کرناٹک میں اَن لاک کی تیاری؛ دو دنوں میں وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا فیصلہ کا اعلان کریں گے، تین مرحلوں میں نرمیوں کے نفاذ کا امکان

Source: S.O. News Service | Published on 10th June 2021, 11:05 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍ جون ( ایس او نیوز) کرناٹک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی کے درمیان لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کی قیاس آرائی زور پکڑنے لگی ہے۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اعلی بی ایس ایڈی یور پا نے منگل کے روز اشارہ دیاہے کہ 14 جون سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی لائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں وہ ایک دو دن میں میٹنگ کر یں گے اور اعلی افسروں و وزراء سے مشورے کے بعد نئے رہنما خطوط جاری کر یں گے ۔

ریاست میں وہ اضلاع جہاں کورو نا وائرس کی پازیٹو بیٹی شرح میں غیرمعمولی کمی آئی ہے ان اضلاع میں ان لاک کے عمل کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا۔ وزیراعلی نے طے کیا ہے کہ دو دنوں کے اند راس سلسلہ میں وہ تمام لوگوں سے بات کر یں گے اور ان لاک کے عمل کو نافذ کر نے اور نئے رہنما خطوط جاری کر نے کا فیصلہ لیں گے ۔

نائب وزیراعلی اشوتھ نارائین نے کہا کہ وزیر اعلی بی ایس ایڈی یور پا اور ماہرین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور وہ ایک دودن میں ان لاک کے بارے میں قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ متعلقہ میٹنگ میں لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کر نے  یا مکمل ان لاک کرنے کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے سامنے تین مرحلوں میں ان لاک کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ وہ اضلاع جہاں کورونا کی پازیٹویٹی شرح 5 فیصد سے کم ہو چکی ہے وہاں زیادہ نرمیوں کا امکان ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 14 اپریل سے ہی کر نا ٹک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نافذ ہیں اوران پابندیوں کے نتیجے میں کور و نا وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کافی مددملی ہے ۔عوام نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کو مؤثر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے حفظان صحت کے مفاد میں حکومت کی طرف سے بعض مرحلوں میں سختی برتنی پڑی لیکن اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے قہر اور بھاری جانی نقصان کے بعد ریاست کے حالات میں اب گذشتہ 8-10  دنوں سے مسلسل سدھار آرہا ہے،  انہوں نے کہا کہ ان لاک کے عمل کو مرحلہ وار رکھتے ہوۓ حکومت کی طرف سے پہلے مرحلے میں ان تجارتی اور صنعتی شعبوں کو کھولنے کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے جو روزمرہ کی ضرورتوں سے جڑے ہوۓ ہوں ۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 14 جون سے لاک ڈاؤن میں ہونے والی نرمی کے ذریعے عوام کو اشیاء ضروریہ کی خریداری کے اوقات میں رعایت کا اعلان سب سے پہلا ہوسکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ماہرین سے مشورےکے بعد حکومت خریداری کے لئے مقررہ اوقات جو اب صبح 6 بجے سے 10 بجے تک کے ہیں ان کو بڑھا کر صبح 6 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک یا پھر شام 6 بجے تک کر نے پر غور کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ اشیاء ضرور یہ کے ساتھ ساتھ دیگر چند تجارتوں سے جڑی دکانوں کو بھی ان لاک کے پہلے مرحلہ میں سماجی فاصلہ کی سخت ترین پابندی کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔

ان لاک کے پہلے مرحلہ میں عبادت گاہوں پر لگی پابندی ہٹانے کے متعلق اب تک حکومت کی طرف سے کوئی رائے سامنے نہیں آئی ہے ۔ اس کے علاوہ ان لاک کے پہلے اور دوسرے مرحلہ کے دوران سنیما گھروں ، شاپنگ مالس اور تعلیمی اداروں کے کھولنے کے امکان کومستر دکر دیا گیا ہے۔  مکمل طور پران لاک کے بارے میں سرکاری ذرائع نے کہا  ہے کہ اس عمل کو پورا ہونے میں 45 دن سے 60 دن کاعرصہ لگ سکتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

میسورو میں ’ڈیلٹا پلس‘ فارم کا پہلا کیس سامنے آیا

میسورو میں کورونا وائرس سے متعلق ’ڈیلٹا پلس‘ شکل کا پہلا کیس سامنےآیا ہے۔ تاہم متاثرہ شخص کو اس مرض کی کوئی علامت نہیں ہے اور جو بھی اس کے ساتھ رابطہ میں آیا ہے وہ انفکیشن میں نہیں ہے۔ ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر کے سدھاکر نے یہ جانکاری دی۔ 

سابق وزیر اعظم دیو ےگوڑا پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد

ریاست کرناٹک کی بنگلورو کی ایک عدالت نے 10 سال قبل ٹیلی ویژن انٹرویو میں نندی انفراسٹرکچر کوریڈور انٹرپرائزز (نائس لمیٹڈ) کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے پر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کو کمپنی کو 2 کروڑ روپے ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کرناٹک میں مزید 4 اضلاع اَن لاک کی رعایتیں، دوپہر تک دکانیں کھولنے کی اجازت

کووڈ۔19 کا پھیلاؤ کم ہونے کے  سبب  مزید 4 اضلاع میں حکومت نے اَن لاک کی رعایتیں دی ہیں، یہاں کووڈ پازیٹیو معاملات کی شرح 5 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ دکشن کنڑا، ہاسن، داونگیرے اور چامراج نگر میں صبح 6 بجے تا دوپہر 1 بجے تک ضروری اشیا کی خریداری کے لئے دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ...

بنگلور کے جے ہلّی اور ڈی جے ہلّی تشدد معاملے میں اے پی سی آر کی کوششوں سے چار لوگوں کو ملی ضمانت

گذشتہ سال اگست میں  بنگلور کے ڈی جے ہلّی اور کے جے ہلّی میں ہوئے تشدد کے واقعات    اور رکن اسمبلی  اکھنڈ شری نواس مورتی کے مکان  کو آگ لگانے کے معاملے  میں گرفتار  رحمان خان اور محمد عدنان سمیت چار لوگوں  کو کرناٹک ہائی کورٹ  نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔