دہلی میں لالو اور ملائم کی ملاقات، اُترپردیش کا سیاسی پارہ چڑھا، اُترپردیش الیکشن سے متعلق کئی اہم امور پر گفتگو

Source: S.O. News Service | Published on 3rd August 2021, 12:46 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 3؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) اترپردیش انتخابات میں ابھی وقت ہے لیکن گہماگہمی شروع ہوگئی ہے۔  اسی درمیان دہلی میں لالو پرساد یادو سے ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو کی ملاقات   سے سیاسی گلیاروں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، بالخصوص اترپردیش کا سیاسی پارہ گرم ہوگیا ہے۔ حالانکہ کسی نے باقاعدہ اس میٹنگ کے حوالے سے کچھ نہیں کہا لیکن اترپردیش کے کابینی وزیر کے بیان کو اسی  پس منظر میں دیکھا جارہا ہے جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔  

 خیر سگالی کے تحت کی گئی اس ملاقات میں کئی سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو کی۔ دریں اثنا لالو پرساد یادو نے کہا کہ اس وقت ملک کو سماجوادی کی ضرورت ہے۔اس  ملاقات کی اطلاع خود لالو پرساد یادو نے دی۔ انہوں نے اس میٹنگ کے بارے میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک کے سینئر ترین سوشلسٹ ساتھی ملائم سنگھ جی نے ان کی خیریت جاننے کیلئے ان سے ملاقات کی۔‘‘

 لالو پرساد یادو نے کہا کہ کھیت، کھلیان، عدم مساوات ، ناخواندگی ، کسانوں ، غریبوں اور بے روزگاروں کیلئے ہماری مشترکہ تشویشات اور لڑائی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملاقات میں ان تمام موضوعات پر گفتگو ہوئی ہوگی اور اترپردیش کے الیکشن کے پس منظر میں ان پر تبادلہ خیالات ہوا ہوگا۔ اپنے ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے  لالو پرساد یادو نے مزید لکھا کہ ’’آج ملک کو سرمایہ داری اور فرقہ واریت کی نہیں بلکہ لوگوں کو مساوات اور سوشلزم کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

  اس سلسلے میں اکھلیش یادو نے ٹویٹ کرکے میٹنگ کی تصویر بھی شیئر کی ہے ، جس میں ملک کے دونوں بڑے سماجوادی لیڈرایک ساتھ چائے پیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ لالو پرساد یادو، جو گزشتہ کچھ برسوں سے جیل میں رہنے کی وجہ سے سیاست سے دور تھے ، ایک بار پھر سرگرم ہو رہے ہیں۔ چند دنوں قبل آر جے ڈی کے یوم تاسیس پر انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ صحت بہتر ہوتے ہی وہ ایک بار پھرسیاست میں سرگرم ہوںگے۔ اس میٹنگ کے بعد اترپردیش کے سیاسی گلیاروں میں قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ حالانکہ کسی نے اس میٹنگ کے حوالے سے کچھ نہیں کہا لیکن یہ ملاقات ہر سو موضوع بحث ہے۔

 اطلاعات کے مطابق ان تینوں لیڈروں کے درمیان تقریباً ۲؍ گھنٹے تک میٹنگ چلی، جس میں کئی اہم موضوعات پرتبادلہ خیال ہوا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں لالو پرساد یادو  نہ صرف یہ کہ سماجوادی پارٹی کیلئے اپنی حمایت کااعلان کرسکتے ہیں بلکہ بہت ممکن ہے کہ آر جے ڈی کے لیڈر سماجوادی پارٹی کیلئے انتخابی مہم میں بھی شریک ہوں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق آر جے ڈی کی اس حمایت کا مسلم اور یادو رائے دہندگان پر مثبت اثر پڑے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل این سی پی کی جانب سے بھی سماجوادی کی حمایت کااعلان کیا جاچکا ہے۔

 اس ملاقات کے بعد بی جے پی کی جانب سے ایک رد عمل میں کہاگیا ہے کہ اترپردیش میں سماجوادی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اترپردیش کے کابینی وزیر اور بی جے پی ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ ریاست کے آئند ہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ایس پی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ پارٹی کی ممکنہ شکست فاش سے سماجوادی کے لیڈر خوف زدہ ہیں۔ پیر کو  جاری کئے گئے اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئند اسمبلی انتخابات میں ایس پی کی شکست یقینی ہے۔ اکھلیش یادو کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یوپی سے  اس بار سماجوادی پارٹی کا مکمل صفایا ہوجائے گا۔ریاستی عوام انہیں اور ان کی پارٹی کو باہر نکالنےکیلئے انتخابات کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔سماجوادی سربراہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سدھار تھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ریاست میں بی جے پی کے ذریعہ کرائے گئے کاموں کا کریڈیٹ لینے کی کوشش کررہی ہے۔ خیال رہے کہ بی جے پی لیڈر نے سماجوادی پارٹی سے متعلق یہ بیان  اکھلیش یادو کے ذریعہ یوگی حکومت پر وندھیا  دھام پروجیکٹ سے متعلق تنقید کے بعد  دیا ہے لیکن  ان کے اس بیان کو ان کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا جارہا ہے جو ملائم اور لالو کی ملاقات کے بعد پیدا ہوا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ہریانہ: بی جے پی کے کئی رہنما اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل

 ہریانہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کئی رہنما اپنے حامیوں کے ساتھ آج کانگریس میں شامل ہو گئے۔ یہ لیڈر یہاں ریاستی کانگریس ہیڈ کوارٹر میں ریاستی کانگریس کی صدر کماری سیلجا کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہوئے۔