کرناٹکا میں سیاسی ڈرامہ:ممبئی پولیس نے شیوکمار کو لیا تحویل میں۔مزید2کانگریسی اراکین اسمبلی نے دیا استعفیٰ۔ مخلوط حکومت کا گرنا ہوگیا یقینی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th July 2019, 6:05 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو 10/جولائی(ایس او نیوز) کرناٹکا میں چل رہا سیاسی ڈرامہ بڑی تیزرفتاری کے ساتھ مخلوط حکومت کے لئے ایک تباہ کن انجام کی طرف بڑھتاجارہا ہے۔ کیونکہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے مزید دو اراکین اسمبلی نے اپنا استعفیٰ دیدیا ہے اور اس کی تصدیق اسپیکر رمیش کمار نے کردی ہے۔

 مخلوط حکومت کو گرانے کا سبب بننے والے بحران کے ذمہ دار لوگوں کی فہرست میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر چکبالاپور حلقے سے منتخب ڈاکٹر کے سدھاکر اورہوساکوٹے سے منتخب ایم بی ٹی ناگراج شامل ہوگئے ہیں۔اسپیکر نے رمیش کمار نے ان دو اراکین اسمبلی کا استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان ارکین کو17جولائی کو ان سے بالمشافہ ملنے اور مستعفی ہونے کی وجہ بتانے کے لئے کہا ہے۔

 دوسری طرف بحرانی صورتحال کو بخوبی سنبھالنے میں ماہر سمجھے جانے والے وزیر ڈی کے شیو کمار اور دیگرکانگریسی لیڈران ممبئی کے ایک ہوٹل میں قیام پزیر باغی اراکین اسمبلی سے ملاقات میں ناکام رہے کیونکہ شیوکمار کے ممبئی پہنچنے سے پہلے ہی باغی اراکین نے شیوکمار اور کماراسوامی سے اپنی جان کو خطرہ ہونے کی بات کہتے ہوئے ممبئی  پولیس سے تحفظ مانگا تھا۔

 اس لئے جب ڈی  کے شیوکمار ممبئی پہنچے تو انہیں ریناسینس ہوٹل میں کمرہ بک ہونے کے باوجود داخلے سے روکا گیا اور کمرے کی بکنگ کینسل ہونے کی بات بتائی گئی۔ مگر شیوکمار باغیوں کو اپنادوست بتاتے ہوئے ایک بار پھر ان سے ملاقات کیے بغیر ہوٹل کے باہر سے نہ ہٹنے کی ضد پکڑ لی۔ اس دوران ممبئی کے کانگریسی لیڈر ملن دیورا اور وسیم خا ن بھی موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے ہوٹل ریناسینس کے اطراف دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے شیوکمار سمیت دیگر کانگریسی لیڈران کو اپنی تحویل میں لے لیا۔جب شیوکمار کو پولیس اپنی تحویل میں لے رہی تھی تو وہ ایک ٹی وی چینل سے بات کررہے تھے، پولیس نے انہیں دبوچ کر وہاں سے گھسیٹ لیا اور اپنے ساتھ انہیں کرلا میں واقع کالینا یونیورسٹی کیمپس کے گیسٹ ہاؤس لے جایا گیا۔

 تازہ ترین اطلاع کے مطابق ایڈی یورپا سمیت بی جے پی کا ایک وفد اسپیکر سے ملاقات کے لئے ودھاسودھا پہنچا۔ اس موقع پر اسپیکر کے دفتر کے باہر مبینہ طور پرپریانکا کھرگے اور گنیش گنڈوراؤ سمیت کئی کانگریسی اراکین اسمبلی نے باغی اور مستعفی ہونے والے رکن اسمبلی کے سدھاکر کے ساتھ کھینچا تانی کی جس کی وجہ سے وہاں پر تناؤ پیدا ہوگیا۔اس سے قبل ایڈی یورپا کی قیادت میں بی جے پی کے ایک وفدنے ریاستی گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے تحریری طور پر بتایا کہ کماراسوامی کی حکومت اکثریت میں نہیں رہی اس لئے اب اقتدار پر بنے رہنے کاانہیں کوئی حق نہیں ہے۔

 ایسے برے حالات کے بعد بھی کانگریسی قائد غلام نبی آزاد نے دعویٰ کیا کہ وہ حکومت کو بچانے میں کامیاب رہیں گے۔انہوں نے براہ راست  مرکزی حکومت اور ریاستی گورنر کے دفتر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مخلوط حکومت کو گرانے کی سازش میں دونوں کی ملی بھگت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔