کورونا نے کرناٹک میں ڈھایا زبردست قہر؛ ایک ہی دن ریکارڈ توڑ 918 معاملات؛ صرف بنگلور میں ہی 596 کیسس، بھٹکل میں احتیاطی اقدامات

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 28th June 2020, 1:13 AM | ریاستی خبریں |

بھٹکل 27/جون (ایس او نیوز)  کورونا نے آج سنیچر کو کرناٹک میں زبردست قہربرپا کردیا  ہے کیونکہ  پچھلے چوبیس گھنٹوں میں  ریاست میں ریکارڈ توڑ 918 نئے کورونا  معاملات سامنے آئے ہیں  جس کے ساتھ ہی  ریاست میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد  بڑھتے ہوئے  11,923کو پہنچ گئی ہے۔ آج بنگلور میں  بھی سب سے زیادہ  معاملات سامنے آئے  جس کے ساتھ ہی بنگلور ریاست بھر میں کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بن گیا ہے۔یہاں آج ایک ہی دن میں  596 معاملات سامنے آئے ہیں۔ بنگلور میں کورونا کے بڑھتے معاملات پر اب بھٹکل میں بھی احتیاطی تدابیر پر غور کیا جارہا ہے اور بنگلور سے بھٹکل آنے والی بسوں  سے کہا گیا ہے کہ وہ مسافروں کو لے کر  سیدھے سرکاری اسپتال پہنچے اور تمام مسافروں کے نام درج کرائیں۔

پچھلے چوبیس گھنٹوں میں  ریاست کے مختلف حصوں  میں کورونا سے گیارہ لوگوں کی جانیں بھی گئی ہیں جس کےساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ کر 191 ہوگئی ہے۔ جس میں صرف بنگلور سے ہی 84 لوگ ہیں۔

ہیلتھ بلٹین کے مطابق اب تک  کرناٹک میں  11,923 لوگوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آئی ہے جس میں سے اب تک  7,287 صحت یاب ہوکر اسپتالوں سے ڈسچارج بھی ہوچکے ہیں، جبکہ 4,441 لوگ مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

بنگلور میں 596 کورونا معاملات کے بعد دوسرے نمبر پر آج دکشن کنڑا ہے جہاں 49 کیسس پوزیٹیو آئے ہیں، کلبرگی میں 33، بلاری اور گدگ میں 24، دھارواڑ میں 19، بیدر میں 17 اور اُڈپی، ہاسن اور کولار میں 14، 14 معاملات سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح آج بعض اضلاع کے اسپتالوں سے لوگ ڈسچارج بھی ہوئے ہیں بلٹین کے مطابق جملہ 371 لوگ آج ڈسچارج ہوئے ہیں  جس میں  یادگیر سے 102، بلاری اور بیدر سے 60، 60 اور رائچور سے 24 شامل ہیں۔ 

آج جن گیارہ لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، اُس میں بنگلور اور بیدر سے تین تین ،  گلبرگہ میں دو اور گدگ، بلاری اور دھارواڑ سے  ایک ایک  کی موت شامل ہیں۔

آج بہت  زیادہ تعداد میں کورونا کے معاملات سامنے آنے کی وجہ سے ہیلتھ بلٹین میں محکمہ ہیلتھ نے لوگوں میں کورونا  کے اثرات پائے جانے کا  ذریعہ ہی   درج نہیں کیا ہے، یاد رہے کہ گذشتہ دو تین دنوں سے بنگلور میں  کورونا کے جو معاملات سامنے آرہے تھے، اُن کو لے کر  محکمہ ہیلتھ کے افسران کافی پریشان تھے کیونکہ اُن میں اکثر لوگوں میں کورونا کے داخل ہونے کا ذریعہ نہیں مل پارہا تھا۔

ریاست میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے   وزیر اعلیٰ یڈی یورپا نے آئندہ ہفتہ سے ہر اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ 29 جون سے  رات کے کرفیو میں بھی تبدیلی کی جارہی ہے، بتایا جارہا ہے کہ اب رات نو بجےکے بجائے رات آٹھ بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

بنگلور میں سب سے زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے کی وجہ سے اب بنگلور سے بھٹکل پہنچنے والی بسوں کو سرکاری اسپتال کے  باہر  لاکھڑا کرنے کے احکامات بھی دئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ بنگلور سے بھٹکل پہنچنے والے تمام مسافروں کو سرکاری اسپتال میں اپنے نام لکھوانے ہوں گے اور ہر ایک کی تھرمل اسکیننگ کی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا سے متاثر ہو کرمرنے والوں کی تدفین میں رکاوٹ درست نہیں، لاک ڈاؤن ہو یا نہ ہو اپنے آپ احتیاط برت کر وائرس سے بچنے کی کوشش کریں: ضمیر احمد خان

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں جس طرح کا بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے اس مہلک وباء کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ اس وباء کا شکار ہو کر مرنے والے افراد کی تدفین اور دیگر آخری رسومات کے لئے عالمی صحت تنظیم کی طرف سے جو ...

کوروناروک تھام اورکووڈطبی آلات کی خریداری میں 2,200کروڑروپے کا غبن

عالمی وباکوروناوائر س کی روک تھام اورمتاثرین کے علاج ومعالجہ کے لیے درکارطبی آلات کی خریداری میں 2,200کروڑروپے کابڑامالی گھوٹالہ ہواہے۔یہ گمبھیرالزام اپوزیشن لیڈروسابق وزیراعلیٰ سدارامیا نے عائدکیاہے۔

کوروناکاقہر جاری،کرناٹک میں ایک ہی دن 21اموات، 24گھنٹوں کے دوران بنگلورومیں 994سمیت جملہ 1694کووڈکاشکار

ریاست میں آج ایک ہی دن کوروناوائرس کی زدمیں آکر21مریض ہلاک ہوگئے جبکہ 1694 کووڈمعاملات کا پتہ چلاہے۔ کرناٹک میں بھی کوروناوائر س کاخوفناک پھیلاؤ رکنے اورتھمنے کا نام نہیں لے رہاہے،ہرگزرتے لمحے اوردن کے ساتھ کوروناوائرس کے نئے معاملات میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے،