کرناٹک: مکل روہتگی کے دلائل پر سخت برہم ہوئے چیف جسٹس، کہا آپ بتائیں کیا فیصلہ دیں 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th July 2019, 9:48 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 16 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک کے سیاسی بحران کو لے کر سپریم کورٹ میں منگل کو تیکھی بحث ہوئی۔باغی ممبران اسمبلی کی جانب سے مکل روہتگی نے سپریم کورٹ کے آگے بہت سے دلائل رکھے تو چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ان ہی سے پوچھ لیا کہ آپ بتائیں ہم کیا فیصلہ دیں۔عدالت میں جب سماعت شروع ہوئی تو مکل روہتگی نے کہا کہ اسپیکر ممبران اسمبلی کے استعفیٰ کو روک نہیں سکتے ہیں، ایسے میں کورٹ انہیں حکم جاری کرے۔دراصل سماعت کے دوران مکل روہتگی نے دلیل رکھی کہ ممبر اسمبلی کوئی بیوروکریٹ نہیں ہیں جو استعفیٰ دینے کے لئے ان کی کوئی وجہ بتانا پڑے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم آپ کی منطق کو مانیں، تو کیا ہم اسپیکر کو کوئی حکم دے سکتے ہیں؟ یا پھر آپ بتائیے کہ ہم کیا حکم دیں۔جب چیف جسٹس نے یہ پوچھا تو مکل روہتگی نے جواب دیا کہ آپ کے اسپیکر کو کہہ سکتے ہیں کہ ایک طے وقت کی حد میں نااہلی پر فیصلہ کریں۔اس سے پہلے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا کام اسپیکر کے کام کاج میں دخل دینے کا نہیں ہے۔عدالت یہ فیصلہ نہیں کرے گی کہ اسپیکر کو کس طرح سے کام کرنا چاہئے،تاہم اس معاملے میں جو آئینی مسائل ہیں اس پر ہم کچھ کہہ سکتے ہیں۔باغی ممبران اسمبلی کی جانب سے بات رکھ رہے مکل روہتگی نے عدالت کے سامنے مسلسل ممبران اسمبلی کا استعفیٰ قبول کرنے کی بات کہی اور بہت سے دلائل بھی رکھے۔ مکل روہتگی نے کیرالہ، گوا، تمل ناڈو ہائی کورٹ کے کچھ فیصلوں کے بارے میں بتایا،جس میں اسپیکر کو پہلے استعفیٰ پر غور کرنے کو کہا گیا ہے اور نااہل کے لئے فیصلے کو بعد میں۔انہوں نے کہا کہ کیرل کی عدالت نے تو فوری طور پر استعفیٰ قبول کرنے کی بات کہی تھی۔سپریم کورٹ کی طرف سے آدھی رات کو کرناٹک اسمبلی میں اگلے دن فلور ٹیسٹ کروانے کا آرڈر جاری کر دیا گیا تھا۔ مکل روہتگی نے کہا کہ اگر شخص رکن اسمبلی نہیں رہنا چاہتا ہے تو کوئی انہیں زور نہیں دے سکتا ہے۔ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا اور واپس عوام کے درمیان جانے کی ٹھانی ہے۔نااہل قرار دیا جانا اس کی خواہش کے خلاف ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

بلند عزائم کی انوکھی کہانی: بنگلوروکے بس کنڈکٹر نے پاس کیا آئی اے ایس کا امتحان۔ ڈیوٹی کے ساتھ روزانہ کرتاتھا 5گھنٹے پڑھائی!

بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) کی بس میں کنڈکٹر کی ملازمت کرنے والے مدھو این سی ثابت کردکھایا  کہ اگر ارادے پختہ ہوں، عزائم بلند ہوں اور دل و جان سے محنت کی جائے تو کامیابی کے آسمان کو چھونا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ 

چکبالاپور میں سرکاری میڈیکل کالج واسپتال کے تعمیری کام کا آغاز

ضلع کے لئے منظور کی گئی سرکاری میڈیکل کالج و اسپتالکیتعمیری کام کا آغاز آج سے کیا جارہا ہے جس کو اگلے ڈھائی سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ میڈیکل کالج کے تعمیر ہونے سے دونوں اضلاع سمیت آندھرو دیگر ریاستوں کے غریب وکمزور لوگوں کو بہت سہولت فراہم ہوسکے گی۔

غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے نام پر غریب مزدوروں کی جھونپڑیاں منہدم کرانے والے انجینئر کا تبادلہ ، مزدوروں میں خوف و ہراس ، کرناٹک ہائی کورٹ نے لگائی پھٹکار

بنگلورو میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ہٹانے کے بہانے سینکڑوں جھونپڑیوں کو بی بی ایم پی نے منہدم کردیا۔ مہادے پورہ زون کے کریّمنا ا گراہار ،کاڑوہیسناہلی، دیورا ہیسناہلی، بیلندور، ورتور میں بی بی ایم پی نے 300 سے زائد جھونپڑیوں کو منہدم کردیا۔

سی اے اے کیخلاف قرار دادیں ’’دستوری اعتبار سے بھیانک غلطی‘‘ ، کوئی طاقت کشمیری پنڈتوں کو کشمیر واپس جانے سے نہیں روک سکتی ؛ منگلورو میں ریالی سے راجناتھ سنگھ کا خطاب

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج اپوزیشن پارٹیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئےاُن سے خواہش کی ہے کہ یہ پارٹیاں ‘ جہاں اُن کی اکثریت ہے، ریاستی اسمبلیوں میں سی اے اے کیخلاف قرار دادیں منظور کرتے ہوئے ’’دستوری اعتبار سے بھیانک غلطی ‘‘ نہ کریں۔ راجنا تھ سنگھ نے اپوزیشن پارٹیوں کو مشورہ ...

’شاہین باغ‘ خاتون مظاہرین کا حوصلہ بڑھانے پہنچیں 8 ریاستوں کی خواتین

 قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے آٹھ ریاستوں سے آنے والی خواتین نے کہا کہ ہم سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف آپ کی تحریک کی حمایت کرنے اور آپ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنے آئی ہوں۔

کانپور پہنچی یشونت سنہا کی ’گاندھی شندیس یاترا‘، سی اے اے کو بتایا مودی حکومت کی ’نوٹنکی‘

 ممبئی سے گاندھی شانتی سندیش یاترا لے کر منگل کو کانپور پہنچے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ ایک طرف ملک میں جہاں جمہوریت خطرے میں ہے تووہیں ملک کی گرتی معیشت سے پوری دنیا فکر مند ہے۔