ترکی دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھے: ہندوستان

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2020, 8:39 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

اقوام متحدہ،23؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدررجب طیب اردگان کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ  ٹی ایس ترومورتی نے سخت  احتجاج  کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک  کی خودمختاریکااحترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ترومورتی نے ٹوئٹ کیا’’ہم نے مرکز کے زیر کنٹرول ریاست جموں اور کشمیر کے حوالہ سے ترکی کے صدر کے بیان کو پڑھا ہے اوران کا  ہندوستان کے اندرونی معاملات میں ان کی مداخلت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے،اور اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے‘‘۔

خیال رہے ترک صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کشمیر پر ایک بار پھر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہےاور جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد  مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی حکومت سے ناراض محبوبہ مفتی نے کہا "ہم خاموش بیٹھنے والے نہیں، طاقت ہے تو چین کو نکالو"

 پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں پر طاقت آمائی کرتی ہے جبکہ چین کا نام لینے سے بھی تھرتھراتی ہے جس نے لداخ میں ہماری زمین ہڑپ لی ہے

مونگیر تشدد: بی جے پی-جے ڈی یو حکومت سے کانگریس نالاں، پی ایم مودی سے مانگا جواب

بہار میں اسمبلی انتخاب کے درمیان مونگیر شہر میں دو دن پہلے پولس فائرنگ میں ایک نوجوان کی موت کے بعد آج ایک بار پھر شہر میں ہنگامہ ہونے پر کانگریس نے نتیش حکومت کے ساتھ ساتھ پی ایم مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آن لائن جوے، گیمنگ، سٹہ کی ویب سائٹوں اور ایپس پر روک لگائی جائے: جگن موہن ریڈی

اے پی کے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے مرکزی وزیر الکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروس خدمات فراہم کرنے والوں کو ہدایت دیں کہ وہ تمام آن لائن جوے، گیمنگ، سٹہ کی ویب سائٹس اور ایپس کو ریاست میں بلاک کر دیں۔

توہین رسالت معاملہ میں عرب دنیا متحد؛ مصنوعات بائیکاٹ مہم سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا فرانس 

آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ کارٹون بنانے پر مصر رہنے والا فرانس پہلی بار عرب دنیا کی جانب سے چلائی گئی ’’فرانس کے مصنوعات کی بائیکاٹ مہم‘‘ کے سامنے گھٹنا ٹیک کر گڑ گڑاتے ہوئے نظر آرہا ہے۔