5؍ دسمبر کو کرناٹک بند یقینی، کنڑا نواز تنظیموں کی بھر پور حمایت ، مراٹھا ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے قیام کی تجویز واپس نہ لینے پر یکم دسمبر کو وزیر اعلیٰ کے گھر کا گھیراؤ

Source: S.O. News Service | Published on 21st November 2020, 11:36 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،21؍نومبر(ایس او نیوز) کنڑا باشندوں کے مفادوات کو کسی بھی حال میں قربان کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ ہم بتائیں کے کہ ہماری طاقت کیا ہے۔ 5؍دسمبر کو کل کرناٹک بند کامیاب کرکے ہم حکومت کو صحیح جواب دیں گے۔ ریاست کے ہزاروں کنڑا نواز تنظیموں نے بند کی حمایت  کا اعلان کیاہے، مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی قیام کی تجویز واپس لینا پڑے گا۔ 5؍ دسمبر کو کرناٹک بند کامیاب رہے گا۔

کنڑا تنظیموں کی میٹنگ کے بعد واٹال ناگراج نے  یہ اعلان کیا ہے کہ کنڑا چلولی پکشا کے صدر وٹال ناگراج، ڈاکٹر راج کمار، بینک اسو سی ایشن کے صدر سارا گوند، کنڑا سینا کے صدر کمار کنڑا رکشنا ویدیکے کے صدر شیورام گوڑا، پروین کمار شیٹی، کنڑا جاگرتی ویدیکے کے لیڈر منجو دیبو، ہرشی گوڑا سمیت مختلف کنڑا نواز تنظیموں کے لیڈروں ، کسان تنظیموں کے قائدین، مصنفین، کنڑا کارکنان اور ترقی پسند لیڈروں نے آج میٹنگ منعقد کر کے مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کے حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کی اور فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

لیڈران نے کہا کہ 5 دسمبر کو ہم اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔کنڑا مخالف رویہ اپنانے والے وزیر اعلیٰ یڈیورپا کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے۔ 5؍دسمبرکو کرناٹک بند کامیاب کرنے کے لئے ایک ہزار سے کنڑا نواز تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ہفتے کے دن سے مختلف اضلاع میں احتجاج کرنے کی بیداری لائی جائے گی۔

 کنڑا چلولی لیڈر واٹال ناگراج نے کہا کہ ہفتے کے دن اتی بیلے سرحد پر کنڑا تنظیموں کی طرف سے احتجاج ہوگا۔ اتوار کو رام نگر، 23؍ نومبر بلاری، 24 نومبر کوپل میں اتحادی تنظیموں کی طرف سے مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تجویز واپس لئے جانے کے مطالبے میں احتجاج ہوگا۔ بلگاوی، ہبلی میں بھی میٹنگ منعقد کر کے احتجا ج کے لئے حمایت طلب کی جائےگا۔ ریاست بھر میں حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ پہلے ہی کسان تنظیموں ، لاری ماللکین اسوسی ایشن، آٹو ڈرائیور اسوسی ایشن ، سینکڑوں تنظیموں نے بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے حکومت کو فوراً اپنا فیصلہ بدلنا ہوگا۔

واٹال ناگراج نے مزید کہا کہ تمل آبادی کو خوش کرنے کے لئے تروولوور کا مجمسہ بنایا گیا ، اب ضمنی انتخابات میں مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کر کے یڈیورپا نے کنڑا مخالف روش اختیار کی ہے۔ تلگو، ملیالم، گجراتی اور تمام طبقات کے لئے بورڈ اتھارٹی اور کارپوریشن قائم کرنے کے لئے حکومت چلی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو ریاست  میں کنڑا پاشندے اقلیت میں آجائیں گے۔ ہم 30 نومبر تک انتظار کرے گے، اگر وزیر اعلیٰ نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا تو یکم دسمبر کو وزیر اعلیٰ کے گھر کا گھیراؤ کریں گے اور سرحد بند کریں گے۔ 5؍سمبر کی صبح 6:00 تا شام 6:00 بجے کرناٹک بند ہوگا۔ یہ بند کرناٹک شاہیتہ پریشد کی طرف سے منعقد کرنا چاہئے تھا، لیکن کرناٹک شاہیتہ پریشد بالکل غیر فعال ہوگیا ہے۔ سال میں ایک بار شاہیتہ سملین منعقد کر کے ضیافت کی جاتی ہے۔ بس یہی اس کا کام رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر راج کمار فینس اسوسی ایشن کے صدر سارا گوندا نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ یڈیورپا نے کنڑا راجیہ اتسوا کے موقع پر کہا تھا کہ اس سال کو کنڑا زبان کی ترقی کے سال کے طور پر منایا جائے گا۔ کنڑا کی ترقی کے لئے مختلف پروگرام نافذ کئے جائیں گے۔ اس طرح کا اعلان کرنے کے بعد اب انہوں نے مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لئے صرف 5 کروڑ روپئے فنڈ دیا گیا ہے۔ لیکن مراٹھا ڈپولپمنٹ اٹھارٹی کے لے 50 کروڑ روپئے کا اعلان کیا ہے، بلگاوی کے ایم ای ایس سرپسندوں نے کنڑا باشندوں پر ظلم کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا کی مملکیت قرار دے رہے ہیں۔ سرحدی تنازعہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ کنڑا باشندوں کے تحمل کا امتحان لے رہے ہیں۔ مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بنائی گئی تو صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔

بلگاوی ، بسواکلیان ضمنی انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیاسی اغراض کے لئے کنڑا کے مفادات کو قربان کیا جارہا ہے ۔ اس کے خلاف ہمارا احتجاج مسلسل جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ کہہ رہے ہیں کنڑا نواز تحریک کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، اس طرح کا بیان آج تک کسی بھی وزیر اعلیٰ نے نہیں دیا تھا ۔صرف اتنا کہا تھا کہ احتجاج  پرامن رہے ، مراٹھا عوام راجیہ اتسوا کو سیاہ دن کے طور پر مناتے ہیں ، ان کے خلاف آپ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ گوکاک تحریک کی یاد میں نائب وزیر اعلیٰ اشوتھ نارائن نے ہمیں تہینت پیش کی۔ اب وہ مراٹھا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کو درست فیصلہ کہہ رہے ہیں یہ بات ان کے لئے بہت ہی باعث شرم ہے۔ ہمیں اقتدار کی ضرورت نہیں ، ہم ہمیشہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں، آپ چاہیں تو ہمیں جیل بھیج دیں ۔ وزیر اعلیٰ نے مصنفین ، ادیبوں ، مفکروں، کسی کی بھی رائے نہیں پوچھی ، صرف ایک ضمنی انتخابات جیتنے کے لئے اس طرح کا فیصلہ کرنا کنڑا مخالفت کے برابر ہے۔ ہماری درمیان کوئی بھی دراڑ  نہیں  ہے۔نارائن گوڑا ، جئے کرناٹک تنظیم نے بند کی حمایت کی ہے، کنڑا باشندے رضا کارانہ طور پر بند میں شامل ہوں گے۔

 اس موقع پر مکھیہ منتری چندرو نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھا ڈیولپمنٹ اٹھارٹی قائم کرنے کا کس نے مطالبہ کیا تھا؟ کنڑا ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے لئے 5 کروڑ روپئے کی مانگ پر 2 کروڑ روپئے دینے والی حکومت مراٹھا ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے لے 50 کروڑ دے رہی ہے۔ سرحدی ترقیاتی اتھارتی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہوا؟ کچھ بھی معلوم نہیں ، کسان تنظیموں کے لیڈروں نے بھی کرناٹک بند کی حمایت کا اعلان کیاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

انکولہ ہوائی اڈہ پروجیکٹ: مقامی عوام کے ساتھ میٹنگ میں پروجیکٹ پرسخت  اعتراض؛ میٹنگ کا کیابائیکاٹ 

انکولہ میں مجوزہ شہری ہوائی اڈے کی تعمیر کے سلسلے میں درپیش تحویل اراضی اور دیگر مسائل پر مقامی عوام کے ساتھ گفتگو کرنے اور ان کا احوال سننے کےلئے  ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرایچ کے کرشن مورتی نے بیلے کیری میں  ایک میٹنگ منعقد کی۔

روشن بیگ کے گھر پرسی بی آئی کا چھاپہ، سابق وزیر کی عرضی ضمانت پر سماعت 25نومبر تک ملتوی

آئی ایم اے کیس کے سلسلہ میں اتوار کے روز سی بی آئی کی طرف سے گرفتار سابق وزیر روشن بیگ کی رہائش گاہ پر پیر کی صبح سی بی آئی افسروں نے چھاپہ مارا اور وہاں کافی دیر تک تلاشی لینے کے بعد لوٹ گئی۔

ریاست کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں میں نئے اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا

است کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں، آر آر نگر اور سرا میں حال ہی میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے منی رتنا اور ڈاکٹر راجیش گوڑا نے اراکین اسمبلی کی حیثیت سے حلف لیا۔ ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں اسمبلی اسپیکر ویشویشور کاگیری نے دونوں نئے ...

ڈاکٹر کے نارائن راجیہ سبھا کے لئے بلامقابلہ منتخب

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر ڈاکٹر کے۔ نارائن پیر کے روز راجیہ سبھا میں بلامقابلہ منتخب قرار دیئے گئے۔ریاستی سکریٹریٹ ودھان سودھا کے سکریٹری وشالکمشی نے ڈاکٹر نارائن کو راجیہ سبھا کے لئے بلامقابلہ منتخب قرار دیا۔