مرد حق، بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 5th December 2021, 10:17 PM | اسپیشل رپورٹس |

وہ سچ بولتا تھا اور سچ کے لئے کبھی کسی کے آگے جھکا نہیں۔ تبھی تو وہ بے باک صحافی تھا۔ اس مرد حق کا نام ونود دوا تھا۔ جی ہاں، وہی ونود دوا جو ہر روز رات میں ٹیلی ویژن پر ملک میں ہونے والے دن بھر کے واقعات کا کچا چھٹا سچ سچ آپ کے سامنے کھول دیتا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ اقتدار والوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ اکثر اس نے اپنی حق گوئی کا خمیازہ بھی بھگتا ہے۔ اس پر آئے دن مقدمات بھی دائر ہوئے۔ ابھی کوئی سال بھر قبل ہماچل پردیش کی بی جے پی حکومت نے ان کو ملک کا غدار ٹھہرایا اور ان پر مقدمہ دائر کیا۔ ابھی چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے انہیں اس معاملے میں باعزت بری کر دیا۔

اس بے باک اور ایماندار شخص کو فرقہ پرستی سے سخت نفرت تھی۔ اسی لئے وہ فرقہ پرست طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ وہ گجرات کے فسادات ہوں یا کسی کی موب لنچنگ، ونود دوا تڑپ اٹھتا تھا اور رات نو بجے اپنے پروگرام میں سب کچھ کہہ دیتا تھا جو دوسرے صحافی کہنے سے گریز کرتے تھے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ کیونکہ ان کے والد بٹوارے کے وقت سرحد کے اس پار پنجاب سے گھر بار لٹوا کر دہلی آئے تھے۔ دہلی کے پنجابی عموماً فرقہ پرستی کا شکار ہونے کے باوجود فرقہ پرست ہو گئے ہیں لیکن ونود دوا کی زندگی میں کہیں بھی بٹوارے کی تلخی کا سایہ تک نہیں تھا۔ اور یہ بات ان کے ٹی وی شوز میں بالکل عیاں تھی۔

ونود اردو ادب و شاعری کا دلدادہ تھا۔ شاید ہی اس کا کوئی ٹی وی شو ہوگا جس میں وہ کم از کم اپنی بات ایک اردو کے معیاری شعر کے ذریعہ اپنے ناظرین کو ناسمجھاتا ہو۔ میں نے یونہی ایک بار پوچھا ونود صاحب یہ اردو کہاں سیکھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ارے بھائی میں چاندنی چوک میں پلا بڑھا اور پرانی دہلی میرا گہوارا رہا ہے۔ سن 1950 کی دہائی میں غربت کے درمیان پرانی دہلی میں انہوں نے نہ صرف اسکولی تعلیم حاصل کی، بلکہ چاندنی چوک، جامع مسجد اور اردو بازار جیسے علاقوں کی اردو زبان ان میں رچ بس گئی اور اردو اس کے پروگرام کا اٹوٹ حصہ بن گئی۔

صرف یہی نہیں کہ وہ پرانی دہلی کی زبان اور وہاں کی گنگا-جمنی تہذیب میں رچا بسا تھا، بلکہ ونود تو شاہجہاں آباد کے مغلائی کھانوں میں بھی ڈوبا ہوا تھا۔ پرانی دہلی میں نہاری کہاں سب سے اچھی ملتی ہے، بریانی اور کباب کہاں کے سب سے بہتر ہیں، وہ یہ بھی خوب جانتا تھا اور ان کا لطف بھی اٹھاتا تھا۔ ارے ونود نے تو کھانوں پر ایک ٹی وی شو کر ڈالا تھا، جو این ڈی ٹی وی پر مہینوں تک چلا، جس میں اس نے سارے ہندوستان میں گھوم گھوم کر رنگا رنگ کھانوں کی داستان ہندوستان اور پوری دنیا کو سنائی۔

ونود محض ایک کہنہ مشق صحافی ہی نہیں تھا بلکہ وہ ہمہ جہت شخصیت کا حامل بھی تھا۔ اردو، پنجابی ادب پر اس کی استادوں سے بہتر گرفت تھی جو اس کے پروگراموں میں صاف جھلکتی بھی تھی۔ وہ بہترین میوزک اور گانوں کا ایسا شوقین تھا کہ ایک عرصے تک اس کے گھر پر ہر سنیچر کی رات میوزک کا پروگرام ہوتا تھا۔ جس میں ہر کسی کے لئے اس کا گھر کھلا رہتا تھا۔ وہ خود گاتا اس کی بیوی گاتی اور جس کا جی چاہے وہ گاتا۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ ایک بہترین مہمان نوازی کا رول بھی ادا کرتا۔ وہ اچھے لطیفوں کا بھی شوقین تھا، جہاں ملتا ایک لطیفہ ضرور سناتا تھا۔

یہ تھیں اس کی شخصیت کی وہ چند صفات، جن کا صحافت سے لینا دینا نہیں تھا، بطور صحافی وہ بے نظیر تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ہندوستان کو ہندی اور اردو صحافت کا سبق سکھانے والا صحافی تھا۔ جب دوردرشن نے ہندی پروگرام شروع کئے، بس تبھی سے وہ ٹی وی میں کود پڑا۔ پھر دوردرشن پر بھی این ڈی ٹی وی کے مالک پرنوئے رائے کے ساتھ اس نے نیوز پروگرام شروع کرائے، جلد ہی سارے ملک میں اس کی ٹی وی صحافت کے ڈنکے بجنے لگے۔ پھر کون سا ایسا پرائیویٹ چینل تھا جس نے ونود کو اپنے ٹی وی پروگرام میں نا لیا ہو۔ این ڈی ٹی وی سے لے کر انڈیا ٹوڈے، زی ٹی وی، سہارا ٹی وی کون سا چینل ایسا ہے کہ جو ونود کی صحافت کے بنا چلا پایا ہو۔ لیکن وہ جہاں گیا اس نے چینل کی نہیں بلکہ اپنی خود کی آزاد صحافت کی، کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔ اگر کسی چینل مالک نے اس پر ذرا سا دباؤ ڈالا، وہ شرافت سے بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے چینل چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ لیکن وہ فن صحافت میں ایسا یکتا تھا کہ ایک چینل سے نکل کر دوسری رات دوسرے چینل پر چمکتا تھا۔

ایسا ہمہ جہت اور حق گو صحافی جب محض 67 سال کی عمر میں چلا جائے تو صرف تکلیف ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کو پُر کرنا ناممکن سا لگتا ہے۔ ونود اور اس کی اہلیہ چِنّا دوا دونوں کوئی 6 ماہ قبل کورونا وائرس کے شکار ہوئے اور دونوں کو اس منحوس وبا نے نگل لیا۔

ونود تم کو بھلا پانا ناممکن ہے اور آج کے دور میں تمہاری اصولی صحافت کی کس قدر ضرورت ہے اس کا اندازہ لوگوں کو تمہاری غیر موجود میں ہوگا۔

ایسے مرد حق اور بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام۔

ایک نظر اس پر بھی

یوگی حکومت سماجوادی پارٹی سے خوف زدہ ہے؛ اکھلیش یادو کا بیان

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور ا لزام عائد کیا کہ وہ سماجوادی پارٹی سے بری طرح خوف زدہ ہے، اسلئے  وہ ایس پی کے لیڈروں کو فرضی مقدمات میں پھنسا رہی ہے۔

اُترپردیش میں اسمبلی الیکشن سےعین قبل بی جے پی لیڈر کیوں پارٹی چھوڑ رہے ہیں؟ کیا بی جے پی نے ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرکے انتخابی جیت حاصل کی تھی ؟

گزشتہ کچھ دنوں میں، اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے تین وز یر، سوامی پرساد موریہ، دارا سنگھ چوہان اور دھرم سنگھ سینی نے استعفیٰ دے دیا ہے اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے ساتھ ہی بی جے پی کے کئی ایم ایل ایز بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں ۔امکان ہے ...

اتر پردیش میں ہندوتوا سیاست خطرے میں؛ وزیروں کا استعفیٰ محض استعفیٰ نہیں بلکہ ہندوتوا اور منووادی سیاست کے خلاف پسماندہ ذاتوں کی بغاوت ہے ۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

گو چناؤ پانچ ریاستوں میں ہو رہے ہیں لیکن اتر پردیش خبروں میں چھایا ہوا ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ ملک کا سب سے اہم سیاسی صوبہ جہاں سے 80 ممبران پارلیمنٹ چن کر آتے ہیں، وہ تو خبروں کا مرکز بنے گا ہی۔ مگر اس بار اتر پردیش چناؤ کچھ زیادہ ہی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔

کاویری تنازعہ کو ختم کرنے والا میکے داٹو کا ڈیم : تعمیر کے لئے کونسی رکاوٹیں ہیں؟ کیا ہے یہ پورا معاملہ؛ ایم ایل لکشمی کانت کی تفصیلی رپورٹ

کانگریس کی جانب سےجاری ’میکے داٹو‘ نامی پیدل یاترا سیاسی الزام تراشیوں اور کاویری ندی کے پانی کو لے کر  بالخصوص کر ناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان جاری تنازعہ پر کنڑا اخبار ’’کنڑ اپربھا‘ میں ایم ایل لکشمی کانت کے آرٹیکل کا ترجمہ یہاں ساحل آن لائن کے قارئین کے لئے پیش ...

بس صبر کا دامن پکڑے رہیے۔۔۔۔ از: ظفر آغا

پھر وہی چھچھوری حرکت، ہندوتوا گروپ کی جانب سے اب بُلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم ماں بیٹیوں کی نیلامی۔ جی ہاں، اس نیلامی میں نوجوان صحافی بھی ہے تو پچاس برس سے زیادہ عمر کی ماں بھی ہے اور تیس پینتیس برس کی سیاسی اور سماجی کارکن بھی ہے۔

کیسا ہوگا سن 2022!۔۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

آپ کو نئے سال کی مبارکباد! حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ سن 2022 آپ کے لیے خوشیاں لائے گا یا سن 2021 کی طرح نئی مصیبتیں بکھیرے گا۔ آثار کچھ پچھلے برس جیسے ہی نظر آ رہے ہیں۔ سن 2021 کی جنوری میں کووڈ کی دوسری لہر شروع ہو چکی تھی۔