بسواراج بومئی کا این آر سی پر بیان مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کی ناکام حکمت عملی:ایس ڈی پی آئی 

Source: S.O. News Service | Published on 7th October 2019, 5:57 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور و،7/اکتوبر (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے ریاستی صدر الیاس محمد نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ ریاستی وزیر داخلہ بسواراج بومئی کا یہ کہنا کہ کرناٹک میں جلد ہی این آر سی نافذ کیا جائے گا، مسلمانوں کو دھمکیاں دینے کی ایک ناکام حکمت عملی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں این آ ر سی کو بطور آلہ استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ ایک بدقسمتی کی بات ہے کہ شیطانی اور تفرقہ انگیز ذہنوں کے ہاتھوں ملک کی حکمرانی چلی گئی ہے جو عوام کی ترقی اور خوشحالی کے بارے میں سوچنے کے بجائے شہریوں کو ملک سے نکالنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ الیاس محمد نے مزید کہا ہے آر ایس ایس کے نسلی اور تفرقہ انگیز نظریات کو نافذ کرنے کی وجہ سے بی جے پی ہمارے ملک کی سا  لمیت، یکجہتی اور بقائے باہمی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مسلم کمیونٹی کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ آئین مخالف 'شہریت ترمیمی بل 'پیش کیا جائے گا اور اس پر عمل در آمد کیا جائے گا'۔ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر الیاس محمد نے اس بات پر زور دیکر کہا ہے کہ ایس ڈی پی آئی آئین سے محبت کرنے والے تمام سیکولر افراد کے ساتھ ملکر سنگھ پریوار کی سازش کو شکست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام این آر سی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے جو محض ایک ڈراؤنا کوا ہے۔ ایس ڈی پی آئی اسے پوری طرح مسترد کرتی ہے اور اس کا انکار کرتی ہے۔ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس طرح کے بیانات کے ذریعے عوا م کو گمراہ کررہی ہیں۔ کرناٹک میں سیلاب متاثرین جو اپنے مکانات اور املاک کھوچکے ہیں اور ان کو مدد کی اشد ضرورت ہے لیکن حکومت ان کی باز آبادکاری اور معاوضے کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ الیاس محمد نے کہا ہے کہ اس ملک کے عوام، انتہائی عوام دشمن حکمرانی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں لیکن امیت شاہ اور بسوارج بومئی عوام کی توجہ ہٹانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

رام ہندوستان میں نہیں تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے تھے؛ گلبرگہ میں ایک بدھسٹ سنت کا دعویٰ

یہاں پرمنعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں معروف بدھسٹ سنت بھنتے آنند مہشتویرنائب صدر اکھل بھارتیہ بِکّو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ رام ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا جنم تھائی لینڈ میں ہوا تھا۔اور اس مسئلے پر وہ کسی کے ساتھ بھی کھلی بحث کرنے اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے تیار ...

شموگہ میں عشق ومحبت کی شادی کا المناک انجام۔ وہاٹس ایپ پر طلاق دئے جانے کے بعدڈی سی دفتر کے باہرمطلقہ خاتون کادھرنا؛ مسلم تنظیموں کو توجہ دینے کی ضرورت

عشق و محبت کے چکر میں مبتلا ہوکر جس لڑکے سے شادی کی تھی اسی نے وہاٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کردیا تو مطلقہ خاتون ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

عالمی یوم بنات کے موقع پر بنگلور کی اقرا اسکول کی نور عائشہ کا لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

عالمی یوم بنات کے موقع پر  اقرا انٹرنیشنل اسکول بنگلور کی بانی ڈائرکٹر نور عائشہ نے   معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت وہ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ کارڈف سے بزنس گریجویٹ نور ...

بنگلور میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام دلت-مسلم مذاکرہ میں سماجی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ دلت-مسلم مذاکرہ میں شریک مندوبین نے زمینی سطح پر سماجی اتحاد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھانے اور دلتوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا

این آر سی کے متعلق مسلمان پریشان کیوں نہ ہوں؟ امیت شاہ کا فرمان اور ریاستی وزیر داخلہ بومئی کا متضاد بیان- کسے مانیں کسے چھوڑیں؟

کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، ...

سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ کیلئے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری

ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون میں ترمیم کے بعد جاریہ تعلیمی سال اگرچہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کے معاملہ میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر محکمہ تعلیم اس اضافہ سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کہ یہ نتائج اس کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے ہیں،