23اگست سے ریاست میں اسکولس کھول دینے کی اجازت ، جن ا ضلاع میں پازیٹیویٹی شرح2فیصد سے کم ہے وہاں 9ویں سے 12ویں کیلئے کلاسوں کا آغاز

Source: S.O. News Service | Published on 17th August 2021, 11:45 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،17؍اگست(ایس او  نیوز) کرناٹک کے ان اضلا ع میں جہاں کورونا وائرس کی پازیٹیویٹی شرح2فیصد سے کم ہو گی ریاستی حکومت نے اسکولس کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسکولس کھولنے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کی صدارت میں ہوئے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس کو منظوری دے دی گئی۔ پیر کے روز وزیر اعلیٰ کی ہوم آفس کرشنا میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ماہرین، وزراء اور اعلیٰ افسروں سے مشورے کے بعدوزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ 9ویں جماعت سے 12 جماعت تک ان اضلاع میں اسکول سخت پابندی کے ساتھ کھولے جائیں جہاں پر پازیٹیویٹی شرح 23اگست تک 2فیصد سے کم ہو۔ اگر اس وقت تک اضلاع میں پازیٹیویٹی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے تو وہاں اسکول نہ کھولے جائیں۔ ایسے مرحلہ میں جہاں کرناٹک میں کورونا کی تیسری لہر کا خطرہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس کی تیاری کے لئے حکومت رات کے کرفیو اور ویک اینڈ کرفیو کی بات کر رہی ہے اس ماحول میں اسکولس کھول دینے کے متعلق وزیر اعلیٰ کے فیصلہ پر تمام حلقوں میں حیرت کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ اسکولس کھولنے کی ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ نے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے افسروں سے کہا ہے کہ جس دن سے اسکول کھولے جائیں گے پازیٹیویٹی شرح کا جائزہ اسی دن لیا جائے اور اگر وہ زیادہ ہے تو اسکول نہ کھولے جائیں۔ اس کے علاوہ یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اسکولس کھل جانے کے بعد اگر اس کے دو یا اس سے زیادہ بچے پازیٹیو ہو گئے تو اس اسکول کو ایک ہفتے کے لئے بند کیا جائے اور مکمل طور پر سینی ٹائز کی جائے۔ یہ طے کیا گیا کہ اسکولس کھولنے کے لئے ضلعی سطح پر کورونا کی صورتحال کی نگرانی کا سلسلہ ابھی سے شروع کیا جائے گا اور ضلع کی صورتحال کے مطابق لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ریاست کے سرحدی اضلاع میں کووڈ ٹیسٹ کی تعدا د بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔دکشن کنڑا، اڈپی،میسور، کورگ، ہاسن، چکمگور،چامراج نگر اور بنگلورو رورل اضلاع میں ویکسی نیشن بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا کی سرحد سے لگے علاقہ کے دس کلو میٹر کے آس پاس میں ویکسی نیشن بڑھانے اور ٹیسٹنگ کرنے کی بھی وزیر اعلیٰ نے ہدایت جاری کی۔ اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ریاست کے رائچور،کلبرگی،بیدر، کوپل،ہاویری، وجئے پورا، ٹمکور چکمگلور اور بنگلورو رورل میں کووڈ ٹسٹنگ کو بڑھاوادیا جائے گا۔ بنگلورو، میسور، شیموگہ،کلبرگی، بیلگاوی اور ہبلی میں جینوم ٹسٹنگ سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ اس طرح کے مراکز سے کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم کی جانچ کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ ریاست میں اب تک 4کروڑ ویکسین لگوائے جا چکے ہیں۔ فی الحال کرناٹک میں ویکسین کا اسٹاک ختم ہونے کے دہانے پر ہے اور صرف14.89لاکھ لوگوں کو ویکسین دی جا سکتی ہے۔حال ہی میں وزیر اعلیٰ نے اپنے دورہ دہلی کے دوران مرکزی وزیر صحت سے گزارش کی کہ ریاست کوایک کروڑ ویکسین مہیا کروائے جائیں۔ کورونا کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے زیادہ تعداد میں متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے تمام اسپتالوں میں بستروں کی تعدادکو 50فیصد ریزرو کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بنگلورو میں فی الوقت کورونا کی پازٹیویٹی شرح0.75فیصد ہے۔ اگر اس میں اضافہ ہوتا ہے تو اور 2فیصد تک پہنچتا ہے تو اقدامات سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔اس کے لئے بی بی ایم پی کے چیف کمشنر گورو گپتا کو اختیاردیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

”آؤ پیغامِ نبیؐ عام کریں“ کے تعارف کیلئے جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کی سیرت مہم

جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام ربیع الاول کے اس مقدس ماہ میں 10روزہ ”آؤ پیغام نبیؐ عام کریں“ کے عنوان پر ریاستی سطح کی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔اس سلسلہ میں اخباری کانفرنس کے دوران تفصیلات پیش کر تے ہو ئے حلقہ کرناٹک کے سکریٹری مولانا وحیدالدین خان عمری مدنی نے بتایا کہ اس ...

انکولہ - ہبلی ریلوے لائن منصوبہ : مرکزی حکومت کے وفد نے کیا مختلف مقامات کا معائنہ

ریاستی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق انکولہ - ہبلی ریلوے منصوبے پر عمل پیرائی کے سلسلے میں مثبت اور منفی پہلووں کا جائزہ لینے کے  مرکزی حکومت کے ایک وفد نے انکولہ اور یلاپور تعلقہ جات میں مختلف جنگلاتی علاقوں کا معائنہ کیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور و کے دس روزہ دسہرہ تقریبات کا افتتاح کیا

دوماہ کی تیاریوں کے بعد آج بروز پیر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے میسور کے چامنڈی پہاڑ پر دس روزہ دسہرہ تقریبات کا چامنڈیشوری دیوی کی مورتی پر پھول نچھاور کرکے افتتاح کیا۔ پہلے صدر جمہوریہ نے چامنڈیشوری دیوی کے درشن کئے اور اس مندر کی تاریخ کے تعلق سے تفصیل سے جانکاری حاصل کی۔

ذہنی دباؤ بیسویں صدی کا ایک مہلک مرض؛ آئیٹا گلبرگہ کے ورک شاپ سے ڈاکٹر عرفان مہا گا وی کا خطاب

نئے دور کی شدید ترین بیماریوں میں ذہنی دباؤ اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو مہلک امراض میں شمار کیا جاتا ہے ۔ روز مرہ کی مشینی زندگی میں ذہنی دباؤ  میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن اس کو کیسے کم کیا جائے اس پر غور کر نے اور اس سلسلے میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔