کشمیری پنڈت خوف میں! دفعہ 370 ہٹنے کے بعد حالات مزید خراب ہوں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th August 2019, 11:58 AM | ملکی خبریں |

جموں،18اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی)جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ چھین لئے جانے کے بعد کشمیری پنڈتوں نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کے لیڈر سنجے ٹیکو کا کہنا ہے کہ اب کشمیر میں پنڈتوں کا رہنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد انھیں ڈر ہے کہ کشمیر سے کہیں انہیں جانا نہ پڑ جائے۔ ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کے مطابق کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے سربراہ نے کہا ”میں اس سے بھی بدتر حالات کی پیشین گوئی کرتا ہوں جب شورش پسندی کے شروعاتی دور میں پنڈتوں نے ہجرت کی تھی۔“کشمیری پنڈتوں کے لیڈر سنجے ٹیکو نے انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”دفعہ 370 ہٹانے کا قدم جدوجہد کو مزید 100 سالوں کے لئے طویل کرے گا۔ یہ فرقہ وارانہ تقسیم کو تیز کرے گا، لوگوں کے صبر کی سطح کو مزید نیچے لے جائے گا۔“سنجے ٹیکو نے اخبار سے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ ”کشمیر میں رہ رہے پنڈت سیاسی ہدف ہو سکتے ہیں۔ وہاں اس کا رد عمل ہو سکتا ہے۔ اگلے تین یا پانچ سالوں میں آپ شاید سنجے ٹیکو کو یہاں کھڑا نہیں دیکھ پائیں گے۔ اس وقت ہم ذہنی طور پر تیار ہیں۔“قابل ذکر ہے کہ سنجے ٹیکو سری نگر کے پرانے حصوں میں سے ایک باربر شاہ علاقے میں رہتے ہیں۔ دہشت گردی سے پہلے یہاں پنڈت طبقہ کی فیملی رہتی تھی، لیکن آج یہاں صرف تین پنڈت فیملی ہی بچی ہیں۔ ٹیکو نے دفعہ 370 پر حکومت کے فیصلے کی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے کشمیر کی شناخت پر حملہ بتایا ہے۔ٹیکو نے انگریزی اخبار سے بات چیت کے دوران کہا کہ ”یہ قدم مہاجر پنڈتوں کی واپسی کے امکان کو متاثر کر سکتا ہے۔ کیونکہ جتنے مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا، وہ شاید اب ایسا نہ کریں۔“ بتا دیں کہ ٹیکو جس سمیتی کے سربراہ ہیں وہ ان پنڈتوں کی قیادت کرتی ہے جو وادی میں بگڑے حالات کے بعد بھی کشمیر چھوڑ کر نہیں گئے۔ٹیکو نے کہا کہ یہاں تقریباً 4 ہزار سے 6 ہزار مہاجر کشمیری پنڈت رہتے تھے اور ان میں سے زیادہ تر جا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ”ہمارے پاس یہ بھی رپورٹ ہے کہ اننت ناگ ضلع کے سومرن کے ساتھ غیر مقیم (پوری طرح سے بسے ہوئے) پنڈت فیملیوں نے اپنے گھر چھوڑ دیئے ہیں، جب کہ پانچ فیملی کو پولیس نے 5 اگست کی رات گاندربل کے لار، وْسان اور منیگم گاؤں سے باہر بھیج دیا تھا۔ ناکہ بندی کے سبب ہمیں دیگر خاندانوں کے بارے میں جانکاری نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بابری مسجد انہدام کیس: کلیان سنگھ کو بطور ملزم عدالت میں پیش ہونے کا فرمان

 اترپردیش کے ایودھیا میں بابری مسجد کومنہدم کیے جانے کے مجرمانہ معاملے میں مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) نے بی جے پی کے سینئر لیڈر کلیان سنگھ کو سمن جاری کر کے 27 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔