کرناٹکا: دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات نے کئی نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کردی۔ سلاخوں کے پیچھے سے آزاد فضا میں آنے والوں کی کچھ جھلکیاں ایک خصوصی رپورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 22nd March 2021, 8:48 PM | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ملکی خبریں |

 ملک بھر میں گزشتہ دو تین دہائیوں میں پولیس اور خفیہ و تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگائے جانے سے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ اس زمرے میں کرناٹکا کے نوجوان بھی شامل ہیں۔

گجرات میں سیمینار:  مثال کے طور پر سید صادق عرف سمیر کا معاملہ دیکھیے۔ بنگلورو کے رہنے والا یہ نوجوان آل انڈیا مائناریٹی ایجوکیشن بورڈ کی طرف سے گجرات میں منعقدہ ایک سیمینار میں  شریک ہوا تھا۔ سیمینار کا دوسرا دن چل رہا تھا کہ سورت کی پولیس نے سیمینار کے مقام پر چھاپہ مارا اور ممنوعہ طلبہ تنظیم 'اسلامک اسٹوڈنٹس موومنٹ آف انڈیا' [سیمی] کے کارکن ہونے کا الزام لگاتے ہوئے جن 123مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اس میں صادق عرف سمیر بھی شامل تھا۔ یہ دسمبر 2001 کی بات تھی۔ تب صادق عرف سمیر کی عمر 25 سال تھی۔ اور اب 20 سال بعد عدالت نے ان تمام ملزمین کو بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔

 تفتیش کے دوران ٹارچر: صادق اُس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران مجھے بری طرح ٹارچر کیا گیا۔ مجھ پر القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا جن کے بارے میں میں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا۔ یہ بالکل جھوٹا معاملہ تھا۔ غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلقہ قانون [یو اے پی اے] کے تحت گرفتار کیے جانے کے ایک سال بعد صادق کو عدالت سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔ جس کے بعد وہ بنگلورو واپس لوٹے اور اپنی زندگی ازسرنو تعمیر کرنے کی کوشش شروع کی۔

شادی کے لیے رشتہ ملنا مشکل: 'ٹیررسٹ' یا 'دہشت گرد' کا ٹھپّہ لگنے کی وجہ سے  صادق کو شادی کے لئے رشتہ ملنا دشوار ہوگیا۔ پھر بڑی مشکل سے ایک دور کے رشتہ دار کے یہاں ان کی شادی ہوگئی۔ لیکن میکانیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ رہنے کے باوجود ایک فل ٹائم ملازمت حاصل کرنا کسی طور ممکن نہیں ہوا۔ دوسری طرف ان پر دائر جھوٹے مقدمہ کی وجہ سے ان کی زندگی قانونی چکّی میں پستی رہی۔ ہر مہینہ عدالت میں حاضری کے لئے بنگلورو سے سورت[گجرات] کا سفر کرنا زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔

ایک اور کیس میں پھنسایا گیا: صادق دھیرے دھیرے بنگلورو میں اپنی زندگی کو معمول پر لانے میں کامیاب ہو ہی رہے تھے کہ فروری 2008 میں انہیں پھر ایک مرتبہ 'ہبلی سیمی سازش' معاملے میں دیگر 17 نوجوانوں کے ساتھ دہشت گردی مخالف قانون آئی پی سی اور دھماکہ خیز مادہ قانون کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس کی وجہ سے صادق کو 3 سال دھارواڑ سینٹرل جیل میں گزارنے پڑے۔ جہاں سے 2011 میں ضمانت پر انہیں رہائی ملی۔

پولیس جان بوجھ کر پھنساتی ہے: صادق کہتے ہیں کہ " اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے کرناٹکا پولیس کے تمام اعلیٰ افسران کو علم تھا کہ میں بے قصور ہوں۔ در اصل ایک پولیس آفیسر نے مجھ سے اعتراف کیا تھا کہ وہ میری بے گناہی سے باخبر ہے۔ لیکن پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ اس معاملے کی رپورٹنگ بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اور پولیس کو پھنسانے کے لئے کسی بلی کے بکرے کی ضرورت تھی ۔ چونکہ میرا نام پہلے ہی سورت کیس میں آ چکا تھا اس لئے ان کے لئے میں آسان نشانہ بن گیا۔"

عدالت کے چکروں میں زندگی دوبھر: ہبلی معاملہ میں 2011 میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد صادق کے لئے دو محاذوں پر قانونی جنگ شروع ہوگئی۔ تب تک ایک بچے کے باپ بن چکے صادق کے لئے ایک طرف عدالت میں حاضری کے لئے ہر مہینہ سورت جانا پڑتا تھا۔ تو دوسری طرف ہبلی کیس فاسٹ ٹریک عدالت میں چلنے کی وجہ سے ہر ہفتے میں تین چار مرتبہ ہبلی عدالت میں جانا ضروری ہوگیا تھا۔ صادق پوچھتے ہیں کہ " ایسی صورت حال میں بھلا میں کوئی ملازمت یا بزنس کیسے شروع کر سکتا تھا؟"

طویل جدوجہد کے بعد ضمانت: خدا خدا کرکے جب 2015 میں عدالت نے ہبلی کیس میں تمام 18 ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا تو صادق کو تھوڑی سی راحت ملی تھی ۔ لیکن 'سورت کیس' میں سماعت 2021 تک جاری رہی۔ اور بالآخر سورت کورٹ کے چیف جوڈیشیل میجسٹریٹ نے تمام 127 ملزمین کو الزامات سے پوری طرح بری کردیا۔ جس کے بعد صادق نے گزشتہ 20 برس میں پہلی مرتبہ پوری طرح اطمینان کی سانس لی ہے۔ کیونکہ اب جا کر سماج میں اس کا کھویا ہوا وقار کچھ بحال ہوا ہے۔ اور اب وہ اپنے اوپر لگے دہشت گردی کے الزام کو یقین اور اعتماد کے ساتھ جھٹلا سکتے ہیں۔

 مالی اورسماجی دشواریوں کا سامنا : اس وقت عمر کے 45 ویں سال سے گزرتے ہوئے صادق کہتے ہیں " میں نہیں جانتا کہ میں نے اس عرصہ میں اپنی زندگی کیسے گزاری ۔ میری آدھی زندگی تباہ ہوکر رہ گئی ۔ مجھے بہت سارے مالی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے اپنے قانونی اخراجات پورے کرنے کے لئے بنگلورو کے گروپن پالیہ میں واقع آبائی مکان کو فروخت کرنا پڑا۔ میں جس مسجد میں نماز پڑھا کرتا تھا وہاں پر مجھے داخل ہونے سے روکا گیا۔"

پولیس افسران پر کارروائی ہو: صادق کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے تحت جھوٹے کیس داخل کرکے لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہو اور انہیں  سزا دی جا سکے۔ اس کے علاوہ ایسے بے قصور ثابت ہونے والے ملزمین کو ہرجانہ ادا کیا جائے تاکہ پولیس افسران اس طرح کی کارروائیوں سے باز آئیں۔

صادق کا کیس منفرد تھا: اگر ہم دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پولیس کی طرف سے مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے معاملات کا جائزہ لیں تو صادق کا کیس ایک منفرد کیس ہے جس میں انہیں دہشت گردی کے دو معاملات میں گرفتار کیا گیا اور خوش قسمتی وہ دونوں معاملات میں عدالت سے بری ہوگئے۔ کرناٹکا میں ایسے بہت سے معاملات ہیں جہاں پولیس نے مسلم نوجوانوں کو پھنسایا اور ایک عرصہ بعد عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیا۔ مثال کے طور پر 'ہبلی سازش' کیس دیکھیں۔ اس میں صادق کے علاوہ 17 نوجوانوں کو ملزم بنا کر جیل میں ٹھونسا گیا تھا اور 8 سال قید میں رہنے کے بعد عدالت نے انہیں کیس سے بری کردیا۔ جبکہ اس معاملے میں استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ 45 گواہوں نے پولیس کے بیان کے برخلاف گواہی دی تھی۔

میڈیکل کیریئر ہوا تباہ: ہبلی سازش کیس میں ملوث کیے گئے ڈاکٹر اللہ بخش ایڈواڈ کا معاملہ دیکھیے۔ وہ کرناٹکا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس [کیمس] کا ایک محنتی طالب علم تھا۔ اور جب اسے 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا تو وہ ایم بی بی ایس فائنل کے بعد انٹرشپ کے دورانیہ میں تھا۔ 2015 میں کیس سے بری ہونے تک سات سال اپنے اوپر دہشت گردی کا دھبہ لے کر جینا پڑا اور یہ بات اس کا میڈیکل کیریئر تباہ کرنے کے لئے کافی تھی ۔

دیگر خوفناک معاملات : اگر ہم تھوڑا پیچھے جا کر دیکھیں تو ہمیں نثارالدین اور ظہیر احمد جیسے کچھ بھیانک معاملے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ نثارالدین اور ظہیر احمد نامی دو بھائیوں کو دہشت گرد مخالف دستہ نے 1994 میں بم بلاسٹ معاملوں میں ان کا ہاتھ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ظہیر نے ضمانت ملنے سے قبل 14 سال جیل میں گزارے جبکہ نثارالدین کو تقریباً 23 سال قید رہنے کے بعد 2016 میں رہائی ملی تھی۔

 مولانا شبیر کا معاملہ: اسی طرح کا ایک معاملہ بھٹکل کے مولانا شبیر گنگاولی کا ہے۔ انہیں چنّا سوامی اسٹیڈیم بنگلورو میں 2010 میں بم بلاسٹ کرنے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں پہلے پونے میں نقلی نوٹ رکھنے کے جھوٹے معاملے میں پھنسا کر  قید کیا گیا اور اس کے بعد دہشت گردی کا معاملہ چپکا دیا گیا۔ یہ کیس منگلورو کی عدالت میں چلتا رہا اور 2017 میں عدالت نے ان کو دہشت گردی کے الزامات سے پوری طرح بری کر دیا۔

صحافی مطیع الرحمٰن کا معاملہ: مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرنے والی اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی مطیع الرحمٰن صدیقی نے کہا کہ  دراصل پولیس افسران کی یہ ذہنیت بن گئی ہے کہ مسلم نوجوان دہشت گردی کا میلان رکھتے ہیں اس لئے وہ ان پر مقدمات چلانے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے بے شمار مقدمات سامنے آئے ہیں۔

 صحافی پر بھی جھوٹا مقدمہ: مطیع الرحمٰن وہ صحافی ہیں جو بذات خود جھوٹے مقدمہ میں پھنسائے جانے کے اس مرحلہ سے گزر چکے ہیں۔ ان کو 2012 میں لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد اسلامی جیسی تنظیموں کا رکن ہونے اور دائیں بازو کےہندو صحافیوں اور سیاست دانوں کو قتل کرنے کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 6 مہینہ جیل میں رہنا پڑا تھا۔ دہشت گردی مخالف قانون [یو اے پی اے] اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت دائر کردہ کیس میں جب عدالت نے کوئی بھی سچائی نہیں پائی تو مطیع الرحمٰن کو بری کردیا گیا۔

کیا کہتے ہیں اے پی سی آر کے ذمہ دار: جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے بے قصور ملزمین کو قانونی امداد پہنچانے والے ادارہ ایسوسی ایشین فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس [اے پی سی آر] کے ریاستی جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ محمد  نیاز   اس پوری صورت حال کے لئے یو اے پی اے جیسے دہشت گردی مخالف قوانین کو الزام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کی زندگی تباہ کرنے کا اصلی سبب اور جڑ ایسے 'خونخوار' قوانین ہیں ۔ کیوں کہ ان قوانین کے تحت پولیس افسران کو شہریوں کے بنیادی حقوق پر ضرب لگانے اور خلاف ورزیاں کرنے کے لئے بہت ہی زیادہ اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔ اور وہ بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ 

(بشکریہ انگریزی میگزئن فرنٹ لائن۔۔ تحریر : وقار احمد سعید۔۔ اُردو ترجمہ  معمولی ترمیم و اضافے کے ساتھ : ڈاکٹر محمد حنیف شباب/ساحل آن لائن)

ایک نظر اس پر بھی

گوکرن کے مہابلیشور مندر کے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ : مندرکی نگرانی کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

ترکنڑاضلع کے ہندؤوں کے مشہورو تاریخی مذہبی مقام گوکرن کی مہابلیشور مندر کے تعلق سے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ  ریاستی حکومت  مندر کے انتظامی امور کو رام چندر پور مٹھ سے واپس لے۔ یاد رہے کہ  پچھلی بی جے پی کی حکومت نے گوکرن کے مہابلیشور مندر کی انتظامیہ اور نگرانی رام چندر ...

لاک ڈاؤن کی بجائے دفعہ 144 نافذ کی جائے : سی ایم ابراہیم| کورونا سے شہید ہونے والے مسلمانوں کی تدفین کیلئے علاحدہ جگہ دی جائے : ضمیر احمد خان 

کورونا سے شہید ہونے والے مسلم طبقے کے افراد کی تدفینکے لئے علاحدہ جگہ دی جائے ۔رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے  ودھان سودھا میں ہوئی بنگلورو کے اراکین اسمبلی،اراکین پارلیمان کی میٹنگ میں یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک رکن اسمبلی کے لئے 25 کووڈ بیڈ اسپتالوں میں ریزرو کئے ...

کرناٹک میں لاک ڈاؤن ضروری نہیں، نائٹ کرفیو کے اوقات میں تبدیلی نہیں، دفعہ 144 نافذ کریں؛ ریاستی حکومت کو اپوزیشن کے مشورے 

بنگلورو میں کووڈ۔ 19 معاملات تیزی سے بڑنے کے سبب  وزیر اعلیٰ  یڈیورپا، بنگلورو کے وزراء، اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی۔  جس میں حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ لاک ڈاؤن نافذ نہ  کر یں ،اسپتالوں میں کووڈ بستروں کی قلت دور  کریں۔مہلوکین کی آخری ...

کرناٹک میں کورونا کی دہشت کا ایک اور ریکارڈ ، تقریباً 20 ؍ ہزار متاثر ، بنگلورو میں لاک ڈاؤن یا سخت امتناعی احکامات ؟

اتوارکے روز کرناٹک میں کورونا نے اپنا خوفناک ترین رخ پیش کیا اور اب تک متاثرین کی تعداد کا ایک نیا ریکارڈ سامنے آیا ریاست بھر میں 7 6 0 9 1 تازه معاملات سامنے آئے ۔ 81 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

بھٹکل: ریاست میں کورونا کے بڑھتے معاملات سےپریشان طلبہ نے پیر سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کرنے ٹوئیٹر پر چلائی مہم

کورونا کی دوسری لہر میں  بڑھتے کیسس کے دوران ایک طرف  میٹرک اور سکینڈ پی یوسی کے امتحانات ملتوی اور منسوخ کئے جارہےہیں تو وہیں دوسری طرف ویشویشوریا ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے تحت آنے والی کالجس میں کل  پیر سے فرسٹ سیمسٹر کے امتحانات شروع ہورہےہیں۔

بھٹکل ناگ بن کمپاونڈ معاملہ میں نیا موڑ ؛  نامعلوم افراد کے خلاف تحصیلدار نے درج کروائی شکایت۔ آخر یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ (اسپیشل رپورٹ : ڈاکٹر محمد حنیف شباب)

پچھلے چند دنوں سے بھٹکل کے مین روڈ پر واقع 'ناگ بَن' یا 'ناگر کٹّے' کا معاملہ شہر میں بحث کا موضوع بنا ہے اور خاص کر کنڑا اخبارات کی سرخیوں میں نمایاں رہا ہے۔ جبکہ کنڑا سوشیل میڈیا میں  مسلم فرقہ اور ان کے مرکزی ادارہ تنظیم کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 کیا شمالی کینرا میں کانگریس پارٹی کی اندرونی گروہ بندی ختم ہوگئی ؟

ضلع شمالی کینرا کو ایک زمانہ میں پورری ریاست کے اندر کانگریس کا سب سے بڑا گڑھ مانا جاتا تھا، لیکن آج ضلع میں کانگریس پارٹی کا وجود ہی ختم ہوتا نظر آرہا ہے، کیونکہ ضلع کی چھ اسمبلی سیٹوں میں سے صرف ہلیال ڈانڈیلی حلقہ چھوڑیں تو بقیہ پانچوں سیٹوں کے علاوہ پارلیمان کی ایک سیٹ پر بی ...

منگلورو: قانونی پابندی کے باوجود دستیاب ہیں ویڈیو گیمس. نئی نسل ہو رہی ہے برباد۔ ماہرین کا خیال

ویڈیو گیم میں ہار جیت کے مسئلہ پر منگلورو میں ایک نوعمر لڑکے کے ہاتھوں دوسرے کم عمر لڑکے عاکف کے قتل کے بعد ویڈیو گیمس اور خاص کر پبجی کا موضوع پھر سے گرما گیا ہے اور کئی ماہرین نے ان ویڈیو گیمس کو نئی نسل کے لئے تباہ کن قرار دیا ہے۔

انکولہ : کون کھیل رہا ہے 'چور پولیس' کا کھیل؟ ایڈیشنل ایس پی پر جان لیوا حملہ ۔ غنڈوں پر درج نہیں ہوا اقدامِ قتل کا کیس!

دو دن پہلے انکولہ تعلقہ کے ہٹّی کیری ٹول گیٹ پر ہنگامہ آرائی کرنے اور ایک پولیس آفیسر پر حملہ کی کوشش کیے جانے کی رپورٹ میڈیا میں آئی تھی۔ اور یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پولیس نے  ہنگامہ کرنے والوں کی خوب دھلائی کی ہے اور ان پر پولیس آفیسر کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکنے کا کیس ...

ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 259170 نئے کورونا کے معاملے، ایک دن میں سب سے زیادہ اموات

 کورونا وائرس کے معاملوں میں اضافہ کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق منگل کے روز ملک میں ایک بار پھر ڈھائی لاکھ سے زیادہ کیسز کی تصدیق کی گئی۔ یہ لگاتار چوتھا دن ہے جب ملک میں ڈھائی لاکھ سے زہادہ کیسز کی تصدیق کی گئی۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا؛ ’مسلم عورتوں کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہوتا، عدالتی فیصلے کی ناقص ترجمانی ہوئی ہے

میڈیا میں آئی کیرالہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ کےمطابق مسلمان عورت عدالت جائے بغیر خود طلاق دے سکتی ہے، اس میں فیصلہ کی ناقص ترجمانی کی گئی ہے، جس سے لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہورہی  ہے۔اصل میںمسلم عورتوں کو طلاق دینے کا اختیار نہیں ہوتا اُنہیں خلع لینے کا اختیار ہوتا ہے مگر اس ...

دہلی-این سی آر میں مہاجر مزدور پھر نکلے سڑکوں پر، پہلے ’لاک ڈاؤن‘ کی آئی یاد

دہلی میں پیر کی صبح جیسے ہی یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آج رات 10 بجے سے ایک ہفتہ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ ہو جائے گا، لوگوں کا ہجوم آنند وِہار سمیت دیگر بس ٹرمینل پر نظر آنے لگا، اور ساتھ ہی سڑکوں پر قطار بند لوگوں کو پیدل چلتے ہوئے بھی دیکھا جانے لگا۔

ہائی کورٹ کا یوپی کے پانچ شہروں میں لاک ڈاؤن کا حکم، ریاستی حکومت کا عمل درآمد سے انکار

 اتر پردیش حکومت نے پیر کی شام الہ آباد ہائی کورٹ کی اس ہدایت پر عمل درآمد سے انکار کر دیا جس میں ریاست کے پانچ اہم شہروں لکھنؤ، الہ آباد، ورارانسی، کانپور اور گورکھپور میں گزشتہ شب سے 26 اپریل تک لاک ڈاؤن نافذ کر کو کہا گیا ہے۔ کورونا کیسز میں تیزی سے ہو رہے اضافہ کے درمیان ...