کرناٹک:مسلمانوں کو 2Bریزرویشن سے محروم کرنے کی منظم کوشش،سرکاری بھرتی کے نوٹی فکیشنوں سے 2Bزمرہ ندارد

Source: S.O. News Service | Published on 19th September 2021, 1:34 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،19؍ستمبر(ایس او نیوز) کرناٹک میں سرکاری ملازمتوں کیلئے بھرتی اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے داخلوں میں مسلمانوں کو 2Bزمرے کے تحت مخصوص ریزرویشن حاصل ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی موجودہ بی جے پی حکومت اس ریزرویشن کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اسی لئے سرکاری بھرتی کیلئے جاری ہونے والے نوٹی فکیشنوں میں 2Bزمرے کے تحت بھرتی کے قانونی تقاضہ کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔

ریاستی انتظامیہ کی طرف سے اس طرح کی پہلی لاپروائی کا معاملہ حال ہی میں ہمپی یونیورسٹی کیلئے عملہ کی بھرتی کے سلسلہ میں جاری نوٹی فکیشن سامنے آیا ہے جس میں صاف طور پر 2Bزمرے کے امیدواروں کی بھرتی کے قانونی تقاضہ کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2Bکے تحت مسلمانوں کو حاصل ریزرویشن کو خاموشی سے دبادینے کی سوچی سمجھی چال کے تحت اس طرح کی لاپروائی برتی گئی ہے۔ ریاست میں 1993کے دوران اس وقت کرناٹکا اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر کے رحمن خان کی سفارش پر اس وقت کی ویرپا موئیلی حکومت نے مسلمانوں کو 2Bزمرے کے تحت 4فیصد ریزرویشن دینے کی پہل کی لیکن بدلے ہوئے سیاسی حالات کے بعد جب دیوے گوڈا کی قیاد ت والی جنتادل حکومت نے ریاست میں اقتدار سنبھالا تو اس وقت اس ریزرویشن کو نافذ کیا اور اس وقت سے کرناٹک میں مسلمانوں کیلئے مخصوص 2Bزمرے کے تحت ریزرویشن دیا جا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کرناٹک میں ہمپی یونیورسٹی کیلئے ہونے والے کال فار میں 2Bکے ریزرویشن کو چھوڑدیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمپی یونیورسٹی کی سنڈکیٹ کے ممبر محمد سمیع اللہ سے پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرف سے بھرتی کیلئے جاری اس نوٹی فکیشن میں جس طرح 2Bزمرے کے امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کی انہوں نے وزیر برائے اعلیٰ رتعلیم ڈاکٹر اشوتھ نارائن سے شکایت کی ہے۔اس بات کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر سرکاری محکموں کی بھرتیوں میں بھی 2Bکے زمرے کو حاصل ریزرویشن کو منظم اندا ز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ بھرتی کیلئے صرف اتنے ہی امیدواروں کا نوٹی فکیشن جاری کیا جا رہا ہے جہاں ایک بھی 2Bزمرے کے امیدوار کیلئے گنجائش نہ رہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اقلیتی طبقے سے وابستہ مستحق امیدواروں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کرنے کی کوشش کے تحت اس طرح کے نوٹی فکیشن جاری کئے جا رہے ہیں۔ چونکہ ریاستی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ ریاست کے منتخب مسلم نمائندوں کو یہ معاملہ ایوانوں میں اٹھا کر حکومت کو متوجہ کروانا چاہئے اور ریزرویشن سے محروم کرنے کی ان کوششوں پر اپنا احتجاج درج کرنا چاہئے۔

(  رضوان اللہ خان کی روزنامہ سالار میں شائع خصوصی رپورٹ، بتاریخ : 19؍ستمبر2021)

ایک نظر اس پر بھی

امتیازی سلوک سے تنگ آکر لڑکی نے والدین سمیت 4 افرادکو موت کی نیند سلادیا

کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان ...

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔

ایڈی یورپاکی عوامی تحریکوں میں کروبا طبقے کاتعاون اہم رہاہے:راگھویندرا

تعلقہ میں بی ایس ایڈی یورپاکے تمام عوامی وفلاحی تحریکوں میں کروبا طبقہ کا تعاون اہم رہاہے،اس کے بدلے میں ایڈی یورپانے بھی اپنے دور اقتدار میں طبقے کی ترقی کیلئے جتنابھی ممکن ہوسکے کام کیا اور ہر طرح سے امداد فراہم کی۔یہ بات رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے کہی۔

جے ڈی ایس ہی مسلمانوں کو سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے: محیط الطاف

ریاستی اسمبلی میں اس وقت مسلم نمائندگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی ایس لیڈر ونئی دہلی میں سابق خصوصی نمائندہ برائے کرناٹک ڈاکٹر سید محیط الطاف نے آج کہا کہ ریاست کرناٹک میں 45اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں اگر مسلمان متحد ہوکر کام کریں تو مسلم امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں اور 75اسمبلی ...

بنگلورومیں بارش کے ساتھ ڈینگی معاملات میں اضافہ، 15دنوں میں 177نئے کیس سمیت جملہ 717متاثرین

راجدھانی بنگلورومیں بارش کی مقدارمیں اضافہ ہوتاجارہاہے،سلسلہ وارحادثات بھی پیش آرہے ہیں،ا س کے ساتھ ڈینگی بخار کے معاملات میں اضافہ ہورہاہے۔برساتی موسم سے پہلے یعنی ماہ مئی میں 102ڈینگی معاملات دکھائی دئے تھے،اکتوبر میں اس تعدادمیں 717تک اضافہ ہوگیا،گزشتہ 15دنوں کے دوران ...