کرناٹک میں 25 جون سے شروع ہورہے ہیں ایس ایس ایل سی امتحانات؛ ہر امتحان گاہ میں صرف 18 طلبا کو بیٹھنے کی ہوگی سہولت؛ ایک گھنٹہ پہلے امتحان گاہ پہنچنا ضروری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 3rd June 2020, 6:41 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 3/ جون (ایس او نیوز)  کورونا وباء کے بعد ملک بھر میں لگے لاک ڈاون کے بعد اب ریاست کرناٹک میں 25 جون سے ایس ایس ایل سی امتحانات شروع ہورہے ہیں جو  4 جولائی کو اختتام کو پہنچیں گے۔ امتحانات کو منعقد کرنے کے لئے ہرممکن احتیاطی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ طلبا کویڈ سے  محفوظ رہیں،  طلبا کے درمیان فاصلہ  رکھنے کے خاطر اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر امتحان ہال میں صرف 18 طلبا کو بٹھایا جائے گا،  امتحان گاہ پہنچنے سے پہلے  طلبا کی  تھرمل اسکیننگ ہوگی، اگر کسی میں کورونا کی علامات نظر آئیں تو پھر اُنہیں الگ کمرے میں امتحان دینے کے لئے بٹھایا جائے گا۔ ہر امتحان سینٹر میں  ایسے  دو  الگ کمروں کا  انتظام کیا جائے گا۔ ان تمام باتوں کی جانکاری  پرائمری اور سکینڈری ایجوکیشن منسٹر  ایس سریش کمار نے دی۔

دھارواڑ میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سریش کمار نے بتایا کہ ریاست میں 8.48 لاکھ طلبا بورڈ امتحانات میں شریک ہوں گے اور ہر طلبا کو ماسک پہن کر امتحان گاہ میں داخل ہونا ضروری ہوگا اور امتحان گاہ میں داخل ہونے سے پہلے ہر طالب علم کی تھرمل اسکیننگ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر امتحان سینٹر میں تھرمل اسکینر رکھا جارہا ہے، اسی طرح طلبا کو امتحان گاہ میں داخل ہونے سے پہلے ماسک فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت  اسکاوٹس اینڈ گائیڈس اور انڈین ریڈ  کراس سوسائٹی کی جانب سے ہر طلبا کو  ماسک کے دو سیٹ فراہم کئے جائیں گے۔

کنٹیمنٹ زون میں امتحانی سینٹر نہیں ہوگا:   سریش کمار نے بتایا کہ اگر کوئی امتحانی سینٹر کنٹیمنٹ زون میں آتا ہے تو امتحان شروع ہونے  سے دو دن پہلے ہی  سینٹر کو کنٹیمنٹ زون سے نکال کر  محفوظ جگہ پر   منتقل کیا جائے گا۔

سکینڈ پی یو سی امتحان :  سریش کمار نے بتایا کہ سکینڈ پی یو سی کا ایک اخری انگریزی پر چہ جو بچا ہے، وہ امتحان اب 18 جون کو رکھا گیا ہے۔سکینڈ پی یو کا آخری امتحان دینے والوں کےلئے بھی تھرمل اسکریننگ کی جائے گی اور تمام کو ماسک بھی دئے جائیں گے تاکہ وہ ماسک پہن کر ہی امتحان گاہ میں جائیں۔ 

اُترکنڑا میں 38 امتحانی سینٹرس:   ایس ایس ایل سی امتحانات کو لے کر ضلع اُترکنڑا کے  ڈپٹی ڈائرکٹر  پبلک انسٹرکشن (ڈی ڈی پی آئی) ہریش گاونکر نے بتایا کہ  ضلع اُترکنڑا میں 9,580 بچے ایس ایس ایل سی امتحانات میں شریک ہوں گے جن کے لئے  ضلع بھر میں 38 امتحانی سینٹرس بنائے گئے ہیں۔ گاونکر نے بتایا کہ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ کوویڈ وبا ء اور لاک ڈاون کے چلتے  ہر طالب علم امتحان میں شریک ہوں اور کوئی بھی  طلبا امتحان سے غیر حاضر نہ ہونے پائے، ساتھ ساتھ کورونا سے ان کو  تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  مضافاتی اور دور دراز والے علاقوں کے  بچوں کو ہر حال میں امتحان گاہ تک لانے کے لئے  زائد سرکاری بسوں  کو اُن روٹس تک  دوڑانے کے تعلق سے غور کیا جارہا ہے۔ مزید بتایا کہ  اسکول ہیڈ ماسٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے بچوں کی ایک لسٹ تیار کریں جو دور دراز علاقوں اور دیہاتوں وغیرہ میں رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر امتحانی سینٹر میں بچوں کو  سینی ٹائزر اور ماسک فراہم کئے جائیں گے اور امتحان گاہ میں دو طلبا کے درمیان کافی فاصلہ رکھا جائے گا۔

ایک گھنٹہ پہلے امتحان گاہ پہنچنے کی ہدایت:   ڈی ڈی پی آئی ہریش گاونکر نے بتایا کہ ایس ایس ایل سی امتحانات  صبح  9:30 بجے شروع ہوں گے اور دوپہر 1:30 بجے ختم ہوں گے، انہوں نے بتایا کہ اس بار امتحان میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے دوپہر 12:30کو امتحان ختم ہوتا تھا۔اس بار ایک گھنٹہ زائد دیا جارہا ہے۔  گاونکر نے تمام طلبا کو ہدایت دی ہے کہ وہ  ایک گھنٹہ پہلے ہی امتحان گاہ پہنچے  کیونکہ  امتحان گاہ میں داخل ہونے سے پہلے  ہر بچے کی تھرمل اسکیننگ کرنی ہے اور  بچوں میں  بخار، کھانسی یا ایسی کوئی علامت پائی جانے کی صورت میں انہیں الگ کمرے میں امتحان دینے کے لئے  بٹھانا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کاروار اسپتال سے 12 مزید لوگ ڈسچارج

بھلے ہی  ضلع اُترکنڑا میں کورونا پوزیٹیو کے معاملے ہر روز سامنے آرہے ہوں، لیکن کاروار اسپتال میں ایڈمٹ کورونا کے متاثرین  روبہ صحت ہوکر ڈسچارج ہونے کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔

اُترکنڑا میں پھر 36 کورونا پوزیٹیو؛ بھٹکل میں بھی کورونا کے بڑھنے کا سلسلہ جاری؛ آج ایک ہی دن 19 معاملات

اُترکنڑا میں کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور آج منگل کو بھی ضلع کے مختلف تعلقہ جات سے 36 کورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں جس میں صرف بھٹکل سے پھر ایک بار سب سے زیادہ  یعنی 19 معاملات سامنے آئے ہیں۔ کاروار میں 6،  ہلیال میں 3،  کمٹہ، ہوناور ...

دبئی سے بھٹکل و اطراف کے 181 لوگوں کو لے کر آج آرہی ہے دوسری چارٹرڈ فلائٹ؛ رات کو مینگلور ائرپورٹ میں ہوگی لینڈنگ

کورونا وباء اور اس کے بعد ہوئے لاک ڈاون سے  دبئی اور امارات میں پھنسے ہوئے 181 لوگوں کو لے کر آج دبئی سے دوسری چارٹرڈ فلائٹ مینگلور پہنچ رہی ہے۔ اس بات کا اطلاع بھٹکل کے معروف اورقومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر  جناب عتیق الرحمن مُنیری نے دی۔

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کرناٹک میں کووڈ۔19 کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں، مرکزی ٹیم کا چیف منسٹر و عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال؛ سری راملو کی پریس کانفرنس

کرناٹک نے منگل کے روز مرکز ی ٹیم کو بتایا کہ ریاست میں کووڈ۔19 کے کمیونٹی پھیلاؤ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ریاستی وزیر صحت و خاندانی بہبود بی سری راملو نے میڈیا سے کہا ’’ ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہاں کمیونٹی پھیلاؤ کا امکان نہیں ہے۔ ہم ، دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے درمیان ہیں‘‘۔

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری؛ پھر 1498 نئے معاملات، صرف بنگلور سے ہی سامنے آئے 800 پوزیٹیو

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری ہے اور ریاست  میں روز بروز کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، ریاست کی راجدھانی اس وقت  کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے جہاں ہر روز  سب سے زیادہ معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ آج منگل کو پھر ایک بار کورونا کے سب سے زیادہ معاملات بنگلور سے ہی ...

کورونا: ہندوستان میں ’کمیونٹی اسپریڈ‘ کا خطرہ، اموات کی تعداد 20 ہزار سے زائد

  ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے درمیان کمیونٹی اسپریڈ یعنی طبقاتی پھیلاؤ کا  اندیشہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ بالخصوص کرناٹک  میں کورونا انفیکشن کے کمیونٹی اسپریڈ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ گوا، پنجاب و مغربی بنگال کے نئے ہاٹ اسپاٹ بننے کے ...

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔