گرام پنچایت انتخابات  کے نتائج: ریاست کے مختلف مقامات سےکچھ اہم اور دلچسپ جھلکیاں

Source: S.O. News Service | Published on 31st December 2020, 1:27 PM | ریاستی خبریں | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل31؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک  میں گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں ایک طرف بی جےپی حمایت یافتہ امیدوار وں نے سبقت حاصل کی ہے تو دوسری طرف کچھ اہم اور دلچسپ قسم کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

ساس نے بہو کو دی شکست:    سیاست اورانتخابی جنگ میں کوئی کسی کا نہیں ہوتا  اس کی ایک جھلک بہت نمایاں طور پر اس مرتبہ دیکھنے کو ملی جب بھائی  اوربہن، شوہر اوربیوی، ساس اور بہو مقابلے پر آگئے اور ایک دوسرے کو شکست دے دی۔ہاسن ضلع کے ہیرگو گرام میں سوبمّا نامی خاتون کے مقابلے پر اس کی بہو پوترا میدان میں اتری تھی۔لیکن جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو بہو پوترا کو صرف 3ووٹوں کے فرق سے شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔

 شوہرکو ملی جیت۔  بیوی کوہوئی شکست:    کوڈلیگی میں گونڈمنی گرام پنچایت  کے ایک وارڈ میں میاں اور دوسرے وارڈ میں  بیوی نے انتخابی میدان میں قدم رکھا تھا۔ شری کانت نامی امیدوار نے جس وارڈ سے مقابلہ کیا تھا ، اس کووہاں پر جیت ملی ہے جبکہ دوسرے وارڈ میں اس کی بیوی لکشمی دیوی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے ایس ٹی ریزرو سیٹ سے مقابلہ کیا تھا۔

چھوٹی بہن کے مقابلے میں بڑی بہن کی جیت:     مڈیکیری تعلقہ سے ملنے والی ایک خبر کے مطابق بیلیگیری وارڈ میں بڑی بہن اور چھوٹی بہن آمنے سامنے تھیں۔اور دونوں میں سے کانگریس اوردوسری  بی جے پی کی   حمایت یافتہ تھی۔ مگر کامیابی بی جے پی کی حمایت یافتہ  پشپا کو ملی جبکہ کانگریس کی حمایت یافتہ سوماوتی کو 80ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

میاں بیوی اور باپ بیٹے نے درج کی جیت:    مڈیکیری تعلقہ میں ہی بیلگیری 2میں دو الگ الگ سیٹوں پر جو انتخابات ہوئے اس میں  عبدالقادر اور شاکرہ نامی میاں  اور بیوی دونوں ہی میدان میں اترے تھے۔ اور جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو ان کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں رہا کیونکہ کامیابی نے دونوں ہی کےقدم چومے تھے۔بی جے پی امیدوار کو شکست دینے والے عبدالقادر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے دوسری بار جیت درج کی ہے جبکہ اس کی بیوی شاکرہ  نےپہلی مرتبہ الیکشن جیتا ہے۔ادھر ہاسن ضلع کے بیلگوڈ گرام پنچایت میں ایک سیٹ پر کانگریسی لیڈر ڈوڈیّا نے کامیابی حاصل کی ہے تو دوسری سیٹ پر ان کے بیٹے بھوناکشا کو جیت نصیب ہوئی ہے۔

جیل میں قید امیدوار  ہواکامیاب:    ویراجپیٹ تعلقہ سے ملی خبر سے پتہ چلتا ہے کہ پالی بیٹّا گرام کی ایک سیٹ پر جیل میں بند پولینڈا بوپنّا نامی ایک شخص نے انتخاب لڑا تھاجسے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔اور وہ کانگریس حمایت یافتہ امیدوار یوسف کو 61ووٹوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر بوپنّا کی کسی سے تکرار ہوگئی تھی اور ذات پات کی گالی دینے کے الزام میں اس کو گرفتار کیا گیا تھا ۔بوپنّا اس سے قبل 12سال تک پالی بیٹّا گرام پنچایت صدر کے عہدے پرفائز رہ چکا ہے۔

ووٹوں کی دوبارہ گنتی ۔3ووٹوں سے ملی جیت:    ہوسکیری گرام پنچایت کے اریکاڈو وارڈ سے انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے ووٹوں کی جب گنتی ہوئی تو پربھو شیکھر اور چندن کو یکساں ووٹ ملنے کا اعلان ہوا۔ اس کے بعد ووٹوں کی دوبارہ  گنتی کی گئی تو پربھو شیکھر کے حصے میں 3ووٹ زیادہ نکلے۔ اس طرح پربھو شیکھر کی جیت کا اعلان کیاگیا۔

مسترد کیے گئے ووٹوں کی جانچ کے بعد ملی جیت:    سرسی سے ملنے والی خبروں کے مطابق وہاں کے مانلّی گرام پنچایت میں مسترد کیے گئے  ووٹوں کی  دوبارہ جانچ اور گنتی کے بعد ویناگوڈا نامی امیدوار کو جیت کا منھ دیکھنا نصیب ہوا ہے۔وینا نے پسماندہ طبقات خاتون کے لئے مختص سیٹ سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔وینا اور اس کی مقابل پاروتی کو یکساں 127ووٹ ملے تھے۔ پھر جب مسترد کیے گئے ووٹوں کی دوبارہ جانچ کی گئی تو ایک ووٹ وینا کے حصے میں نکل آیا جس کی وجہ سے اس کو کامیاب قراردیا گیا۔

ایک ایک ووٹ سے امیدواروں نے جیتا الیکشن:    اس مرتبہ گرام پنچایت انتخابات  میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت کا ثبوت بننے والے  نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ ٹمکور ، کلبرگی، گترادرگہ اورگنگاوتی سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں پر دو امیدواروں نےصرف ایک ووٹ کے فرق سے جیت درج کی ہے۔ٹمکور کے بگڑن ہلّی گرام پنچایت ٹی وی شیوکماراور گنگاوتی کے سناپور گرام پنچایت میں رانی ناگیندرا ایک ووٹ سے جیتنے والے امیدوار قرار دئے گئے ہیں۔جبکہ کلبرگی کے امبلگا گرام پنچایت میں ملّی ناتھ ماچی نے 305ووٹ حاصل کیے جبکہ اس کےمقابل امیدوار راج شیکھر میگپی کو 304ووٹ ملے ۔ اس طرح ایک ووٹ کے فرق سے ملّی ناتھ کو کامیابی حاصل ہوئی۔اسی طرح چترادرگہ کے دو گرام پنچایت حلقوں میں دو امیدواروں نے ایک ایک ووٹ سے کامیابی درج کی ہے۔ 

ماں کی شکست پر بیٹے نے کی خودکشی کی کوشش:    ہولے نرسیپور سے خبر ملی ہے کہ کڈوین ہوسلّی کی سیٹ  پر ہوئے انتخاب میں کماری نامی خاتون امیدوار کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا  جس کی وجہ سے اس کا بیٹا انتہائی رنجیدہ ہوگیااور اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ جس کے بعد اس کو علاج کے لئے ضلع اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

ہیجڑے نے بھی جیتا الیکشن :  ہوسپیٹ تعلقہ کے کلّا ہلّی میں ہوئے گرام پنچایت الیکشن میں سدھا نامی ایک مخنث یا ہیجڑے نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ اس علاقے کو 26سال قبل گرام پنچایت قرار دیا گیا تھا، مگر اب تک  کبھی بھی الیکشن کی نوبت ہی نہیں آئی تھی، کیونکہ یہاں پرہمیشہ ہی امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوتے آئے تھے۔ اب جبکہ 26برس بعد پہلی مرتبہ الیکشن ہواتو تیسری جنس کے امیدوار کو بھی جیت کا منھ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

قرعہ اندازی یا ٹاس کے ذریعے ملی جیت: ریاست کے کئی مقامات سے ملی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہاں پر امیدواروں کوقرعہ اندازی(لاٹری) یا ٹاس کےذریعے  جیتنے کا موقع ملا ہے۔لاٹر ی کےذریعے جیت کا اعلان جن علاقوں میں ہوا ہے اس میں وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کے سسرالی گاؤں بوکن کیرے  سمیت منڈیا ، ٹپتور، باگلکوٹ، چترادرگہ، ٹمکور ، ترویر کیرے، کلبرگی، شیرا، وجیا پورا،وغیرہ شامل ہیں۔

الیکشن ڈیوٹی پر فائز آفیسر ہارٹ اٹیک سے فوت:    میسور کے پریا پٹن میں انتخابی فرائض انجام دینے کے لئے گنتی مرکز پرتعینات پی ڈبلیو ڈی کے اسسٹنٹ انجینئر بورے گوڈا (۵۲سال) پر دل کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ووٹوں کی گنتی چل رہی تھی تو اچانک بورے گوڈا کی  طبیعت خراب ہوگئی۔ انہیں فوراً علاج کے لئے اسپتال لےجانے کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔     

ایک نظر اس پر بھی

شکایت کنندہ کامکمل نام اور پتہ کی تصدیق کے بعد ہی سرکاری ملازمین کے خلاف جانچ کارروائی

ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کےخلاف موصول ہونے والی گمنام و انجان شکایتوں پرجانچ  کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے خلاف گمنام وانجان شکایات کرتےہوئے قانون کاغلط استعمال کئے جانےکی وجہ سے یہ فیصلہ لئے جانےکا ریاستی حکومت نے بتایا ہے۔

میسورو: جے ڈی ایس کی رکمنی مادے گوڈامیئر انور بیگ ڈپٹی میئر منتخب

بروز چہارشنبہ میسور سٹی کارپوریشن کے کونسل ہال میں منعقدہ میسور کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخابات میں کانگریس اور جنتا دل(ا یس) نے ایک دوسرے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے جے ڈی ایس کی وارڈ نمبر36کی کارپوریٹر رکمنی مادے گوڈا مئیر اور کانگریس کے وارڈ نمبر 10کے کارپوریٹر انور بیگ عرف ...

ریزرویشن بحران سے نپٹنے میں ایڈی یورپا حکومت ناکام: ایچ وشواناتھ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کے معاملہ پر تحریکیں شدت اختیار کررہی ہیں۔ ریزرویشن کی مانگ کرتے ہوئے مختلف طبقات کے افراد سڑکوں پر اتررہے ہیں اور احتجاجات شروع ہو چکے ہیں، لیکن ریاستی حکومت اس صورتحال سے نپٹنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ یہ تبصرہ بی جے پی کے ہی رکن ...

بی بی ایم پی اڈمنسٹریٹر نے مختلف تعمیری کاموں کا معائنہ کیا

بروہت بنگلور مہا نگر پا لیکے(بی بی ایم پی) کی جانب سے اولڈ ائر پورٹ پر سگنل فری کاریڈار پراجیکٹ کے تحت ونڈ ٹینل روڈ جنکشن،سروجنی داس جنکشن اور کندلہلی جنکشن پر جاری انڈر پاس کے تعمیری کاموں کا آج بی بی ایم پی اڈمنسٹریٹر گورو گپتا نے معا ئنہ کیا اور کنٹراکٹروں کو مقررہ وقت پر ...

یلاپور میں پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کےخلاف لاری مالکان تنطیموں کا احتجاج

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کی مخالفت میں لاری مالکان کے مختلف تنظیموں نے جمعہ کو شہر میں بند منایا۔ لاری، آٹو، ٹیاکسی اوردیگر تجارتی سواریوں نے بھی بند میں شامل ہوتےہوئے حمایت کی۔ تنظیموں نے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر اور ضلع نگراں کار وزیر کو میمورنڈم ...

یلاپور کی نندولی دیہات کی طالبہ کا اغواء کاری معاملہ : ماں کے خوف سےخود لڑکی نے  گھڑی تھی جھوٹی کہانی  

یلاپور تعلقہ نندولی دیہات میں دسویں میں زیر تعلیم طالبہ کے اغواءکاری معاملے کی  سچائی کا پتہ چلتے ہی جانچ میں جٹی پولس ٹیم حیرت میں پڑگئی ہے۔ لڑکی نے جھوٹی کہانی گھڑتے ہوئے خود اغواء ہونےکا ناٹک رچے جانے کی بات لڑکی نے پولس کے سامنے بیان کی ہے۔

بھٹکل رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ ہوا اختتام پزیر

بھٹکل چن پٹن ہنومان مندر کا رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ سالانہ جاترا کی مناسبت رتھ اتسوا اپریل کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے۔ لیکن کووڈ وباء اور لاک ڈاون کے پیش نظر گزشتہ سال یہ تہوار منایا نہیں گیا تھا۔ اس لئے امسال کے طے شدہ تہوار سے قبل 26 فروری کو گزشتہ سال کا ...

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔