشیل میڈیا پر جو لوگ کورونا کو لے کر غلط اور  بے بنیاد خبریں پوسٹ کررہے ہیں، ہم اُن پر معاملات درج کررہے ہیں، سرسی اور ڈانڈیلی میں ایک ایک کیس درج ہوچکا ہے، ہمیں بھٹکل سے بھی شکایت موصول ہوئی ہے کہ یہاں کورونا جہاد کے نام پر سوشیل میڈیا پر بے بنیاد  خبریں پوسٹ ہوئی ہیں، ہم یقیناً اس طرح کی سماج کو بانٹنے والی باتیں لکھنے والوں کے خلاف سخت  کاروائی کریں گے۔

ایس پی نے بتایا کہ بھٹکل کے زیادہ تر عوام بیرون ممالک میں مقیم ہیں، وہیں سے کورونا وائرس شہر میں آرہا ہے، ایسے میں اس وائرس پر قابو پانا بے حد ضروری ہے۔ اس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ہم بیرون ممالک سے آئے ہوئے اُن تمام حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ پہلے تو آپ اپنے آپ کو الگ تھلک کرکے گھر پر ہی بند رہیں اور اگر آپ میں کورونا کے کوئی بھی اثرات ظاہر ہوتے ہیں یا کسی بھی طرح کا شک  ہے تو پہلی فرصت میں سرکاری اسپتال پہنچ کر اپنی جانچ کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ بھٹکل کے اکثر عوام  نہایت خوشحال ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے  جن لوگوں کی رپورٹس کورونا پوزیٹیو آئی ہے اُن کو کاروار کے نیوی (فوجی) اسپتال میں داخل کیا گیا ہے تاکہ اُنہیں بہترین ٹریٹمنٹ مل سکے۔ اسی طرح یہاں کے لوگوں کے رہن سہن کو دیکھتے ہوئے بیرون ممالک سے آئے ہوئے مسافروں کو انجمن انجینرنگ کالج کے ہوسٹل میں ہی کورنٹائن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہم اپنی طرف سے یہاں کے لوگوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمارا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم اس  وباء پر قابو پاسکیں  ،  مگر ہمارے لئے  عوام الناس کا تعاون بھی ضروری ہے۔

ایس  پی نے بتایا کہ آج سرسی سے ڈرون کیمرا  کے استعمال کا اغازہو چکا  ہے،  مگر پورے ضلع میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے معاملات  بھٹکل سے سامنے آئے ہیں ، اس لیے ہم بھٹکل کی مکمل نگرانی کررہے ہیں۔ اس تعلق سےبعض میڈیا والوں نے ایس پی کو بتایا کہ بھٹکل کے پرانے محلوں میں  لوگ بڑی  تعداد میں  باہر ہی جمع رہتے ہیں جیسے ہی پولس آنے کی خبر ملتی ہے، لوگ وہاں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ اس اطلاع پر ایس پی نے بتایا کہ ہم جب ڈرون کیمروں کا استعمال کریں گے تو وہ ان کیمروں سے چھپ نہیں سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ کیمروں کی مدد سے ہم اُن سبھی لوگوں پر کیس درج کریں گے جو امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھروں سے باہرنظر آتے ہیں۔

بھٹکل ڈی وائی ایس پی گوتم، پی ایس آئی کوڈگُنٹی و دیگر پولس آفسران اس موقع پر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بیرون ریاست سے بھٹکل آنے والوں کو سرکاری طور پر مقرر کردہ مراکز میں کیا جائے گا کوارنٹین۔ اسسٹنٹ کمشنر بھرت کا بیان

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر بھرت ایس نے بتایاہے کہ جو بھی افراد بیرون ریاست سے بھٹکل آئیں گے انہیں نئے پروٹو کول کے مطابق سرکار کی طر ف سے مقرر کردہ مراکز میں ہی کوارنٹین کیا جائے گا۔

کرناٹک میں کورونا کے اب تک کے سب سے زیادہ معاملات؛ ایک ہی دن سامنے آئے 515 معاملات؛ صرف اُڈپی میں ہی 204 کورونا پوزیٹو

ملک بھر میں لاک ڈاون میں  ڈھیل دی جارہی ہے اور پورے ملک میں لاک ڈاون کے بعد اب  اگلے چند دنوں میں  حالات نارمل ہونے کے امکانات  نظر آرہے ہیں مگر دن گذرنے کے ساتھ ہی کرناٹک میں کورونا کے معاملات میں کمی آنے کے بجائے  اُس میں مزید اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے۔

بھٹکل میں ایک خاتون کی رپورٹ آئی کورونا پوزیٹو؛ یلاپور کے چھ اور کاروار سے ایک کی رپورٹ بھی کورونا پوزیٹو

کافی دنوں کے وقفے کے بعد آج بھٹکل میں ایک اور کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے، جبکہ ضلع اُترکنڑا کے یلاپور سے چھ اور کاروار سے ایک کورونا کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ بھٹکل سے کورونا کا آخری معاملہ 17 مئی کو سامنے  آیا تھا اور وہ شخص  یکم جون کو  ڈسچارج ہوگیا ...

کیرالہ سے داخل ہوتے ہوئے ساحلی کرناٹکا میں مانسون نے دی دستک۔ کرناٹکا میں پوری طرح مانسون شروع ہونے میں ہوسکتی ہے تاخیر

حسب معمول جون کے آغاز میں ہی مانسون نے کیرالہ میں داخلہ لیااور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے دودن پہلے ساحلی کرناٹکا میں دستک دی۔ جس کے ساتھ ہی مینگلور، اُڈپی، بھٹکل، کمٹہ اور کاروار وغیرہ علاقوں میں  موسلادھار بارش، طوفانی ہواؤں اور بادلوں کی گھن گھرج کے ساتھ مانسون نے اپنی آمد کا ...

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...

کرناٹک میں کورونا کے اب تک کے سب سے زیادہ معاملات؛ ایک ہی دن سامنے آئے 515 معاملات؛ صرف اُڈپی میں ہی 204 کورونا پوزیٹو

ملک بھر میں لاک ڈاون میں  ڈھیل دی جارہی ہے اور پورے ملک میں لاک ڈاون کے بعد اب  اگلے چند دنوں میں  حالات نارمل ہونے کے امکانات  نظر آرہے ہیں مگر دن گذرنے کے ساتھ ہی کرناٹک میں کورونا کے معاملات میں کمی آنے کے بجائے  اُس میں مزید اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے۔

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔

یڈیورپا کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس؛ بعض سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ماہ بیلگاوی کے سورونا ودھان سودھا منتقل کرنے وزیر اعلیٰ کی ہدایت

وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے حکام کو اندرون ماہ ریاست کے بعض سرکاری دفاتر کی نشاندہی اور ان کی بیلگاوی کے سورونا و دھان سودھا منتقلی کی ہدایت دی جس کا مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔

اُڈپی میں کورونا وائرس کے معاملات کو لے کر ریاستی وزیر اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق؛ کہیں رپورٹ کو چھپایا تو نہیں جارہا ہے ؟

اُڈپی ضلع میں کورونا وائرس کے معاملات کی تعداد کو لے کر ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری اطلاع میں فرق کی وجہ سے اُڈپی ضلع کے عوام تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔