کرناٹک میں انسداد تبدیلی مذہب قانون لانے کا منصوبہ ، جبراً یا لالچ دلاکر مذہب بدلنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا: اسمبلی میں وزیر داخلہ کا اعلان

Source: S.O. News Service | Published on 22nd September 2021, 10:24 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،22؍ستمبر(ایس او  نیوز)کرنا ٹک کی بی جے پی حکومت اُتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ریاست میں بھی تبدیلی مذہب کو روکنے کے لئے ایک قانون لانے پر غور کر رہی ہے- یہ بات وزیر داخلہ ارگا گیانیندرا نے ریاستی اسمبلی میں صفر ساعت کے دوران کہی-

بی جے پی رکن اسمبلی گولی ہٹی چندرشیکھر نے ان کے ضلع اورحلقہ میں عیسائی مشنریوں کی طرف سے تبدیلی مذہب کی مہم چلائے جانے کی شکایت کی اور کہا کہ جبراً یا لالچ دے کر لوگوں کے مذہب بدلے جا رہے ہیں، اس کو روکنے کے لئے فوری طور پر قدم اٹھانے کا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تو اس کے جواب میں ارگا گیانیندرا نے اعلان کیا کہ کرناٹک میں انسداد تبدیلی مذہب قانون لایا جائے گا -

گولی ہٹی چندرا شیکھر نے کہا کہ خود ان کا خاندان تبدیلی مذہب کا شکار ہو چکا ہے اور ان کی ماں کے مذہب کو بدل دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے خاندان میں انتشار پھیلا ہوا ہے - گولی ہٹی نے دعویٰ کیا کہ چترا درگہ ضلع میں 20ہزار سے زیادہ لوگوں کا مذہب بدل دیا گیا ہے - انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ تبدیلی مذہب کے لئے راضی نہیں ہو تے ان پر جبرکیا جا رہا ہے اور ان کو ہراساں کرنے کے لئے ان پر عصمت دری کے فرضی کیس درج کروانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں - اس مرحلہ میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست یا ملک میں کہیں بھی جبراً مذہب بدلنے کی اجازت کسی کو نہیں ہے - اسی طرح لالچ دے کر مذہب بدلنے کی بھی قانون میں گنجائش نہیں -

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے تمام اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو ہدایت دی ہے کہ جبراً یا لالچ دے کر مذہب بدلنے کی کوششوں کو روکنے کے لئے ضروری قدم اٹھائے جائیں -وزیر داخلہ نے کہا کہ لوگوں کے بھولے پن یا دیگر مواقع کا استعمال کرتے ہوئے اگر ان کے مذہب کو بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور تنظیموں کوبخشا نہیں جائے گا - انہوں نے کہا کہ جبراً مذہب بدلنے کی کوششوں سے امن و امان میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے، اس لئے حکومت اس کا موقع فراہم کرنا نہیں چاہتی - حکومت تبدیلی مذہب کو روکنے کے لئے مناسب قانون لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے -

وزیر داخلہ نے کہا کہ لالچ دے کر لوگوں کو مذہب بدلنے پر آمادہ کرنے کے لئے ریاست میں ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور حکومت اس سے بخوبی واقف ہے -انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں جبراً مذہب بدلے جانے کو روکنے کا قانون بنا ہے، اس کا ریاستی حکومت جائزہ لے رہی ہے - موجودہ قوانین کے تحت اگر ممکن ہو سکا تو اس کو روکا جائے گا یا ایک نیاقانون لایا جائے گا- اس مرحلہ میں جے ڈی ایس رکن دیوآنند نے کہا کہ بیجاپور ضلع میں بھی بڑے پیمانے پر مذہب بدلنے کی سرگرمی جاری ہے - بنجارا قبیلوں کے لوگوں کو چن چن کر عیسائی بنایا جارہا ہے -اس مرحلہ میں تمام گرجا گھروں کو تبدیلی مذہب کا مرتکب قرار دینے بی جے پی رکن اسمبلی گولی ہٹی شیکھر کی کوشش پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ممبر کے جے جارج نے کہا کہ تمام گرجا گھروں پر الزام لگانا درست نہیں - جو جبراً یا لالچ دے کر مذہب بدل رہے ہیں، ان کی نشاندہی کر کے کارروائی کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں -کسی ایک چرچ کی غلطی کے لئے تمام پر کیچڑ اچھالنا درست نہیں - وزیر داخلہ اور اسمبلی اسپیکر وشویشور ہیگڑے کاگیری نے اس سے اتفاق کیا-

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا کے وزیرا علیٰ کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کےخلاف ریاست بھر میں احتجاج : بنگلور میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں وزیراعلیٰ اورہوم منسٹر کو دستور کی یاد دھانی کرائی گئی

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی کے عمل کا ردعمل والے غیر ذمہ دارانہ بیان کے خلاف بنگلور کے میسور بینک سرکل پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے مظاہرہ کیا گیا تو وہیں مختلف اضلاع میں کمشنروں کو میمورنڈم دیتےہوئے وزیر اعلیٰ کو اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔