بنگلور: چامراج پیٹ عیدگاہ میں صورتحال جوں کی توں برقرار رکھنے ہائی کورٹ کا حکم؛ صرف نماز عیدین کی اجازت، دیگرتہواروں کی نہیں ہے اجازت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th August 2022, 7:02 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور26  اگست (ایس او  نیوز ) چامراج پیٹ عیدگاہ معاملے میں جمعرات کے روز کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک عبوری فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ  صورتحال کو جوں کی  توں  برقرار رکھا جائے۔ کر ناٹک  اسٹیٹ بورڈ آف اوقاف کے چیف ایگزی کوٹیو آفسر اور بنگلور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کی طرف سے دائر ایک رٹ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے بنچ جسٹس ہیمنت  چندن گوڈر کی بینچ  نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ اس عیدگاہ سے متعلق سپریم کورٹ نے 1965 میں جو فیصلہ سنایا ہے اس پر عمل کیا جائے ۔ بنچ نے کیس کی سماعت اب  23 ستمبر تک ملتوی کر دی ۔

موجودہ حالات میں یہ فیصلہ اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ اس علاقے کی بعض  ہندو شدت پسند تنظیموں نے عید گاہ کے احاطہ میں گنیش اُتسوا منانے کا اعلان کیا تھا ۔جبکہ  حال ہی میں بروہت بنگلورو مہا نگر پالیکے کے جوائنٹ کمشنر سری نواس کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے عید گاہ  چامراج پیٹ  کی املاک کو  محکمہ محصولات کی املاک  قرار دیا تھا  اس  حکم کو چیلنج کرتے ہوئے وقف بورڈ کی طرف سے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور اس حکم کو کالعدم قرار دینے کی گزارش کی گئی ۔ وقف بورڈ کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل نے جئے  کمار پاٹل،  ریاض  خان، اسماعیل ذبیح اللہ اور دیگر نے دلیلیں پیش کیں اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے 1965 کےدوران ہی  سنائے گئے فیصلے  میں اس زمین  پر بنگلور  سٹی کارپوریشن کی ملکیت  کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔جہاں تک بی بی ایم پی کی طرف سے تازہ حکم نامہ کا تعلق ہے اس کو بی بی ایم پی کی طرف سے اپنے اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے عدالت کو یہ باور کرایا گیا کہ 1956 سے بی بی ایم پی اس زمین کی ملکیت پر زیریں عدالتوں، میسور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دعویٰ کرتی رہی ہیں اور تینوں جگہ وہ اپنے دعوے کی حمایت میں دستاویزات پیش نہ کرسکی جس کے سبب فیصلہ کارپوریشن کے خلاف ہی ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ حکم سنایا  کہ اس میدان پر مسلمان سال میں دو مرتبہ نماز عید ادا کریں گے اور باقی وقت اس جگہ پر کھیلنے کی اجازت دی جائے۔

کرناٹک وقف بورڈ  کی پریس کانفرنس:  ہائی کورٹ کا عبوری فیصلہ آنے کے بعد کرناٹک وقف بورڈ کے چیئر مین شافی سعدی نے ہائی کورٹ کے  فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوۓ کہا کہ انہیں پوری توقع تھی کہ عدالت یہی فیصلہ سنائیگی سینکڑوں برسوں سے اس عید گاہ میدان پر اب تک صرف سال میں دومرتبہ عید اور عیدالاضحی  کی نماز یں  ادا کی جاتی رہیں ہیں۔ بقیہ دنوں میں اسے بچوں کے کھیل کے میدان کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے ہائی  کورٹ کے اس فیصلہ  پر کافی راحت محسوس  کی

یادر ہے کہ چامراج پیٹ علاقہ کی چند ہندو تنظیموں نے امسال  گنیش  تیوہار کے موقع پر یہاں گنیش پنڈال لگانے اور گنیش کی مورتیاں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں گزشتہ چند دنوں سے اس پورے میدان میں پولیس سیکوریٹی بڑھادی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کےاس  فیصلہ نے واضح کر دیا ہے کہ اس میدان پر گنیش تیوہار یا کوئی اور تقریب منائی نہیں جاسکتی۔ سال میں دو مرتبہ عیدین کی نماز اور بقیہ دنوں میں اسے صرف کھیل کے میدان کے طور پر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ اطمینان بخش ، ضمیر احمد خان:  سابق ریاستی وزیر اور چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ علاقہ کے عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے ان کی  یہی کوشش تھی کہ کسی بھی حال میں امن برقرار رہے۔ بی بی  ایم پی کی حماقت  کی وجہ سے کچھ شر پسندوں کو حالات بگاڑنے کا موقع مل گیا تھا لیکن عدالت نے  وقف بورڈ کے وکلاء کے دلائل کوسنااور دوسری طر بی بی ایم پی اور حکومت کی طر ف سے پیش کئے گئے دلائل کے پختہ نہ ہونے کے سبب انصا ف سے کام لیا ۔

انہوں نے کہا  کہ اس کیس کی پیروی کرنے کے لئے گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے وکلاء کی ٹیم مسلسل کام کر رہی تھی۔اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ عدالت کو یہ باور کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی کہ  یہ  املاک وقف کی ہے۔عدالت نے یہ بھی  مانا  ہے کہ یہ املاک سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے وقف کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی کے جوائنٹ کمشنر کی طر سے جاری کئے گئے غیر قانونی حکم نامہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے انتشار سے بھی لوگ کافی پریشان تھے۔ بحیثیت رکن اسمبلی ان کی یہ کوشش رہی کہ کسی بھی حال میں اس معاملے پر کشیدگی کا ماحول پیدا نہ ہو۔ بعض ہندو تنظیموں کی طر سے گنیش اُتسوا  منانے کا اعلان کرنے سے  مسلمانوں میں کافی بے چینی کا ماحول تھا۔انہوں نے یقین دلایا کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تنازعہ کھڑا کرنے کا موقع نہیں دیا جاۓ گا اور چامراج پیٹ ہی نہیں بلکہ پورے شہر میں  اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس وجہ سے امن وامان میں خلل نہ پڑنے پائے۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:کانگریس لیڈر رماناتھ رائے نے کہا؛ سی ٹی روی کے بیان نے بی جےپی کو ننگا کردیا ہے

بی جے پی میں راؤڈی شیٹر وں کی شمولیت کی حمایت میں سی ٹی روی نے جو بیان دیا ہے، اُس بیان نے بی جے پی کو ننگاکردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار  سابق وزیر  اور کے پی سی سی کے نائب صدر بی ، رماناتھ رائی  نے کیا۔

مہاراشٹر-کرناٹک سرحد تنازعہ میں شدت، بیلگاوی میں مہاراشٹر کے ٹرکوں پر پتھراؤ، حالات کشیدہ

کرناٹک اور مہاراشٹر کے درمیان جاری سرحد تنازعہ نے بیلگاوی علاقہ میں حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ سرحدی علاقہ بیلگاوی میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور منگل کے روز تو بیلگاوی کے باگیواڑی میں شدید احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کرناٹک رکشن ویدیکے سے جڑے کارکنان نے ...

’مہاراشٹر کے وزراء نے بیلگاوی میں قدم رکھا تو ہوگی قانونی کارروائی‘، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کیا متنبہ

مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان سرحدی تنازعہ کو لے کر بیان بازی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ بیان کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کا سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے مہاراشٹر حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے وزراء نے کرناٹک کے بیلگاوی میں قدم رکھنے کی کوشش کی تو ان کے ...

منڈیا : مالا دھاری بھکتوں نے لگائے سری رنگا پٹن جامع مسجد کو ہنومان مندر بنانے کے نعرے - مسجد میں گھسنے کی کوشش پولیس نے کر دی ناکام  

زعفرانی جھنڈے اٹھائے ہوئے ہزاروں  مالا دھاری ہنومان بھکتوں کا جلوس 'سیکیرتھنا یاترا' کی شکل میں ہنومان مندر کی طرف جاتے ہوئے جب تاریخی سری رنگا پٹن جامع مسجد کے سامنے پہنچا تو نوجوان بھکتوں نے اچانک اشتعال انگیزی شروع کر دی اور جامع مسجد کو ہنومان مندر میں بدلنے کے نعرے لگانے ...

مرکزی حکومت کی طرف سے دلت، پسماندہ اور اقلیتی طلباء کا اسکالرشپ ختم کیا جانا انہیں تعلیمی حقوق سے بتدریج محروم کرنے کی حکمت عملی ہے: ایس ڈ ی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی صدر عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تعلیمی سال 23۔2022سے ایس سی، ایس ٹی، پسماندہ طبقات، اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام طلباء کو کوئی اسکالرشپ ختم ...