کشمیر میں 65 دن سے جاری بند پر چراغ پا افسر نے کہا ’حالات مزید بگڑ سکتے ہیں‘

Source: S.O. News Service | Published on 9th October 2019, 1:27 PM | ملکی خبریں |

سری نگر،9؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے ہی مودی حکومت لگاتار یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ وادی میں سب کچھ ٹھیک ہے اور معمول پر ہے۔ لیکن جموں و کشمیر میں تعینات افسر اور سیکورٹی فورسز کی بات پر یقین کریں تو حالات کافی سنگین ہیں۔ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے ہی وادی میں بند ہے، دو مہینے بعد بھی حالات ویسے ہی بنے ہوئے ہیں۔ وہاں موجود افسروں کا ماننا ہے کہ حالات معمول پر ہونے کی جگہ مزید بگڑ سکتے ہیں۔

بازار میں اب بھی سناٹا پسرا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ اور سیل فون سروس ابھی تک پوری طرح سے بحال نہیں ہو پائی ہے۔ اس کا اثر صحت خدمات پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول اور کالج بند ہیں۔ سینکڑوں لوگ حراست میں ہیں۔ حالانکہ گورنر کہہ رہے ہیں کہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے سیاحوں پر پابندی عائد کرنے والے حکم واپس لیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کا کوئی اثر ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس ماحول میں کوئی بھی سیاح شاید ہی وہاں جائے۔ وہیں بی جے پی کو چھوڑ کر 24 اکتوبر کو ہونے والے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) کا انتخاب لڑنے سے سبھی پارٹیوں نے انکار کر دیا ہے۔

انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایک درجن سے زیادہ نوکرشاہوں اور پولس افسروں سے بات کرنے کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت بھلے ہی کچھ بھی کہے لیکن وادی میں حالات معمول پر نہیں ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ ’’ہم کہتے تھے کہ سیکورٹی فورس گھڑی دیکھتے ہیں، جب کہ دہشت گردوں کے پاس ہمیشہ وقت ہے۔ لیکن، اب یہاں معاملہ دوسرا ہو چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ہر وقت جموں و کشمیر کے باشندوں پر نظر رکھ سکتی ہے۔‘‘ افسر نے کہا کہ ’’ہمیں پورا یقین نہیں ہے کہ لوگوں کو تھکا دینے والا یہ عمل اثر انداز ہوگا، لیکن ہم سبھی کو اعتراف کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں حالات معمول پر نہیں ہیں۔‘‘

ایک اعلیٰ افسر نے اخبار کو بتایا کہ ’’ایشو اور مسئلہ دو ایسے عام لفظ ہیں جنھیں یہاں کے لوگوں کے ساتھ بات چیت میں سنتے ہیں۔ کیا آپ نے انھیں 5 اگست سے سنا ہے؟ صرف اس لیے کہ کوئی بھی ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کرتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزیں معمول پر ہیں؟‘‘ کئی دیگر بڑےا فسروں کا بھی یہی ماننا ہے۔ ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’’دہلی کو لگتا ہے کہ اگر ابھی تک کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا ہے تو حالات معمول پر ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

شاہین باغ احتجاج پرسپریم کورٹ نےکہا، ماحول نہیں ہےسازگار، سماعت23مارچ تک ملتوی

دہلی کے شاہین باغ سے این اے سی اے اور این آر سی مخالف مظاہرین کو ہٹانے کے لئے درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف پر مشتمل بینچ کررہی ہے۔

دہلی تشدد: امن کی اپیل کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا ’فرقہ پرست طاقتوں کا منصوبہ ناکام بنائیں‘

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے دہلی کی عوام سے فرقہ وارانہ خیر سگالی بنائے رکھنے اور ملک کو مذہب اور ذات-پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے والی فرقہ پرست طاقتوں کے غلط منصوبوں کو ناکام کرنے کی اپیل کی ہے۔

مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست جہاں یونیفائیڈ ڈرائيونگ لائسنس اور رجسٹریشن کارڈ جاری ہوا

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے آج یہاں ’یونیفائیڈ ڈرایيونگ لائسنس اور رجسٹریشن کارڈ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے نئے نظام کا آغاز کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے، جس نے یونیفائیڈ ڈرائيونگ لائسنس اور رجسٹریشن کارڈ کا ایک ساتھ افتتاح کیا ہے۔

بہار میں این آر سی لاگو نہیں ہوگا: نتیش کمار

  بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اسمبلی میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی) کو غیر ضروری بتایا اور کہا کہ قومی مردم شماری رجسٹر ( این پی آر ) کے حالیہ خاکہ سے مستقبل میں این آر سی کے نفاذ پر کچھ لوگوں کو خطرات لاحق ہوں گے اسی کو دیکھتے ہوئے ان کی حکومت نے این پی آر 2010 کے پرانے خاکہ کی ...

دہلی تشدد، سی اے اے داخلی معاملہ، ہندوستان میں مسلمانوں سے تفریق نہیں ہوتی: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندستان میں مسلمانوں سے تفریق کئے جانے کے الزامات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہندستان کاداخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔