کاروار کے پی یو کالجوں میں ڈی ڈی پی یو کا چھاپہ۔ طلبہ کے پاس موجود 60موبائل فون کیے گئے ضبط

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th July 2019, 11:18 PM | ساحلی خبریں |

کاروار18/جولائی (ایس او نیوز) پی یو کالجوں میں محکمہ تعلیمات کی جانب سے طلبہ کے لئے موبائل فون کے استعمال عاید ہے۔لیکن اکثر دیکھاگیا ہے کہ طلبہ اس قانون کی کھلی ورزی کرتے ہیں اور کالج کے احاطے میں موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

قانون کی اس خلاف ورزی پر روک لگانے کے لئے ڈی ڈی پی یو نے کاروار شہر میں موجود سرکاری پی یو کالجوں پر اچانک چھاپہ مارااور طلبہ کے پاس موجود 60موبائل فون ضبط کرلیے۔خیال رہے کہ محکمہ تعلیمات نے گزشتہ سال ہی پویو کالجوں میں موبائل کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔لیکن کہیں بھی اس پر پوری طرح عمل پیرائی نہیں ہورہی ہے۔شروع میں موبائل فون اپنی کتابوں کی بیگ میں چھپاکر رکھنے اور کلاس ختم ہونے پر کالج کے احاطے میں اس کا استعمال کرنے والے طلبہ پر کالج کے اساتذہ یا پرنسپال کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب طلبہ کلاس میں لیکچر کے دوران ہی بے خوف ہوکر موبائل استعمال کرنے لگے ہیں۔اس طرح محکمہ تعلیمات کا حکم کالج دفتر کے فائلوں میں بند ہوکر رہ گیا ہے۔ اس لئے اس قانون کو سختی کے ساتھ لاگو کرنے کی سمت میں اقدام کرتے ہوئے سرکاری کالجوں پر چھاپہ ماری کی گئی تھی۔اس دوران ڈی ڈی پی یو نے مختلف کالجوں میں پہنچ سیدھے کلاس رومس میں داخل ہوکر طلبہ کی تلاشی لی اور 60سے زائدفون ضبط کرلیے۔ اور ضبط شدہ فون کالج پرنسپال کی تحویل میں دیتے ہوئے ہدایت دی کہ طلبہ کے والدین سے بلاکر ان سے بانڈ لینے اور طلبہ کو تنبیہ کرنے کے بعد فون والدین کے حوالے کیے جائیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر پری یونیورسٹی ایم جی پول نے کہا کہ کالجوں کے اندر موبائل فون کے استعمال سے طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ پابندی والے قانون پر عمل پیرائی کے لئے یہ چھاپے مارے گئے تھے اور اس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔والدین کوسمجھنا چاہیے کہ بھاری قیمت کے موبائل فون طلبہ کو فراہم کرکے وہ خود اپنے بچوں کا تعلیمی نقصان کررہے ہیں۔کالج کے اساتذہ اور پرنسپال کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس قانون کو سختی کے ساتھ لاگو کرنا چاہیے۔

پتہ چلا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر پری یونیورسٹی ایم جی پول کی طرف سے چھاپہ مارنے اور طلبہ سے ان کے قیمتی موبائل فون ضبط کیے جانے کی خبر ملنے پر بہت سے والدین کالجوں میں دوڑے چلے آئے اور بعض والدین نے طلبہ کے پاس بھاری قیمت کے اینڈروائیڈ فونس موجود ہوے کو غلط نہ مانتے ہوئے ڈی ڈی پی یو کی کارروائی پر ہی سوال اٹھاکر الجھنے لگے۔ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال بہت ہی کارآمد ہوتا ہے، اس طرح آج موبائل فون کا استعمال طلبہ کے ضرورتوں میں شامل ہے۔ اس لئے محکمہ تعلیمات کی طرف سے کیا گیا یہ اقدام ہی غلط ہے۔اس کے باوجودپرنسپال اور لیکچررس نے والدین کو مسئلے کی نوعیت سمجھاتے ہوئے ان میں سے بہت سارے والدین کو تحریری بانڈ دینے اور اپنے فون واپس لے جانے پر آمادہ کرلیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں کورونا سے لڑنے تنظیم کےذمہ داران بھی نہایت متحرک؛ پوری ٹیم میدان میں کام کررہی ہے؛ چوطرفہ ہورہی ہے ستائش

اس وقت نہ صرف شہر بھٹکل بلکہ پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء سے  حیران وپریشان ہے ایک طرح سے اس وباء سے  پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد جس طرح سے ملک بھر میں غریب عوام اور یومیہ مزدور طبقہ کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے ہرکوئی واقف ہیں ...

بھٹکل میں شدت کی گرمی کے بعدوقت سے پہلے ہی برسی بارش؛ساحلی علاقوں میں بجلیوں اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ لوگوں کی ہوئی صبح

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹک میں گذشتہ کچھ دنوں سے شدت کی گرمی سے عوام پریشان تھے، درجہ حرارت بڑھتے ہوئے بھٹکل میں پیر کو 37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا، مگر منگل صبح قریب 5 بجے  اچانک آسمان میں بجلیوں کی زبردست چمک اور  بادلوں کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ بارش شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی ...

بھٹکل سے مزید تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ؛ آج موصول ہونے والی تمام رپورٹس بھی نیگیٹیو؛ کیا کسی کی رپورٹ پوزیٹیوآنے کا خدشہ ہے ؟

کورونا وائرس کو لے کر شہر سمیت پورے ملک میں لاک ڈاون جاری ہے اور ہر روز مشکوک لوگوں کے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ کئے جارہے ہیں۔اب تک بھٹکل سے جن لوگوں کے تھوک کے نمونے  جانچ کے لئے روانہ کئے جارہے تھے،  راحت کی خبریں موصول ہورہی تھیں یہاں تک کہ مینگلور اور کاروار میں ...

بھٹکل میں کورونا وائرس کو لے کر کیاسوشیل میڈیا میں کسی طرح کی سازش رچی جارہی ہے ؟ مسلمانوں سے دور رہنے اورکسی بھی طرح کا لین دین نہ رکھنے کے مسیجس وائرل

ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء فسطائی اور فرقہ وارانہ ذہنیت والے غیر مسلموں کے لئے مسلمانوں کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا نیا ہتھیار بن گئی ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کے نام پر مسلمانوں سے دوری رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے  اور مسلمانوں سے کسی بھی طرح کی خریداری کرنے کی ...

کورونا کے نام پر مسلمانوں پر حملہ؛ باگلکوٹ میں تین مسلم لوگوں کو ایک گاوں میں داخل ہونے سے روکنے کی واردات

باگلکوٹ کے مدھول پولیس اسٹیشن کے حدود میں آنے والے ایک گاؤں میں چند شرپسندوں نے مسلمانوں کو اپنے گاؤں میں داخل ہونے سے عملاً روکتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی واردات پیش آئی ہے  جس کی ویڈیو کلپ بھی سوشیل میڈیا پر  وائرل ہوگئی ہے۔