ریاستی حکومت خانگی دواخانوں میں بستروں کی فراہمی کو یقینی بنائے گی ، سینئر عہدیداروں کی 7 ٹیمیں تشکیل ۔ چیف سکریٹری وجئے بھاسکر کا بیان

Source: S.O. News Service | Published on 21st July 2020, 12:17 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 21؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی اے این ایس)ریاستی حکومت نے خانگی دواخانوں کی جانب سے سے علاج سے انکار کی شکایتوں کے درمیان کووڈ۔19 مریضوں کے لیے خانگی دواخانوں میں 50 فیصد بستروں کی دستیابی کو یقینی بنانے دودو سینئر عہدیداروں پر مشتمل جملہ 7 ٹیموں کو تعینات کیا ہے۔

ریاستی سکریٹری ٹیم ایم وجئے بھاسکر جو ریاستی عاملہ کمیٹی کے چیرمین بھی ہیں، نے کہا کہ خانگی دواخانوں میں بستروں کو محفوظ رکھنے کی سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے سینئر عہدیداروں کی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔سینئر عہدیداروں کی ٹیم کی مدد بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (بی ڈبلیو ایس ایس بی ) اور بنگلورو الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی (بیسکام ) سے ایک ایک عہدیدار کے علاوہ سورونا آروگیہ سرکشاٹرسٹ سے آروگیا متر کرے گا۔

بھاسکر نے نشاندہی کی کہ بعض خانگی دواخانے، بلدی حکام کی جانب سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ قانون 2005 اور وبائی امراض قانون کے تحت رجوع کردہ کووڈ مریضوں کو شریک  کرنے سے انکار کررہے ہیں۔

ریاستی محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے خانگی دواخانوں  کووڈ مریضوں  کے لیے 50 فیسڈ بستر محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض خانگی دواخانے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر بلدیہ کی جانب سے رجوع کیے جانے والے اور علامات کے حامل مریضوں کو ازخود رجوع ہونے پر شریک کرنے سے انکار کررہے ہیں۔

بھاسکر نے کہا کہ بلدی حکام کی جانب سے رجوع کردہ کووڈ مریضوں کو سرکاری کوٹہ کے تحت محفوظ بستروں پر شریک کرنے سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دواخانوں میں کووڈ مریضوں کو شریک اور ڈسچارج ، بستروں کے لیے سرکاری کوٹہ کے تحت رجوع کردہ کووڈ مریضوں کے لیے بی بی ایم پی اور ایس اے ایس ٹی کی جانب سے فراہم کردہ ہاسپٹل بیڈ مینجمنٹ پورٹل کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے دواخانوں کو سرکاری کوٹہ کے تحت محفوظ بستروں کی جانکاری کا بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت دی۔بھاسکر نے منی ہاسپٹل ، اپولو، نارائانا ہردیالیہ ، ایم ایس رامیا ہاسپٹل ، کولمبیا ایشیا ہاسپٹل سمیت 31 خانگی دواخانوں کی نگرانی کے لیے 14 عہدیدار مقرر کیے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔