جموں و کشمیر: پلوامہ تصادم میں دو بھگوڑے ایس پی او سمیت 4 ملی ٹینٹ ہلاک

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th June 2019, 11:48 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

سری نگر،7؍ جون (ایس او نیوز؍یو این آئی) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے پنجرن لاسی پورہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ہونے والے ایک تصادم میں چار ملی ٹینٹ مارے گئے۔ مہلوک ملی ٹینٹوں میں ریاستی پولس کے دو سپیشل پولس آفیسرس بھی شامل ہیں جو محض چوبیس گھنٹے قبل دو ہتھیاروں کے ساتھ روپوش ہوکر ملی ٹینٹوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرچکے تھے۔

جموں وکشمیر پولس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا 'پلوامہ تصادم میں چار ملی ٹینٹ مارے گئے۔ وہ مبینہ طور پر جیش محمد سے وابستہ تھے۔ آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے'۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے پنجرن لاسی پورہ میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج، ریاستی پولس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں گزشتہ شام کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران علاقہ میں موجود ملی ٹینٹوں نے فورسز کو نشانہ بناکر فائرنگ کی۔ فورسز کی جوابی فائرنگ کے بعد طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ میں ایک ملی ٹینٹ مارا گیا۔ تاہم طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جمعہ کی صبح تک جاری رہا جس میں مزید تین ملی ٹینٹ مارے گئے۔

مہلوکین میں مبینہ طور پر دو ایس پی او بھی شامل ہیں جو جمعرات کی صبح ڈسٹرکٹ پولس لائنز پلوامہ سے اپنے سروس ہتھیاروں کے ساتھ لاپتہ ہوکر ملی ٹینٹوں کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے۔ ان کی شناخت شبیر احمد ساکنہ تجن پلوامہ اور سلیمان احمد ساکنہ اٹھمولہ شوپیاں کے طور پر ہوئی ہے۔ تصادم میں مارے گئے دیگر دو ملی ٹینٹوں کی شناخت عاشق احمد ساکنہ پنجرن پلوامہ اور عمران احمد ساکنہ آری ہل پلوامہ کے طور پر کی گئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مقامی لوگوں بالخصوص نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا جنہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کے گولے داغے۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہیں۔ قبل ازیں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے گزشتہ شام ٹریٹوریل آرمی سے وابستہ ایک اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ریاستی پولس نے اس ہلاکت کے لئے ملی ٹینٹوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

پولس کے ایک بیان میں کہا گیا 'ضلع اننت ناگ میں ملی ٹینٹوں نے جمعرات کی شام ٹریٹوریل آرمی سے وابستہ اہلکار جس کی شناخت منطور بیگ ساکنہ سڈورا اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید طورپر زخمی ہوااگر چہ اُسے فوری طورپر علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیاتاہم وہ وہاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ یہ واقعہ کیسے اور کن حالات میں رونما ہوا اس سلسلے میں جانچ پڑتال کی جارہی ہے'۔

ایک نظر اس پر بھی

روی داس مندر گرائے جانے کے خلاف دلت کمیونٹی کے ہزاروں لوگوں نے کیامظاہرہ

شہر میں حال ہی میں ایک روی داس مندر کو گرائے جانے کی مخالفت میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے دلت کمیونٹی کے لوگوں نے ہاتھوں میں نیلے رنگ کے جھنڈے لے کر جھنڈے والان سے رام لیلا میدان تک بدھ کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔

خواتین اور نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں ایک اور بابا گرفتار

ہندوستان کے کئی مشہور و معروف بابا خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور نابالغوں کے ساتھ مبینہ طور پر عصمت دری کے الزام میں یا تو گرفتار کر لیے گئے ہیں یا پھر انھیں گرفتار کرنے کا حکم جاری ہو چکا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے بانیان کے خلاف سی بی ائی نے نیا مقدمہ درج کیا‘ چیانل نے کاروائی کو ”مضحکہ خیز“ قراردیا

ایف ائی آر میں دعوی کیاگیا ہے کہ ٹی وی چیانل نے 2004اور2010کے درمیان جورقم اکٹھا کی ہے وہ ”وہ ایک بدنام لین دین کی ایک جال کے ذریعہ نامعلوم سرکاری عہدیدیروں کے پیسے کو لانے میں اعتراض ہے“

بھٹکل کا ایک ماہی گیر سمندر میں ڈوب کر ہوگیا فوت

چھوٹی سی کشتی پر سمندر میں ماہی گیری کے لئے جانے والا ایک شخص توازن کھو جانے کے بعد سمندر میں گر کر فوت ہوگیا ہے۔ مہلوک ماہی گیر کا نام دُرگپّا ماستی موگیر (65سال) بتایا جاتا ہے جو کہ بھٹکل میں بیلنی علاقے کا رہنے والا تھا۔

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...