کشمیر: کورونا وائرس کا شاخسانہ، ہزاروں شادیاں منسوخ اور تعزیتی مجالس معطل

Source: S.O. News Service | Published on 25th March 2020, 9:14 PM | ملکی خبریں |

سری نگر،25؍مارچ (ایس او نیوز؍یو این آئی) دنیا میں ہر سو خوف و دہشت پیدا کرنے والے کورونا وائرس کے پیش نظر وادی کشمیر میں جہاں ایک طرف تمام تر مذہبی و سماجی اجتماعات و تقریبات معطل ہیں وہیں ہزاروں کی تعداد میں شادیاں منسوخ ہوئی ہیں اور تعزیتی مجالس بھی معطل کی جا رہی ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق وادی میں 25 اپریل سے شروع ہونے والے ماہ رمضان سے قبل قریب 25 ہزار شادیاں طے تھیں لیکن ان میں سے بیشتر شادیوں کی تقریبات کو منسوخ کیا جارہا ہے اب اگر کچھ شادیاں انجام پذیر ہوئی تو وہ انتہائی سادگی سے انجام دی گئیں۔

وادی میں انتہائی خراب حالات میں بھی کسی کے انتقال پر تعزیتی مجلس کا انعقاد کیا جاتا تھا لیکن کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر پہلی بار تعزیتی مجالس کو بھی معطل کیا جارہا ہے اور سوگوار کنبہ اپنے اعزا و اقارب اور دوست و احباب کو اپنے ہی گھروں میں مرحوم یا مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی استدعا کرتے ہیں۔

وادی سے شائع ہونے والے روز ناموں کے صفحے آج کل شادی کی منسوخی اور تعزیتی مجالس کی معطلی کے اشتہارات سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ اشتہار شائع کروانے والے لوگوں سے اپیل بھی کر رہے ہیں کہ وہ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہیں۔ حاجی غلام محمد نامی ایک معزز شہری نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ وادی میں نامساعد حالات کے چلتے شادیاں منسوخ ہوجاتی تھیں لیکن تعزیتی مجالس پہلی بار معطل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'یہاں وادی میں نامساعد حالات کے باعث شادیوں کی منسوخی کوئی نئی بات نہیں ہے، یہاں تو حالات ایسے ہیں کہ شادیوں کی تقریبات منسوخ ہونے کا ہر آں خدشہ رہتا ہے لیکن تعزیتی مجالس پُرآشوب ترین حالات میں بھی انجام دی جاتی تھیں، لیکن پہلی بار ایسا ہو رہا ہے جب لوگوں کو گھروں میں بیٹھ کر ہی فاتحہ پڑھنے کو کہا جا رہا ہے'۔ بشیر احمد نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کی شادی خانہ آبادی ماہ اپریل کے پہلے ہی ہفتے میں طے تھی لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر اس کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میرے بیٹے کی شادی خانہ آبادی ماہ اپریل کے پہلے ہفتے میں طے تھی لیکن کورونا وائرس کے خطرات اور حکومت کی طرف سے نافذ احتیاطی پابندیوں کے پیش نظر ہم نے اس کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا ہے کیونکہ جان ہے تو جہاں ہے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان بچانا ہے'۔ قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات و خدشات کے پیش نظر وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے اور لوگ گھروں میں بیٹھنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون روبہ صحت ہوکر ہسپتال سے رخصت

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافے کے بیچ سری نگر کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی وادی کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہوئی ہے اور اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سے ڈسچارج بھی کیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کے خلاف کیس واپس لینے کا مطالبہ تبلیغی مرکز سے متعلق پیدا شدہ حالات پر سرکردہ مسلم دانشوروں کا بیان

 تبلیغی مرکز سے متعلق پیداشدہ صورتحال پر سرکردہ دانشوروں اور صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس سے یہ اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں