ریاست کرناٹک میں 6ستمبر سے 6ویں تا 8ویں کلاس کیلئے اسکولس کھولنے کی اجازت

Source: S.O. News Service | Published on 31st August 2021, 11:07 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،31؍اگست (ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے آج شام اعلان کیا ہے کہ 6ویں تا8ویں جماعت کلاسوں کا آغاز 6ستمبر سے ہوجائے گا۔اس سے قبل 9ویں تا 12ویں جماعت کے لئے کلاسوں کاآغاز کرنے کے فیصلہ کی کامیابی کے بعد اب حکومت نے 6ویں تا 8ویں جماعت کے لئے بھی6ستمبر سے کلاسوں کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بسواراج بومئی کی صدارت میں آج شام منعقدہ ماہرین اور متعلقہ افسروں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے مالگزاری آر اشوک نے کہا کہ جن تعلقہ جات میں کووڈ پازیٹی وٹی کی شرح 2فیصد سے بھی کم ہے وہاں 6ویں تا8ویں جماعت آف لائن کلاسوں کو کووڈ گائیڈ لائنس پر سختی سے عمل کے ساتھ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کلاسس متبادل دنوں میں ہوں گے اور 50فیصد طلبا کو کسی ایک دن کلاس میں حاضر ہونے کی اجازت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 9تا 12ویں جماعت کے لئے کلاسوں کو شروع کرنے کا ردعمل مثبت رہا۔حالانکہ سرکاری اسکولوں میں طلبا کی حاضری زیادہ ہے۔جبکہ نجی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد ابھی کم ہے۔اشوک نے بتایا کہ ریاست میں 2,912 گرام پنچایتیں ایسی ہیں جہاں کورونا پازیٹی وٹی شرح صفر فیصد ہے۔ان گرام پنچایتوں کے علاوہ بنگلورو میں بھی 6ویں تا 8ویں جماعت کلاس شروع کی جائیں گی۔یہاں کورونا پازیٹی وٹی شرح 2فیصد سے کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ بچوں کے 6,472 نمونے وصول کئے گئے جن میں سے صرف 14بچے متاثر ہیں۔اس سے صاف اشارہ مل رہاہے کہ بچوں میں پازیٹی وٹی شرح بہت کم ہے۔اشوک نے بتایا کہ اس مرحلہ پر دیگر کلاسوں کو شروع کرنے کا فیصلہ کرنا کافی مشکل مرحلہ ہے۔کہاجارہا ہے کہ پہلی تا 5ویں جماعت کے لئے کلاسوں کو شروع کرنے کا فیصلہ ایک مہینہ بعد کیا جائے گا۔

ادارتی کوارنٹائن: اشوک نے بتایا کہ پڑوسی ریاست کیرلا جہاں کورونا پازیٹی وٹی شرح 19فیصد سے زیادہ ہے وہاں سے کرناٹک آنے والوں کے لئے 7دنوں کاادارتی کوارنٹائن لازمی کرنے کا ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔کیرلا سے آنے والوں کا کووڈٹسٹ بھی کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کیرلا میں روزانہ 30ہزارکورونا کے تازہ معاملات کا اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے چار اضلاع میں ویک ینڈ کرفیو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔جن کے نام یہ ہیں۔جنوبی کنڑا، اڈوپی، ہاسن اور کوڈگو۔ انہوں نے بتایا کہ رات کا کرفیو کا مطلب تمام اضلاع میں نافذہے۔

گنیش تہوار منانے نرمی: اس سے قبل یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گنیش تہوار عوامی سطح پر منانے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن دائیں ونگ گروپس اور پارٹی لیڈروں کی جانب سے وزیراعلیٰ بومئی پر دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے پچھلے فیصلہ کوموقف کردیا گیا ہے اور پابندیوں میں نرمی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اشوک نے بتایا کہ حالانکہ دباؤ کی وجہ سے گنیش تہوار منانے کے لئے نرمی دی گئی ہے لیکن اس دوران بھی پورا احتیاط برتنا ہوگا۔پڑوسی ریاستوں مہاراشٹرا اور کیرلا میں کورونا کی تیسری لہر عروج پر ہے اور متاثرین کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔گنیش کی بڑے تقاریب کا اہتمام کرنے والے آرگنائزرس کو ضروری ہدایات کی بنیاد پر تقاریب کی اجازت دینے تمام ڈپٹی کمشنروں اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو ہدایت دی گئی ہے۔اشوک نے بتایا کہ ریاست میں 30ایسے مقامات ہیں جہاں گنیش تہوار اعلیٰ پیانے پر منایا جاتا ہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ گنیش تہوار کے موقع پر نرمی دینے اور یہ تہوار منانے کی اجازت دینے کی درخواست کرتے ہوئے تہوار کے کئی آرگنائزرس اور منتخب نمائندوں نے عرضداشت پیش کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کیرلا میں اونم کے لئے ڈھیل دی گئی تھی۔نتیجہ کووڈ معاملات میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک اور اجلاس طلب کرے گی جس میں گائیڈ لائنس میں نرمی دینے پر بات چیت کی جائے گی۔ان تمام حقائق کی روشنی میں وزیراعلیٰ 5ستمبر کو کووڈ گائیڈ لائنس نرمی دینے کا فیصلہ کریں گے۔

شادی بیاہ کی اجازت: حکومت نے کنونشن سنٹروں اور شادی محلوں میں شادیوں اور دیگر تقریبات 50فیصد گنجائش یا 400لوگوں کے ساتھ منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔بڑے ہالوں میں صرف 400 مہمانوں کے اکٹھا ہونے کی اجازت ہے جبکہ چھوٹے ہالوں میں گنجائش سے صرف 50فیصد مہمانوں کے اکٹھا ہونے کی اجازت ہے۔ اشوک نے بتایا کہ شادی محلوں کے لئے کووڈ ضابطوں میں نرمی دینے کنونشن سنٹروں کے کئی مالکوں نے وزیراعلیٰ کو عرضیاں پیش کی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو: محض 3 سال میں جھکی پولیس رہائش گاہ کی عمارت، 32 خاندانوں کو محفوظ نکالاگیا

بنگلورو میں پولیس کی رہائش کیلئے بنائی گئی عمارت صرف تین سالوں میں خستہ حالت میں پہنچ گئی ہے۔ صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ تہہ خانے میں کئی دراڑیں آ گئی ہیں اور عمارت نے ایک طرف جھکاؤ بھی شروع کر دیا ہے۔

بی جے پی کی مدد کرنے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے: ضمیر احمد خان 

رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے جے ڈی ایس  پر الزام لگایا ہے کہ 30 ؍ اکتوبر کو سندگی ہانگل اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کے مقصد سے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

کلبرگی کے چنچولی میں زلزلوں کے جھٹکوں سے خوفزدہ لوگ گاؤں چھوڑنے پر مجبور۔شمالی کرناٹک میں زلزلوں کی وجہ ’’ہائیڈرو سسمسیٹی‘‘، این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں انکشاف

شمالی کنڑا کے بیدر اور کلبرگی ضلع میں سلسلہ وار زلزلے درحقیقت ’’ہائیڈ رو سسمسیٹی‘‘ ( زمین کے اندر پانی کے دباؤ کاعمل  ) کا معاملہ ہے جو مانسون کے بعد ہوتا ہے ۔ یہ انکشاف این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں ہوا ہے ۔

آئی ٹی کے دھاوے سیاسی تھے، کانگریس کے ساتھ کام کرنے پر نشانہ بنایا گیا ؛ انتخابی مہم کی کمپنی کا دعویٰ

بنگلورو میں محکمہ آئی ٹی کی جانب سے جس ڈیزائن با کسڈ‘‘ نامی کمپنی پر حال ہی میں دھاوا کیا ، اس کے منیجنگ ڈائرکٹر نریش اروڑا نے مرکزی محکمہ کو نشانہ بناتے ہوئے  کہا کہ یہ دھاوے واضح طور پر سیاسی تھے اور آئی ٹی عہد یداروں کو دھاوؤں کے دوران کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔