کاروار: بی جے پی والے لاشوں پر بیٹھ کر پیسہ کماتے ہیں؛ ایم ایل سی ہری پرساد کا بی جے پی پر راست حملہ: بدعنوان ریاستی حکومت کومستعفی ہونے کا کیا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 2nd August 2020, 12:17 PM | ساحلی خبریں |

کاروار 2/اگست (ایس او نیوز) ودھان پریشد کے رکن بی کے ہری پرساد نے کاروار پریس کلب میں ”کورونا میں بھی بھرشٹاچار۔بی جے پی سرکار کے سنسکار“ نامی کتاب کا اجراء کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا:”یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بی جے پی والے مردوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور لاشوں پر بیٹھ کر پیسہ کماتے ہیں۔“

 ہری پرساد نے کورونا وباء کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے کیے گئے ناکافی اقدامات اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا جائزہ لیتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے بغیر تیاری کے لاک ڈاؤن کا اعلان، وباء سے نمٹنے کے لئے ضروری اوراہم عملی اقدامات کا فقدان اور تھالی و تالی بجانے اور آرتی اتارنے،دیپ جلانے جیسے غیر ذمہ دارانہ طور طریقوں نے ملک میں کورونا وباء کی صورتحال کو بد سے بدتر کردیا۔

 انہوں نے کہاکہ کورونا سے لڑنے کے لئے کانگریس پارٹی نے مرکزی اور ریاستی حکومت کو ہر طرح کا تعاون دیا۔ مگر حکومت پی ایم کیئر فنڈ سے اسپتالوں میں بستر بڑھانے کے بجائے یاتو نوٹنکی اور تماشے کرنے میں یا پھر کوروناکے علاج کے لئے ضروری اشیاء کی خریدی میں بدعنوانی کرنے میں ہی مصروف رہی۔ 

 ایم ایل سی ہری پرساد نے ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کوروناوباء کے علاج کے لئے وینٹی لیٹر س، سینیٹائزر، آکسیجن سلینڈر وغیرہ کی خریداری میں 2000کروڑ روپوں کی بدعنوانی کی گئی ہے۔ نہ صرف کانگریسی لیڈر سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار نے ریاستی حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ بلکہ خود ریاستی ہائی کورٹ نے بھی حکومت کے طریقوں پر اعتراضات جتائے ہیں اور کہا ہے کہ کووِیڈ گائڈ لائنس کے مطابق ایس او پی پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

 انہوں نے اپنے الزام کی تائید میں کہا کہ تملناڈو حکومت اور مرکزی حکومت نے وینٹی لیٹرس 4.5لاکھ روپے فی عدد کے حساب سے خریدے ہیں جبکہ کرناٹکا حکومت نے فی عدد وینٹی لیٹر 18لاکھ رپوں میں خریدا ہے۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خود بی جے پی کے سابق وزیرسارو بھوم نے لوک آیوکتہ سے شکایت کی ہے کہ ریاستی حکومت نے جو وینٹی لیٹرس خریدے ہیں وہ استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) ہیں۔اس کے علاوہ وزیر سری راملونے بھی اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔

 ہری پرساد نے کہا کہ حزب اختلاف کے لیڈران سدارامیا اورڈی کے شیوکمار نے   مانگ کی ہے کہ اس بدعنوانی کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے کی جانی چاہیے۔کوویڈ علاج کے لئے کی گئی خریداری کے تمام معاملات کے سلسلے میں ریاستی حکومت کو قرطاس ابیض(وہائٹ پیپر) جاری  کرنا چاہئے اور بدعنوانی کے الزامات والی اس حکومت کوفوری طور پر مستعفی ہوجاناچا ہیے۔

پریس کانفرنس میں  کے پی سی سی کے ضلع صدر بھیمنا نائک، سابق ایم ایل اے ستیش سائیل، شاردا شیٹی اور کانگریس پارٹی کے ضلع انچارج آرادھیا وغیر ہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھاری برسات کے وقت منگلوروایئر پورٹ پر طیاروں کو اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایئر پورٹ ڈائریکٹر راؤ کا بیان

منگلورو انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے دائریکٹر وی وی راؤ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاری برسات اور خراب موسم کی وجہ سے چیزیں صاف دکھائی نہ دینے کی صورت میں ایئر پورٹ پر طیاروں کو لینڈنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔