کرناٹکا بحران؛ ممبئی پہنچے کانگریسی لیڈران؛ ڈی کے شیوکمار کو ہوٹل کے باہر ہی روک دیاگیا؛ اسپیکر پر ٹکا ہے معاملہ؛باغی ارکان کی سپریم کورٹ سے بھی درخواست

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th July 2019, 2:56 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلور 10/جولائی ( ایجنسی/ایس او نیوز). کرناٹکا کا  سیاسی بحران مزید اُلجھتا ہوا نظر آرہا ہے  جہاں   کانگریس-جے ڈی  ایس اتحادی حکومت اپنی سرکارکو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔اس تعلق سے باغی ارکان اسمبلی سے گفتگو کرنے جب   ریاست کے  وزیر ڈی کے شیو کمار  اور جے ڈی  ایس  رکن اسمبلی شیو لنگا  گوڈا آج بدھ صبح ممبئی پہنچے اور متعلقہ ہوٹل میں جانے کی کوشش کی تو حیرت انگیز طور پر پولس نے انہیں باہر ہی روک دیا اور اندر جانے نہیں دیا۔ بتایا جارہا ہے کہ  باغی ارکان اسمبلی نے  پولیس کو ایک خط لکھتے ہوئے اپنے لئے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی ۔  دریں اثنا، ممبئی کے متعلقہ ہوٹل نے جہاں ڈی کے شیوکمار کا روم بُک تھا،  ہنگامی حالات کا حوالہ دیتےہوئے اُن کی  بکنگ کو منسوخ کر دیا ہے. اب ممبئی پولیس نے ہوٹل کے قریب دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کردئے ہیں ۔

یڈی یورپا کا دھرنا
اس دوران، بی جے پی رہنما اور سابق  وزیر  اعلی  بی ایس یڈیورپا نے اسمبلی کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے  احتجاج شروع کردیا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم دوپہر بعد 3 بجے اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات کریں گے. انہوں نے کہا کہ ڈی کے شیوکمار  کا   ایم ایل اے کے استعفی کو پھاڑنا ناقابل قبول ہے.انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس 12 جولائی سے شروع ہورہا  ہے.اور یہ ایک غیر قانونی سیشن ہے کیونکہ اتحادی حکومت اپنی اکثریت کھو چکی  ہے. یڈی یورپا  گورنر سے بھی ملاقات کرنے والے  ہیں. منگل کو کانگریس سے معطل شدہ  رکن اسمبلی آر  روشن بیگ  نے بھی استعفی دے دیا. اس طرح، باغی کانگریس ارکان اسمبلی کی تعداد گیارہ  اور گٹھ بندھن ارکان اسمبلی کی   تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے. وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامی کی سربراہی میں 13 ماہ پرانی  کانگریس-جے ایس ایس گٹھ بندھن  سرکار  کا مستقبل اب مکمل طور پر اسپیکر کے فیصلے پر ٹکا  ہواہے.

باغی پہنچے سپریم کورٹ، سنوائی ہوگی کل
دوسری طرف، باغی ارکان اسمبلی  نے  اسپیکر پر استعفیٰ قبول کرنے میں تاخیر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے   سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا ہے  . ان ارکان  نے اسپیکر پر الزام لگایا ہے کہ وہ  آئینی ذمہ داریوں کا  پالن  نہیں کررہے  ہیں. سپریم کورٹ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ان ارکان اسمبلی کی درخواست کو  منظوری دے دی ہے  سپریم کورٹ کل اس معاملے کی سنوائی کرے گا۔

بتادیں کہ   کل اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمار نے کہا تھا کہ 13 ایم ایل اے میں سے آٹھ    ایم ایل اے کے استعفی مقرر کردہ ضابطے کے مطابق نہیں ہیں۔

ڈی کے شیوکمار کو ہوٹل کے باہر ہی روک دیا گیا، سیکشن 144 عائد
جب کانگریس کے رہنما اور ریاستی وزیر ڈی کے شیوکمار  جب  ممبئی میں باغی ارکان اسمبلی سے ملنے  پہنچے، تو پولیس  اُنہیں  ہوٹل کے گیٹ سے دور لے گئی. انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی دوست نہیں اور دشمن نہیں. کوئی بھی کبھی بھی بدل سکتا ہے. میں ان  (باغی ارکان اسمبلی ) سے  رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں. میں نے یہاں ایک کمرہ بُک کیا ہے میرے دوست یہاں رُکے ہوئے  ہیں، ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے  اور ہمیں اس پر بات چیت  کرنا ہے. ہم جھٹ سے الگ نہیں ہوسکتے ہیں ، میں اپنے ناراض ساتھیوں ملے بغیر نہیں جاوں گا۔  وہیں ممبئی پولیس نے کہا ہے کہ کرناٹک میں   وزیر ڈی کے شیوکمار کو  صرف اُس  ہوٹل کے اندر جانے نہیں دیا جائے گا  جہاں کانگریس ۔جے ڈی ایس کے 10 باغی ارکان اسمبلی ٹہرے ہیں۔انتظامیہ  کی طرف سے پوائی علاقے میں ہوٹل کے آس پاس سیکشن 144 نافذ کیا گیاہے

باغیوں نے ٹھکرائی مذاکرات کی  پیش کش
ہوٹل میں رُکےہوئے باغی ارکان اسمبلی  نے  پولیس کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ایسی خبر ہے کہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی اور وزیر ڈی کے شیوکمار ہوٹل آرہے ہیں، اس سے ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے، باغی کانگریسی رکن اسمبلی رمیش جارکی ہولی نے منگل کو کہا کہ ہمیں ڈی کے شیوکمار سے بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ   بی جے پی کے کسی بھی رہنما نے ہم سے ملاقات نہیں کی ہے. اس سے پہلے، جے ڈی ایس کے رہنما نارائن  گوڈا کے حامیوں نے  'واپس جائیں، واپس جائیں'. کے نعرے لگائے۔ جس کے بعد  ہوٹل کے باہر حفاظتی انتظامات بڑھا دئے گئے ہیں۔

اسپیکر نے کہا؛ استعفوں پر 12 اور 15 جولائی کو سنوائی
 اسپیکر نے بتایا کہ  روشن بیگ کا استعفیٰ  منگل کو ہی داخل  کیا گیا ہے اس لئے انہوں نے  ابھی روشن بیگ کے استعفیٰ کی اسکروٹنی (جانچ ) نہیں کی ہے  انہوں نے کہا کہ جن  پانچ ایم ایل اے کے استعفے   درست شکل میں ہیں اُن میں سے  تین کو  انہوں نے  12 جولائی کو ذاتی سنوائی ک لئے طلب کیا ہے. 13 جولائی اور 14 جولائی کو چھٹیاں ہیں، اس لئے باقی دو ارکن اسمبلی کو  15 جولائی کو بلایا ہے. انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ قواعد و ضوابط کو دیکھیں گے اور ہورہی سرگرمیوں پر اعلی حکام کے ساتھ غور وفکر  کریں گے، اس کے بعد ہی فیصلہ کریں گے کہ  استعفے  قبول کئے جا سکتے ہیں یا الگ طرح کی کارروائی کی ضرورت ہے. یاد رہے کہ ودھان سبھا اجلاس 12 جولائی سے شروع ہورہا ہے۔

اسمبلی میں پارٹی کی پوزیشن
کل نشستیں 224
کانگریس - 78
جے ڈی ایس 37
بی ایس پی 01
آزاد 02
بی جے پی- 105

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔