کرناٹک کا سیاسی بحران گہرا-مزید 2 اراکین اسمبلی مستعفی بی جے پی باغی لجس لیٹرس کی تائید میں کھل کر سامنے آگئی-مخلوط حکومت کا بچ پانا ناممکن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 12:14 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،11؍جولائی(ایس او نیوز) کرناٹک کے سیاسی بحران میں آج رونما تازہ تبدیلی سے یہ نہیں لگتا کہ کانگریس -جے ڈی ایس مخلوط حکومت بحال ہوسکے گی- آج برسراقتدار کانگریس کے مزید 2 اراکین اسمبلی وزیر برائے ہاؤزنگ ایم ٹی بی ناگراج اور کے سدھاکر نے بھی اسمبلی اسپیکر رمیش کمار کو اپنے استعفیٰ نامہ سونپ دئے -اب استعفیٰ دے چکے اراکین اسمبلی کی تعداد 16 ہوچکی ہے -اس کے ساتھ ہی مخلوط حکومت کے لئے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے -اگر اسپیکر نے ان تمام 16 استعفوں کو قبول کرلیا تو 224 رکن اسمبلی میں برسراقتدار کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین کی تعداد گھٹ کر 101 ہوجائے گی- مخلوط حکومت کو جن 2آزاد اراکین اسمبلی کی تائید تھی حال ہی میں دونوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے - دونوں کا جھکاؤ بی جے پی کی جانب ہے - ان دونوں کی تائید کے ساتھ بی جے پی کی تعداد 107 پر پہنچ جائے گی جس طرح کانگریس کے کئی ایک قد آور اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اپوزیشن بی جے پی نے انہیں اقتدار اور دولت کا بھاری لالچ دیا ہوگا-اسپیکر رمیش کمار نے بھی آج تصدیق کردی ہے کہ ایم ٹی بی ناگراج اور سدھاکر نے بھی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے- استعفیٰ دینے کے فوری بعد ناگراج نے ریاستی گورنر واجوبھائی رودابھائی والا سے ملاقات کرکے اپنے اس فیصلہ سے آگاہ کردیا -دوسری جانب آج ودھان سودھا میں ایک ڈرامہ دیکھنے میں آیا جب سدھاکر اپنا استعفیٰ پیش کرکے اسپیکر کے دفتر سے باہر نکلے تو غصہ میں بھرے کانگریس لیڈروں نے جن میں وزیر سماجی بہبود پرنیک کھرگے بھی شامل ہیں، سدھاکرکا گھیراؤ کرکے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا -لیکن سدھاکر نے ان کی ایک نہ سنی- استعفیٰ پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو ناگراج نے بتایا کہ میں سیاست سے اکتا گیا ہوں اس لئے میں عوامی زندگی سے سبکدوش ہوجانا چاہتا ہوں - کوئی وزارت یا عہدہ نہیں چاہئے -ناگراج ہوسکوٹے اور سدھاکر چک بالاپور اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں - عین اسی وقت سدارامیا نے ودھان سودھا آکر استعفیٰ واپس لینے سدھاکر سے اپیل کی لیکن سدھاکر پر اس کا کچھ اثرنہیں ہوا-

سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا:کرناٹک میں چل رہا سیاسی بحران چہارشنبہ کو اس وقت سپریم کورٹ پہنچ گیا جب کانگریس اور جنتا دل (ایس) کے10باغی ارکان اسمبلی نے عدالت میں ایک عرضی دائر کی-انہوں نے عرضی میں اسمبلی اسپیکر پر جان بوجھ کر استعفیٰ قبول نہ کرنے کا الزام لگایا ہے- چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس اینرودھ بوس کی بنچ کے سامنے سینئر وکیل مکل روہتگی نے ان ارکان اسمبلی کی درخواست کا ذکر کیا اور اسے درج کرنے کی درخواست کی-بنچ نے مکل روہتگی کو بھروسہ دلایا کہ وہ یہ دیکھے گی کہ کیا جلد سماعت کے لئے یہ درخواست کل درج کی جا سکتی ہے-روہتگی نے کہا کہ یہ رکن اسمبلی پہلے ہی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور اب نئے سرے سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں - انہوں نے اس درخواست پر چہارشنبہ یا جمعرات کو سماعت کرنے کی درخواست کی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسمبلی اسپیکر نے تعصب سے بھرپور طریقے سے کارروائی کی ہے اور جان بوجھ کر ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے- ریاستی اسمبلی کے اسپیکر نے منگل کو کہا تھا کہ14باغی ارکان اسمبلی میں سے9 لوگوں کا استعفیٰ صحیح نہیں تھا-کانگریس نے اس معاملے میں اسپیکر کے آر رمیش کمار سے مداخلت کرنے اور ان کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی ہے-کانگریس نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کے اراکین کو پیسے کا لالچ دے رہی ہے-کرناٹک اسمبلی کے 13ارکان - کانگریس کے10اور جنتا دل (ایس) کے3 نے6جولائی کو ایوان کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ اسمبلی اسپیکر کے دفتر کو پیش کیا تھا -اس کے ساتھ ہی ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے لئے سیاسی بحران پیدا ہوگیا -

وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا:بی جے پی نے آج مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے استعفے مطالبہ کیا -اس نے دعویٰ کیاہے کہ حکمران کانگریس جنتادل (ایس) اتحادکیلئے 11 ممبران اسمبلی کے استعفیٰ کے بعد وزیراعلیٰ نے ایوان میں اکثریت کھو دی ہے-سابق نائب وزیراعلیٰ کے ایس یشورپا سمیت ریاست کے کئی بی جے پی لیڈروں نے گاندھی مجسمہ کے سامنے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا کی قیادت میں مظاہرے میں حصہ لیا-مظاہرین نے ’اکثریت کھونے والی حکومت مردہ باد، کرسی پر چپکے رہنے والا وزیراعلیٰ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگائے-اس کے بعد بی جے پی وفد نے ریاستی گورنر اور اسمبلی اسپیکر رمیش کمار سے بھی ملاقات کرکے جن اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دئے ہیں انہیں جلد قبول کرنے کا مطالبہ کیا -

شیوکماراور نسیم خان پولیس حراست میں: کرناٹک کے کانگریس و جنتا دل حکومت کو بچانے آج جب کرناٹک کے وزیرہمپی کے شیوکمار ممبئی کی مضافات میں واقع ایک ہوٹل جہاں کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی قیام پذیر ہیں، انہیں منانے کے لئے ہوٹل پہنچے تو پولیس کی بھاری جمعیت نے شیوکمار سمیت سابق مرکزی وزیر ملند دیورا، کانگریس ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محمد عارف نسیم خان کو حراست میں لے لیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤز میں نظر بند کر کے رکھ دیا --موصولہ اطلاعات کے مطابق آج علی الصباح شیوکمار جب پوائی علاقہ میں واقع ریننسن ہوٹل پہنچے تو یہ علاقہ پولیس چھاؤنی لگ رہا تھا -مقامی ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور اعلیٰ پولیس افسروں نے شیو کمار کو ہوٹل میں جانے سے روک دیا جس کے بعد انہوں نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ آمد باغی اراکین اسمبلی کے مدعو کئے جانے پر ہی عمل میں آئی تھی نیز ان کا اسی ہوٹل میں کمرہ بھی بک تھا لیکن پولیس نے نظم و نسق کا بہانہ بنا کر انہیں اس ہوٹل میں قیام کرنے سے روک دیا -اس موقع پر باغی اراکین اسمبلی کے کئی ایک حمایتی بھی موجود تھے جنہوں نے شیوکمار واپس جاؤ کے نعرے بھی لگائے -اس موقع پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کرناٹک میں جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی کانگریس و جنتادل حکومت کوگرانے کے لئے بی جے پی کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اورجس کے لئے مرکزی حکومت سے لے کر دیگر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کی مشینری کا غلط استعمال کیا جارہا ہے -بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی جارہی ہے -اسی درمیان ممبئی پولیس نے رینائسنس ہوٹل کے آس پاس دفعہ 144نافذ کر دی ہے جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے -

گورنر کے رول پر کانگریس اور جے ڈی ایس کا اعتراض: کانگریس اور جنتا دل(ایس)کے کارکنوں نے گورنر وجو بھائی والا کے مبینہ ”تفرقہ پیدا کرنے والے رویہ“ کی مخالفت میں مظاہرہ کرکے ان کے تئیں اپنے غصہ کا اظہارکیا-وہ ایوان کے پرچموں کے ساتھ گورنر کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے -جبکہ پولیس اہلکارو ں نے یہاں واقع راج بھون کی جانب بڑھ رہے مظاہرین کو روکنے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی-مظاہرین مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتاپارٹی حکومت کی جانب سے ریاست کے وزیر شیوکمار کواس ہوٹل میں جانے کی اجازت نہ دیئے جانے پر بھی اپنے غصہ کا اظہارکررہے تھے جس میں دونوں پارٹیوں کے10باغی رکن اسمبلی قیام پذیر ہیں -جے ڈی ایس اور کانگریس کارکنوں نے سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا کا پتلا جلاکر ان کے خلاف بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا-

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔