’تعلیمی اداروں کو یونیفارم طے کرنے کا اختیار، حجاب اس میں شامل نہیں‘، سپریم کورٹ کے تبصرہ سے عرضی دہندگان فکرمند!

Source: S.O. News Service | Published on 16th September 2022, 9:41 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی،16؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر عائد پابندی کے خلاف داخل عرضی پر 15 ستمبر کو بھی عدالت عظمیٰ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے ایک ایسا تبصرہ کیا جس کے بعد عرضی دہندگان کا فکرمند ہونا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے جمعرات کے روز کہا کہ ’’اصول کے مطابق تعلیمی اداروں کو یونیفارم طے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ حجاب اس سے الگ ہے۔‘‘ یعنی سپریم کورٹ نے بھلے ہی حجاب پر پابندی معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے، لیکن یہ بتانے کی کوشش ضرور کی ہے کہ حجاب کو یونیفارم میں شامل نہیں کیا جا سکتا، اور تعلیمی ادارے میں کون سا یونیفارم پہننا ہے یہ فیصلہ لینے کا حق ادارے کے پاس موجود ہے۔

حجاب معاملے پر سپریم کورٹ میں تقریباً روزانہ ہو رہی سماعت جب ختم ہوئی تو اسے پیر کے روز بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ یعنی 16 ستمبر کو فیصلہ آنے کی جو امید لگائی جا رہی تھی، وہ ختم ہو گئی ہے۔ حالانکہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ ہفتے میں دو رکنی بنچ یا تو فیصلہ سنا سکتی ہے، یا پھر اسے بڑی بنچ کو بھیج سکتی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج جو تبصرہ حجاب سے متعلق کیا ہے، وہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کرناٹک کے جس اسکول سے حجاب کا تنازعہ شروع ہوا تھا، اس اسکول کی انتظامیہ بھی یہی دلیل پیش کرتی رہی ہے کہ یونیفارم طے کرنے کا اختیار اس کے پاس موجود ہے۔ حالانکہ حجاب پر پابندی کے خلاف داخل کی گئی عرضیوں کی پیروی کرتے ہوئے وکلاء بار بار کہہ رہے ہیں کہ حجاب مسلم خواتین کے لیے بہت اہم معاملہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مسلم طالبات کے اسکول چھوڑنے کی باتیں بھی 13 ستمبر کو ہوئی سماعت میں عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھی گئی تھیں۔

ایک نظر اس پر بھی

رائچور: طالبہ کی ہاسٹل میں مشتبہ موت، والدین کا جنسی ہراسانی کا الزام

لنگاساگر ٹاؤن میں واقع ہاسٹل کے کمرے میں ایک 17سالہ طالبہ پُراسرار حالات میں مردہ پائی گئی۔ جس کو لے کر والدین نے الزام لگایا ہے کہ پرنسپل کی مبینہ جنسی ہراسانی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی کے بعد اس کا قتل کیا گیا ہے اور بعد میں اُسے خودکشی دکھانے کی ...

مئی میں اسمبلی انتخابات ہونے کی اطلاعات کے بعد کرناٹک میں شروع ہوگئی انتخابی گہماگہمی؛ 9 فروری کو کماراسوامی پہنچیں گے بھٹکل

کرناٹک میں مئی کے  تیسرے ہفتے میں اسمبلی انتخابات ہونے کی اطلاعات موصول ہونے کے ساتھ ہی  ریاست کی  سیاسی پارٹیوں میں میٹنگوں  کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسی طرح کی ایک میٹنگ آج سنیچر کو بنگلور جے ڈی ایس پارٹی کی منعقد ہوئی جس میں بھٹکل کے  جے ڈی ایس قائد عنایت اللہ شاہ بندری بھی شریک ...

کرناٹک میں آنے والے اسمبلی انتخابات کو لے کرتیاریاں شروع؛ پرمود متالک کے خلاف کارکلا میں  بی جے پی اگرمخالفت کرتی ہے تو چکمگلورو میں سی ٹی روی کے خلاف کھڑا کیا جائے گا رام سینا کا اُمیدوار

کرناٹک میں اسمبلی انتخابات  مئی کے تیسرے ہفتہ میں ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے، لیکن ابھی سے انتخابات کی  گہماگہمی شروع ہوچکی ہے۔ ضلع اُڈپی کے کارکلا سے  شری رام سینا کے چیف پرمود متالک نے آئندہ اسمبلی الیکشن میں  میدان میں اترنے کا اعلان کیا ہے اور بی جے پی ایم ایل اے سنیل ...

کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس 136 نشستوں پر کامیاب ہوگی، بی جے پی حکومت چند دنوں کی مہمان، ڈی کے شیوکمار کا دعویٰ

کرناٹک کانگریس نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ وہ ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخاب میں بہ آسانی 136 سیٹیں جیت لے گی۔ اس درمیان ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار اور اپوزیشن لیڈر سدارمیا نے ریاست کے جنوبی اور شمالی علاقوں سے الگ الگ بس یاترا شروع کی۔

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی حلف برداری

 چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے پیر کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کو عہدے کا حلف دلایا۔ جسٹس چندر چوڑ نے سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک تقریب میں تین چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے دو ججوں کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔

اڈانی معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ! اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کے درمیان دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

اڈانی گروپ کے بحران پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا شور شرابہ جاری ہے۔ آج بھی اپوزیشن اڈانی معاملے پر جے پی سی جانچ کے مطالبہ پر اٹل رہی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی جس کے بعد اسپیکر کو دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

ایم سی ڈی: میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ایک بار پھر ہنگامہ کی نذر، عآپ نے سپریم کورٹ جانے کا کیا اعلان

دہلی میں آج تیسری بار میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کا انتخاب ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں ہنگامہ کی وجہ سے کارروائی ملتوی کر دی گئی اور کہا گیا کہ میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ ممبرس کا انتخاب اگلی تاریخ پر ہوگا۔

لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں منظور کی گئیں متعدد تجاویز

 دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤمیں منعقدہ  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ میں  بہت سے پہلوئوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی جن میں یونی فارم سول کوڈ اور ملک کے مختلف عدالتوں میں چل رہے مسلم پرسنل لا سے متعلق مقدمات کا جائزہ بھی شامل ہے۔بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد رابع ...