کرناٹک میں ساتویں جماعت کے نصاب سے ’شیر میسور‘ ٹیپو سلطان کا باب ہٹانے کی تیاری

Source: S.O. News Service | Published on 28th July 2020, 9:09 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،28؍جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) کرناٹک میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ساتویں جماعت کی کتابوں میں میسور مملکت کے حکمراں رہے ٹیپو سلطان سے متعلق باب کا ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ریاست کے محکمہ تعلیم نے کووڈ-19 وبا کے سبب اسکولوں کے نہ کھلنے کے پیش نظر اسکولی نصابوں میں 30 فیصدی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیپوسلطان سے متعلق باب کو ہٹانا اسی فیصلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چھٹویں اور 10ویں کی کتابوں میں ٹیپو سلطان کا باب بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی وقع نہیں ہوگی۔

برٹس حکومت کے دوران انگریزوں کو سخت ٹکر دینے والے حکمراں کے طور پر مشہور ٹیپو سلطان سے جڑے حوالہ جات کو اسکولی نصابوں سے ہٹانے کی کوشش ریاست میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے جاری رہا ہے۔ بی جے پی ممبران اسمبلی، خصوصی طور پرضلع کوڈاگو کے ممبران اسمبلی نے اس سمت میں فوری قدم اٹھانے کے لیے وزیراعلیٰ سے یہ بات کہتے ہوئے بھی اپیل کی تھی کہ ٹیپو سلطان نے کوڈاگو کے لوگوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تھا۔ ریاست کی یدی یورپا حکومت نے ضلع کوڈاگو میں کچھ طبقات کے لوگوں کی سخت مخالفت کے سبب ٹیپو سلطان کی حکومت کے زیراہتمام صد سالہ تقریب بھی منسوخ کردی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ ریاست ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے تشکیل کردہ ماہر کمیٹی نے تنازعات کے پیش نظر ٹیپو سلطان کے باب کو ہٹانے سے متعلق کسی قدم کی مخالفت کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔