لیہہ کے وفد نے لداخ کونسل انتخابات کا بائیکاٹ واپس لیا

Source: S.O. News Service | Published on 28th September 2020, 2:35 PM | ملکی خبریں |

لیہہ،28؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) لیہہ سے آئے ایک سیاسی وفد نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد مقامی لیہہ لداخ آٹونومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کا بائیکاٹ واپس لئے جانے کا اتوار کو اعلان کیا۔

مرکزی وزیر مملکت (یوتھ اور کھیل امور) کرین رجیجو نے یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت آئین کی چھٹی شیڈولڈ کے تحت لداخ کے لوگوں کے تحفظ پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد کو یقین دلایا گیا تھا کہ زبان، آبادی، ذات، زمین اور ملازمت سے متعلق تمام امور پر مثبت طریقہ سے توجہ دیا جائے گا۔

پپلز موومنٹ فور کانسٹی ٹیوشنل سیف گارڈ فار سکستھ شیڈولڈ کے تحت لیہہ اور کارگل اضلاع کے نمائندوں کے وفد اور مرکزی وززارت داخلہ کے درمیان لداخ کونسل کے انتخابات کے اختتام کے پندرہ دن بعد بات چیت شروع ہوگی۔ اس سلسلہ میں کوئی بھی فیصلہ لیہہ اور کارگل کے نمائندوں کے ساتھ صلاح و مشورہ سے کیا جائے گا۔

اس موقع پر سابق رکن پارلیمان تھکسے رمپوچے نے کہاکہ وزیر داخلہ کے ساتھ ہماری میٹنگ بہت اچھی رہی۔ انہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ ہمیں چھٹی شیڈلڈ سے زیادہ ہی دیں گے اور وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی پیر کو لداخ جائیں گے اور لیہ میں تمام سیاسی گروپوں سے بات چیت کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر رمپوچے نے کہاکہ اگر مرکز لداخ کے لوگوں کی امیدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ اپنی مانگوں پر دباو بنانے کے لئے جمہوری طریقہ سے اپنا احتجاج درج کرائیں گے۔

اس سے پہلے 23ستمبر کو لداخ میں بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس سال 16اکتوبر کو ہونے والے مقامی بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس نے نتیش کمار اور سشیل مودی کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا

کانگریس نے آج گورنر پھاگو چوہان سے ملاقات کر کے مونگیر تشدد معاملے میں وزیراعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی کو سیدھے طورپر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں عہدہ سے برخاست کرنے اور پولیس فائرنگ میں مارے گئے نوجوان کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ ...

سعودی کرنسی نوٹ میں کشمیر، لداخ کو علاحدہ ملک دکھانے پر ہندوستان کا اعتراض

ہندوستان نے سعودی عرب کے نئے کرنسی نوٹ پر کشمیر اور لداخ کو عالمی نقشے میں علیحدہ ملک دکھانے پر سخت اعتراض درج کیا ہے اور سعودی حکومت سے اپیل کی ہے کہ یہ علاقے ہندوستان کا اٹوٹ حصے ہیں اور نقشہ میں غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے فوری کارروائی ہونی چاہئے۔