کرایہ ادا کرو یا مکان خالی کردو۔افغانی طالبات کو مکان مالکان کی وارننگ

Source: S.O. News Service | Published on 28th August 2021, 10:50 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،28؍اگست (ایس او نیوز) افغانستان میں طالبان کے حملے اور قبضے ہنوز جاری ہیں لیکن ہندوستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم طلبا بالخصوص طالبات کو مختلف مشکلات کا سامنا ابھی سے ہے۔ایسے وقت میں انہیں راحت پہنچانے کے لئے سکیولر، امن اور انصاف پسند لوگوں کو آگے آنا چاہئے۔جنگ میں گھرے اس ملک کے سینکڑوں طالبات جو بنگلور میں زیر تعلیم ہیں،انہیں مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔ان میں سے اکثر اگلے ماہ اپنی کرایہ کی رہائش گاہوں سے باہر نکالے جانے کا بھی خدشہ ہے۔انہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان کے والدین اگلے ماہ تک ان کے اخراجات کی رقم روانہ کریں گے بھی یا نہیں۔جو طالبات اپنے سال آخر کے سیمسٹر امتحانات دے چکے ہیں ان کے بیک لاگس رہ جانے سے پریشان ہیں۔جبکہ جونیئرس اپنی امتحان کی فیس ادا کرنے کو لے کر پریشان ہیں۔شہر بنگلور کے مختلف علاقوں میں مالک مکان افغانی طالبات سے کرایہ کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے۔ان افغانی طالبات کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اگر کرایہ ادا نہ کرنے پر مالک مکان گھروں کو خالی کرنے کو کہیں تو وہ کہاں جائیں۔حالانکہ صورتحال ایسی ہے کہ افغانی طلبا800روپئے تا 3ہزار روپئے امتحانی فیس ادا کرنے کیلئے بھی جدوجہد کررہے ہیں۔اکثر مالک مکان نے انہیں انتباہ کردیا ہے کہ اگر وہ کرایہ ادا نہیں کرسکتے توانہیں مکانات خالی کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق افغان کے اکثر طلبا خود مالی مدد اور اسکالرشپ کے بھروسہ یہاں آکر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔انہیں یہ خوف ہے کہ ان کے گھروں سے مالی مدد کے بغیر وہ کس طرح زندگی گزاریں گے۔اس مسئلہ کا حل نکالنے فیڈریشن آف انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (ایف آئی ایس اے بی) بنگلور نے یونیورسٹیوں اور حکومت کو مکتوب لکھا ہے۔لیکن ان سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔ ایک سویڈن کے باشندے منتظر محمدن جو ایم بی اے کے طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایف آئی ایس اے بی کے صدر بھی ہیں، نے بتایا کہ شہر بنگلور میں افغانستان کے تقریباً 250طلباء ہیں جو مختلف کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔ان میں سے اکثر کو ماہانہ300 ڈالرس (16 ہزار تا 18ہزار روپئے) ان کے اہل خانہ سے موصول ہوتے ہیں۔طلباء اسی رقم سے مکان کا کرایہ، خوراک اور بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔افغانی خاتون نے کہا کہ ہمارے خواب اس وقت چکنا چور ہوگئے۔

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔

کرناٹک کے داونگیرے میں ایک لڑکی نے والدین سمیت 4 افرادکو سلایا موت کی نیند؛ کیا ہے پورا واقعہ

کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان ...

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔