کرناٹک کے بعض اضلاع میں این آر سی کے نفاذ کی مخالفت شروع، دکشن کنڑا کے ترقی پسندوں کی بائیکاٹ کرنے کی دھمکی، حکومت کے رویہ کی مذمت

Source: S.O. News Service | Published on 7th October 2019, 5:55 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

مینگلور 7؍اکتوبر (ایجنسی/ایس او نیوز) آسام کے طرز پر کرناٹک میں بھی این آر سی نافذ کرنے کا ریاستی حکومت کا اعلان ریاست  کرناٹک  کے بعض اضلاع میں شدید مزاحمت کا سبب بن گیا ہے خاص طور پر دکشن کنڑا ضلع میں لوگوں نے ریاستی حکومت کی اس تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے عوام کی مرضی کے خلاف ایسا کوئی عمل شروع کیا جاتا ہے تو ضلع میں ریاستی حکومت کے خلاف تحریک عدم تعاون شروع کی جائے گی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ این آر سی کے تحت اندراج شروع کئے جانے کی صورت میں وہ اپنی دستاویزات پیش نہ کر کے اس مہم کا بائیکاٹ کریں گے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ضلع کے لوگوں نے این آر سی کی مخالفت کے لئے سوشیل میڈیا کا راستہ اپنا کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل صرف ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنانے کے لئے کیا جارہا ہے، اس سے ملک کی شہریت کا کچھ لینا دینا نہیں بلکہ اس کے ذریعہ ایک فرقہ کو پریشان کرنا ہی مقصود ہے۔ مخالفت کرنے والوں میں مجاہدین آزادی کے خاندانوں سے وابستہ لوگ بھی شامل ہیں۔ دکشن کنڑا کی مختلف ترقی پسند تنظیموں نے این آر سی کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اندراج کے وقت دستاویزات نہ دے کر و ہ اس کے خلاف اپنا احتجاج درج کریں گے۔

حال ہی میں سرکاری ملازمت کو خیر باد کہنے والے آئی اے ایس آفسر  کنن گوپی ناتھن نے این آر سی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندوستانی کو بار بار اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت یا مجبوری نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا کوئی شہری ملک کا بنیادی باشندہ نہیں سوائے جنوبی ہند میں بسنےوالے ڈراوڈ  باشندوں کے۔

 تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ملک میں اونچ نیچ  کا نظام رائج کرنے والے آریہ کہیں دوروسط ایشیا سے ہندوستان آئے اوراونچ نیچ کا نظام اس ملک میں رائج کر کے ان لوگوں نے ہزاروں سال تک ملک کے بنیادی پاشندوں کو روندا ہے اور اب بھی اپنا ظلم برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ کنن نے کہا کہ ان کے ساتھ اور بھی بہت سارے ترقی پسند ہیں جو این آر سی کے سخت خلاف ہیں وہ اس عمل میں حصہ نہیں لیں گے۔ اسی طرح ایک اور مجاہد آزادی بی وی ککی لایا کے فرزند سری نیواس ککی لایا نے کہا ہے کہ وہ این آر سی کے سخت خلاف ہیں، وہ این آرسی کے مرحلے میں اپنی دستاویزات حکومت کو نہیں دیں گے ، اگر حکومت چاہے تو ان کو ملک سے باہر نکال دے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ہوسکتا ہے کہ کچھ ہزار یا زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ غیر ملکی باشندے مقیم ہوں گے، ان میں ایک لاکھ لوگوں کی نشاندہی کے لئے حکومت ریاست کے 6.5 کروڑ باشندوں کو ہراساں کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کے بہانے ریاستی حکومت مرکزی حکومت کی ایماء  پر ریاست کے شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کرناٹک کسی پڑوسی ملک بنگلہ دیش، چین یا پاکستان کی سرحد سے جڑا ہوا ہوتا  اور این آر سی لاگو کیا جاتا تو ٹھیک تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا بنگلہ دیش، پاکستان یا چین سے کتنے باشندے  کرناٹک میں داخل ہوئے ہوں گے ان کی نشاندہی کرنا کیا حکومت کے بس میں نہیں ؟   اگر ہے  تو پھر کیوں ریاست کی مکمل آبادی کو ہراساں کیا جارہا ہے ؟

ایک نظر اس پر بھی

منڈگوڈ کے جنگلات سے صندل لکڑی کی چوری : چار گرفتار ،بی جےپی لیڈر سے بھی پوچھ تاچھ

تعلقہ کے کُرلی جنگلات سے دو صندل کے درختوں کو کاٹ کر غیرقانونی سپلائی کرنے  کے الزام میں فاریسٹ افسران نے چار ملزموں کو گرفتار کرتے ہوئے بائک اور صندل لکڑی کو ضبط کرلینےکا واقعہ پیش آیا ہے ۔

کمٹہ میں ریوینیو منسٹر آر اشوک کے ہاتھوں رکھاگیا مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیاد۔ طلبہ کودیا حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپ کا تحفہ

محکمہ ریوینیو کے وزیر آر اشوک کے ہاتھوں کمٹہ میں مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیا درکھا گیا۔اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی باز آبادکاری کے ایک مرکز کا بھی افتتاح کیا۔ اس تعلق سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیلاب زدگان کے لئے مکانات کی تعمیر کے مقصدسے فی ...

کیرالہ میں آر ایس ایس کارکن گرفتار، پوچھ تاچھ میں ہوئے حیرت انگیز انکشافات

پڑوسی ریاست کیرالہ  کے کنور میں آر ایس ایس دفتر کے پاس واقع پولس پوسٹ پر بم پھینکے جانے کے الزام میں پولس نے آر ایس ایس کارکن کو گرفتار کرنے کی خبر موصول ہوئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تمل ناڈو کے کوئمبٹور سے آر ایس ایس کا یہ ورکر بدھ کے روز گرفتار ہوا جس کے بعد اس سے سختی کے ...

ہندوتوا کارکنوں پر درج ہوئے مقدمات بی جےپی حکومت واپس لے گی : وزیر کے ایس ایشورپا

موجودہ ریاستی بی جے پی کی حکومت ہندوتوا تنظیموں کے کارکنانوں پر دائر ہوئے مقدمات کو واپس لینےکی تیاری  میں ہے ، اس سلسلےمیں ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا نے سرسی میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ پچھلی سرکار ہندوتوا تنظیموں کے کارکنوں پر بے وجہ در ج کئے مقدمات کو بی جے پی حکومت واپس لے گی، ...

بھٹکل سرکاری محکمہ جات کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ لے کر رکن اسمبلی کا وزیر تحصیل کو میمورنڈم

محکمہ تحصیل میں کئی سارے مسائل فائلوں کی دھول چاٹ رہے ہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اس سلسلے میں حل کے لئے کارروائی کامطالبہ لےکر بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے بدھ کو وزیر برائے تحصیل آر اشوک کو میمورنڈم سونپا۔

کمٹہ میں ریوینیو منسٹر آر اشوک کے ہاتھوں رکھاگیا مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیاد۔ طلبہ کودیا حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپ کا تحفہ

محکمہ ریوینیو کے وزیر آر اشوک کے ہاتھوں کمٹہ میں مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیا درکھا گیا۔اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی باز آبادکاری کے ایک مرکز کا بھی افتتاح کیا۔ اس تعلق سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیلاب زدگان کے لئے مکانات کی تعمیر کے مقصدسے فی ...

وقف بورڈ چیر مین کے انتخاب سے عین قبل ریاستی بی جے پی حکومت کی شرارت، راتوں رات ضلع وقف کمیٹیاں برخاست اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل

ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کو کھوکھلا کرنے اور اس کے امور میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے راتوں رات 25ضلعی وقف کمیٹیوں کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ نئی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے حکم نامہ جاری کرنے کا تنازع سامنے آیا ہے۔

منگلوروایئرپورٹ بم معاملہ: کمارا سوامی اور بی جے پی کے درمیان جاری ہے زبانی بمباری  

ایک طرف منگلورو ایئر پورٹ پر دھماکہ خیز مادہ (آئی ای ڈی) رکھنے والا ملزم آدتیہ راؤنے بنگلورو میں پولیس کے سامنے خودسپردگی کی ہے اور اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ جس کے بعد اسے گرفتار کرکے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔دوسری طرف اس معاملے پر سابق وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ کمارا سوامی اور بی جے پی ...

شہریت قانون کے خلاف احتجاج کاردعمل، بنگلورو میں بچوں سمیت48افراد پر ایف آئی آر درج

بنگلورو شہر میں پیر کے روز گنگونڈنا ہلی میں شہر یت قانون کے خلاف احتجاج کو پولس کی طرف سے اجازت دینے اور بعد میں اسے منسوخ کردینے کے بعد بھی جلسہ کے اہتمام پر طیش میں آکر چندرا لے آؤٹ پولس نے 48افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے جن میں چند بچے بھی ہیں۔