کاروار: کورونا جانچ رپورٹ میں نگیٹیو اور پوزیٹیو کا جھنجھٹ۔ عوام کے لئے بن رہا ہے ایک بڑا سنکٹ!

Source: S.O. News Service | Published on 21st July 2020, 1:56 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

کاروار،21؍جولائی (ایس او نیوز) کورونا وباء کے ساتھ بہت ساری الجھنیں اور پیچیدگیا ں بھی ایسی ہیں کہ جن کے چلتے عوام میں شکوک شبہات کا پیدا ہونا فطری بات ہے اور یہی چیز منفی سوچ کے ساتھ اینٹی پروپگینڈا کر نے والوں کے لئے بھی بڑی کارآمد ہوتی ہے۔

ملک کے مختلف مقامات پر جانچ رپورٹ میں گڑبڑی کی شکایات سنی جارہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے سازش اور جان بوجھ کر عوام کو ہراساں کرنے کا سلسلہ سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ اسے ڈاکٹروں، اسپتالوں اورسیاست دانوں کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہیں۔اب ان باتوں میں کتنی سچائی ہے یہ ایک لمبی تفتیش کا موضوع ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جانچ رپورٹ میں بعض دفعہ گڑبڑیاں ہورہی ہیں اور یہ چیزمتاثرین یا مریضوں کے لئے ذہنی الجھن اور پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔ اس طرح کی نگیٹیو اور پوزیٹیو کی مشتبہ رپورٹس کے معاملات ہمارے قریبی جنوبی کینرا کے منگلورو، اڈپی ضلع سے آرہے ہیں اوراسی پس منظر میں اب ہمارے اپنے ضلع شمالی کینرا کی کاروار میڈیکل کالج اسپتال سے منسلک لیباریٹری میں جانچ کے بعد جورپورٹس آرہی ہیں اس پر بھی لوگ شکوک و شبہات کااظہار کرنے لگے ہیں۔
    
سب سے بڑی تکنیکی سچائی یہ ہے کہ ابھی تک جو اینٹی جین ٹیسٹ یا ریپیڈ ٹیسٹ کٹس دستیاب ہیں جس سے وائرس کی جانچ ہوتی ہے اس سے ملنے والی رپورٹس بالکل درست (accuracy) ہونے کی شرح جو ہے وہ30%اور45%کے درمیان ہے۔ اس کامطلب 55%معاملات میں جانچ رپورٹ غلط ہونے کے امکانات ہیں۔ جبکہ لیباریٹری میں جو جانچ ہوتی ہے اور جس پر اسپتالوں میں اعتبار کیا جاتا ہے اس میں رپورٹ بالکل درست ہونے کی شرح 90% ہے۔ جس کامطلب یہ ہے کہ وہاں بھی 10% مریضوں کی جانچ رپورٹ غلط ہونے کے  امکانات موجود ہوتے ہیں۔

رپورٹس غلط ہونے کا مطلب’فالس نگیٹیو‘ آنایا کبھی کبھار جو شخص متاثر نہیں ہے اس کی رپورٹ’فالس پوزیٹیو‘ آناہے۔’فالس نگیٹیو‘رپورٹ آنے کی صورت میں مشکل یہ ہے کہ اس مریض کے اندر کورونا وائرس موجود رہ سکتا ہے اور کچھ دنوں بعد وہ اپنا رنگ دکھا سکتا ہے۔ ایسے میں اس رپورٹ پر بھروسہ کرکے بے فکر رہنے والا آدمی خود بھی مزید پیچیدہ مرض کا شکار ہوسکتا ہے اور اس دوران وہ دوسرے صحت مند افراد کے اندر بھی مرض کے وائرس داخل کرنے کاسبب بن سکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس آدمی کوکورونا انفیکشن نہ رہنے کے باوجود اگر اس کی رپورٹ’فالس پوزیٹیو‘ نکلتی ہے تو اس سے اس آدمی کے علاوہ اس کے اپنے گھر والوں کے لئے بڑی مشکلات اور ذہنی الجھنیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔بلاوجہ گھروں پر کوارنٹین کے پوسٹرس لگانے یا گھر سیل ڈاون کرنے  لکڑیاں لگائے  جانے سے علاقے میں ایک الگ تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔پھر رپورٹس کی بنیاد پرپوزیٹیو مان کر کووڈ میں داخل کیے جانے کی صورت میں وہاں پر حقیقی طور پر پوزیٹیو پائے جانے والے مریضوں سے رابطے کی وجہ سے صحت مند افراد کو بھی انفیکشن لگ جانے کے پورے امکانات ہوتے ہیں۔ 

اس مسئلے اور جھنجھٹ سے پوری طرح عوام کو نجات ملنا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا، لیکن چونکہ ریپیڈ ٹیسٹ میں ہی فالس نگیٹیو آنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اس لئے اینٹی جین ٹیسٹ کے بعد مریضوں کی جانچ آر ٹی پی سی کے ذریعے سے لیباریٹری میں کرتے ہوئے دوبارہ تحقیق کرنا ہی ا س کادوسرا راستہ ہے۔اور لیباریٹری ٹیسٹ رپورٹ میں بھی گڑبڑی کا شک ہونے پر دوبارہ دوسری لیباریٹری سے ہی ٹیسٹ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

کاروار میڈیکل کالج اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گجانن نائیک نے بتایا کہ کاروار کی لیباریٹری میں اس وقت آر ٹی پی سی آر مشین کے ذریعے ہی مریضوں کے نمونوں کی جانچ ہوتی ہے۔ اس سے قبل’ٹرونیٹ‘ مشین سے جانچ ہوتی تھی مگر اس کی رپورٹس میں گڑبڑی کو دیکھتے ہوئے اس طریقے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔اور آئی سی ایم آر قوانین کے مطابق ہی کووڈ ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، جس میں غلطی کے امکانات نہیں ہوتے۔اور یہاں پر ابھی تک ’فالس نگیٹیو‘ یا ’فالس پوزیٹیو‘ کے معاملا ت سامنے نہیں آئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل ’گونڈا قبیلے ‘ کی ذات سرٹفکیٹ جاری کرنے پر تنازعہ۔ اسسٹنٹ کمشنرکے دفتر میں میٹنگ

بھٹکل تعلقہ میں بسنے والے ’گونڈا قبیلے ‘ سے متعلقہ افراد کو ’درج فہرست قبیلہ‘ کی سرٹفکیٹ جاری کرنے میں رکاوٹ  اور  ’گرام وکلیگا‘ طبقے سے تعلق رکھنے والے افرادغیر  مجاز طریقے سے اس قسم کے سرٹفکیٹ حاصل کرنے کا تنازعہ حل کرنے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں ایک میٹنگ منعقد کی ...

28ستمبر کو کرناٹکا بند کے پس منظر میں ایس ایس ایل سی سپلمنٹری امتحان کیا گیا ملتوی

کرناٹکا ہائی اسکول اکزامنیشن بورڈ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق ایس ایس ایل سی کا جو سپلمنٹری امتحان  28ستمبر کو منعقد ہونے والا تھا اسے کسانوں کے احتجاجی بند کے پیش نظر ملتوی کردیا گیا ہے۔

ساحلی کرناٹکا سمیت 10اضلاع میں جاری ہوا ’ایلو الرٹ‘۔محکمہ موسمیات نے کی بھاری برسات کی پیشین  گوئی

محکمہ موسمیات نے ساحلی کرناٹکا  اور شمالی کرناٹکا کے اندرونی علاقوں میں سنیچر اور اتوار کو بادلوں کی گرج اور بجلیوں  کی کڑک کے ساتھ بھاری برسات ہونے کی پیشین گوئی کی ہے۔ اور شمالی کینرا ،جنوبی کینرا اور اڈپی  کے علاوہ یادگیر، وجیاپورا، رائچور، گدگ، کلبرگی، دھارواڑ تمام دس ...

ہوناور میں شراوتی کونسل کے سکریٹری کے نئے ریڈی میڈ شوروم فیشن پیلیس کا خوبصورت افتتاح

نارتھ کینرا مسلم یونائیٹیڈ فورم کے ہوناور سکریٹری،  گیرسوپا سے ہوناور تک جملہ مسلم جماعتوں پر مشتمل  شراوتی کونسل کے سکریٹری اور  اتحاد کمیٹیسڑلگی  کے صدر سمیت سرگرم سماجی کارکن   جناب مظفر یوسف  کے نئے ریڈی میڈ شوروم فیشن پیلیس کا   ہوناور  مستی کٹے، بازار روڈ  پر ...

28ستمبر کو کرناٹکا بند کے پس منظر میں ایس ایس ایل سی سپلمنٹری امتحان کیا گیا ملتوی

کرناٹکا ہائی اسکول اکزامنیشن بورڈ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق ایس ایس ایل سی کا جو سپلمنٹری امتحان  28ستمبر کو منعقد ہونے والا تھا اسے کسانوں کے احتجاجی بند کے پیش نظر ملتوی کردیا گیا ہے۔

بھٹکل جامعہ اسلامیہ کے صدر مولانا عبد العلیم قاسمی صاحب کی بنگلور میں شال پوشی

آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے نائب صدر اور الجامعہ الاسلامیہ بھٹکل کے نو منتخب صدر ، حضرت مولانا عبد العلیم قاسمی صاحب کی بنگلور آمد پر ،، ملی کونسل کرناٹک ، بنگلور ،، کی جانب سے شال پوشی کی گئی ۔

ایڈی یورپا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش۔ حکومت اکثریت ثابت کرے گی، اشوک کا دعویٰ۔وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہوجانا چاہئے:سدارامیا

اپوزیشن کانگریس لیڈر سدارامیا نے وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف آج ریاستی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد نوٹس پیش کردیا ہے۔

کاروار: ایس سی؍ ایس ٹی کی جعلی سرٹی فیکٹ جاری کرنے کے معاملے میں ضلع شمالی کینرا دوسرے نمبرپر

سرکاری نوکریاں پانے کے لئے غلط طریقے اور بدعنوانی کے ذریعے درج فہرست ذات (شیلڈولڈ کاسٹ) اور درج فہرست قبائل (شیلڈولڈ ٹرائب)کی سرٹفکیٹس جاری کرنے کے معاملے میں ضلع شمالی کینرا ریاست میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔  کرناٹکا سول رائٹس انفورسمنٹ    کے    ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ...

بنگلورو: کووڈ مریض کی نعش دینے کےلئے اسپتال نے کیا 5.70 لاکھ روپے کا مطالبہ۔ رشتے داروں نے لاش لینے سے ہی کیاانکار

بنگلورو کے ایک اسپتال میں کووڈ مریض کے فوت ہوجانے کے بعد اسپتال نے گھر والوں کو لاش سونپنے کے لئے 5.70 لاکھ روپے علاج کا بل ادا کرنے کا تقاضہ کیا۔گھر والوں نے  2 لاکھ روپے ادا کرنے کی بات کہی تو اسپتال نے لاش دینے سے انکار کیا۔ اس پر مشتعل ہوکر مرنے والے مریض کے گھر والے لاش کو ...