کووِڈ جانچ رپورٹ 72گھنٹوں کے اندرجاری کرنا ہوگا لازمی۔ضلع انتظامیہ کو ریاستی حکومت کی ہدایت

Source: S.O. News Service | Published on 27th July 2020, 12:31 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،27؍جولائی (ایس او نیوز) ریاست کے مختلف مقامات پر کووِڈ کی جانچ کی لیباریٹری رپورٹ بہت ہی تاخیر سے ملنے اور بعض دفعہ ہفتے گزرجانے کی خبروں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت نے تمام اضلاع کے افسران کو ہدایات جاری کردی ہے کہ کووِڈ جانچ کے لئے سیمپل حاصل کرنے اور اس کا نتیجہ ظاہر کرنے کا عمل زیادہ سے زیادہ 72گھنٹوں کے اندر مکمل ہوجانا چاہیے۔

ریاستی چیف سیکریٹری وجئے بھاسکر نے تمام اضلاع کے چیف ایکزیکٹیو آفیسرس اور ڈسٹرکٹ سرویلنس آفیسرس کے ساتھ’ویب میٹنگ‘ کرتے ہوئے کہا:”کووِڈ جانچ کے لئے زیادہ سے زیادہ 72گھنٹوں کی حد اس طرح ہوگی کہ سیمپل حاصل کرنے اور اسے لیباریٹری تک پہنچانے کے لئے 24گھنٹے، لیباریٹری میں سیمپل آنے کے بعد اس کی ڈیٹا اینٹری کے لئے 24گھنٹے اورڈیٹا اینٹری کے بعد جانچ کرنے اور اس کی رپورٹ جاری کرنے کے لئے24گھنٹے ہونگے۔“

انہوں نے بتایا کہ جانچ کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے سافٹ ویئر ڈیولپ کیا گیا ہے جس کے ذریعے سیمپل کلیکشن سے لیباریٹری تک پہنچائے جانے کے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔میٹنگ میں چیف سیکریٹری کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈاکٹر شالینی رجنیش بھی موجود تھیں۔ ان دونوں نے اضلاع کے سی ای او اورڈی ایس او سے ان کے ہاں لیباریٹریز میں ابھی تک پینڈنگ پڑے ہوئے جانچ نمونوں کی تفصیلات حاصل کیں۔

چیف سیکریٹری نے تمام اضلاع کے افسران کو ہدایت دی کہ ڈیٹا اینٹری کے لئے اضافی آپریٹرز کو کام پر لگایا جائے۔انفرااسٹرکچر کو سدھارا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لیباریٹری میں مناسب تعداد میں جانچ کی پوری سہولت دستیاب رہے، تاکہ تاخیر کا مسئلہ باقی نہ رہے۔ڈاکٹر شالینی نے افسران سے کہا کہ اس بات کا پورا خیال رکھا جائے کہ کوئی سیمپل جانچ کے بغیر ضائع نہ ہوپائے۔ضلع افسران اور اعلیٰ افسران کے ساتھ بروقت رابطے اور مسائل کے حل کے لئے ایک وہاٹس ایپ گروپ بھی تشکیل دیا گیا۔وجئے بھاسکر نے ڈسٹرکٹ ٹیموں اور لیباریٹری کے ذمہ داروں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ جانچ رپورٹ دینے میں جو تاخیر ہورہی ہے اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو پھر ان کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔