این آر سی نافذ ہونے سے پہلے مسلمان اپنے شناختی دستاویز کو درست کروالیں!این آر سی کا اصل نشانہ مسلمان ہیں: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

Source: S.O. News Service | Published on 8th October 2019, 11:23 AM | ریاستی خبریں |

 بنگلوو، 8/ اکتوبر (ایس او نیوز/محمد فرقان) جب سے موجودہ حکومت اقتدار کی کرسی پر بیٹھی ہے ہر آئے دن مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی کارروائی میں ملوث ہے۔کبھی شریعت میں مداخلت کی کوشش کی جارہی ہے تو کبھی طلاق کے نام پر سیاسی روٹیاں سیکیں جارہی ہیں۔حالیہ دنوں میں ملک میں این آر سی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔جسکا کا اصل نشانہ فقط مسلمان ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔

 شاہ ملت نے فرمایا کہ این آر سی یعنی شہریوں کا قومی اندراج ایک دستوری عمل ہے، جس کی شروعات آزادی کے بعد 1951 ء میں ہوگئی تھی۔ لیکن حکومت اسے عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔مولانا نے بتایا کہ سن 80 میں آسام میں یہ مسئلہ اٹھا کہ اس علاقے میں لاکھوں بنگلہ دیشی داخل ہوگئے ہیں۔جس کے نتیجے میں کئی سالوں کے بعد سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ این آر سی کو نافذ کیا جائے اور اس کا معیار یہ ہو کہ 1971ء سے پہلے سے جو لوگ ملک میں رہتے چلے آرہے ہیں، ان کو ملک کا شہری تسلیم کیا جائے۔ جو افراد بعد میں آئے ہیں وہ غیر ملکی قرار دیے جائیں۔

مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ این آر سی کہنے کو تو ایک دستوری عمل ہے، لیکن جس طریقے سے آسام میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے کے لیے اس ہتھیار کا استعمال کیا گیا وہ قابل افسوس ہے۔مولانا نے فرمایا کہ ملک کے وزیر داخلہ کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ این آر سی کا اصل نشانہ فقط مسلمان ہیں۔نیز اگر کسی کا نام این آر سی میں نہیں آیا اور وہ اپنی شہرت کو ثابت نہیں کرپایا تو اسے ڈٹینشن یا رفیجیو کیمپس میں ڈال دیا جائے گا۔جس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ وہ ووٹنگ کے حق سے تو محروم ہیں ہی، اپنے ہی مکانوں کے مالکانہ حق سے بھی محروم ہوں گے اور روہنگیا مسلمان کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جو انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ ہوگا۔مولانا نے ”سیٹیزن شپ امینڈمنٹ بل“کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق سیٹیزن شپ بل این آر سی کے قبل نافذ کیا جائے گا۔جس کی مدد سے جو کوئی بھی غیر مسلم اگر اپنے کو شہری ثابت نہیں کر پایا تو ملک میں سات سال رہنے کی بنیاد پر اس کو شہریت عطا کردی جائے گی۔ جس کے چلتے شاید بعض کمزور دل مسلمان اپنے آپکو ہندوستانی ثابت کرنے کیلئے مجبوراً اسلام ترک کرکے دوسرا مذہب بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ این آر سی نافذ ہونے سے پہلے اپنی تمام شناختی دستاویز مثلاً ووٹر ایڈی، آدھار کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، ہیلتھ کارڈ، زمینی کاغذات وغیرہ کو درست کروالیں۔نیز شاہ ملت نے ملی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر امت مسلمہ کی رہبری اور مدد کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

رام ہندوستان میں نہیں تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے تھے؛ گلبرگہ میں ایک بدھسٹ سنت کا دعویٰ

یہاں پرمنعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں معروف بدھسٹ سنت بھنتے آنند مہشتویرنائب صدر اکھل بھارتیہ بِکّو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ رام ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا جنم تھائی لینڈ میں ہوا تھا۔اور اس مسئلے پر وہ کسی کے ساتھ بھی کھلی بحث کرنے اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے تیار ...

شموگہ میں عشق ومحبت کی شادی کا المناک انجام۔ وہاٹس ایپ پر طلاق دئے جانے کے بعدڈی سی دفتر کے باہرمطلقہ خاتون کادھرنا؛ مسلم تنظیموں کو توجہ دینے کی ضرورت

عشق و محبت کے چکر میں مبتلا ہوکر جس لڑکے سے شادی کی تھی اسی نے وہاٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کردیا تو مطلقہ خاتون ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

عالمی یوم بنات کے موقع پر بنگلور کی اقرا اسکول کی نور عائشہ کا لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

عالمی یوم بنات کے موقع پر  اقرا انٹرنیشنل اسکول بنگلور کی بانی ڈائرکٹر نور عائشہ نے   معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت وہ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ کارڈف سے بزنس گریجویٹ نور ...

بنگلور میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام دلت-مسلم مذاکرہ میں سماجی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ دلت-مسلم مذاکرہ میں شریک مندوبین نے زمینی سطح پر سماجی اتحاد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھانے اور دلتوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا

این آر سی کے متعلق مسلمان پریشان کیوں نہ ہوں؟ امیت شاہ کا فرمان اور ریاستی وزیر داخلہ بومئی کا متضاد بیان- کسے مانیں کسے چھوڑیں؟

کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، ...

سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ کیلئے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری

ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون میں ترمیم کے بعد جاریہ تعلیمی سال اگرچہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کے معاملہ میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر محکمہ تعلیم اس اضافہ سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کہ یہ نتائج اس کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے ہیں،