کرناٹک: عدالت نے یو اے پی اے کے تحت دو افراد کو کیا بری، کہا ؛ بھگت سنگھ سے متعلق کتاب نکسلائٹس سے تعلق ثابت نہیں کرتی

Source: S.O. News Service | Published on 24th October 2021, 1:03 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 24؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کرناٹک کی ایک سیشن عدالت نے آج دو افراد کو، جن پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت 2012 میں نکسلیوں کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، بری کردیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ مذکورہ افراد سے ضبط شدہ مواد بشمول بھگت سنگھ پر ایک کتاب، جس کا استعمال یہ دعویٰ کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ ان کا نکسلیوں کے ایک گروپ سے تعلق ہے، غیر قانونی نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ضبط شدہ مواد میں سے زیادہ تر ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو ’’عام روزی روٹی کے لیے ضروری ہیں۔‘‘

صحافی وٹلا مالیکوڈیا اور کرناٹک کے کتھلور گاؤں کے ان کے والد لنگپا مالیکوڈیا پر 3 مارچ 2012 کو کدرمکھ جنگل کے علاقے میں مبینہ طور پر پانچ نکسلیوں کی مدد کرنے کے الزام میں مجرمانہ سازش اور بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

انڈین ایکسپریس  کی رپورٹ کے مطابق، مالیکوڈیوں کے ساتھ پہلی معلوماتی رپورٹ میں نام آنے کے باوجود پانچ نکسلیوں کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت نے پانچ نکسلیوں کے کیس کو مالیکوڈیوں سے الگ کر دیا تھا۔

عدالت نے ہفتے کے روز مشاہدہ کیا کہ پولیس یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ 2012 میں ان سے ضبط کیے گئے موبائل فون اور مواد کی بنیاد پر دونوں کا نکسلیوں کے گروپ سے کوئی تعلق تھا۔

عدالت نے کہا’’ان موبائلز کا سی ڈی آر [کال ڈیٹیل ریکارڈ] پیش نہیں کیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران بھی استغاثہ نے ضبط شدہ اصل موبائلوں میں دستیاب مجرمانہ شواہد نہیں دکھائے … صرف ملزمان کی تحویل سے یا ان کے موبائل ضبط کرنے سے پراسیکیوشن کے کیس کو کسی بھی طرح مدد نہیں ملے گی۔‘‘

عدالت نے مزید کہا کہ وہ خط ، جو وٹالہ مالیکوڈیا سے ضبط شدہ مواد کا ایک حصہ تھا، کوئی جرم ثابت نہیں کرتا جس میں اس نے 2012 میں کوتھلور گاؤں میں لوک سبھا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ لوگوں کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تھے۔

عدالت نے کہا ’’پڑھنے پر یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے خطوط میں مقامی لوگوں کے مطالبات ہوتے ہیں۔‘‘

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ گاؤں کے 10 افراد نے، جو استغاثہ کے 23 گواہوں میں شامل تھے، پولیس کیس کی حمایت نہیں کی۔

عدالت نے کہا ’’کسی بھی گواہ نے یہ نہیں بتایا کہ ملزم نمبر 6 اور 7 [وٹلا مالیکوڈیا اور لنگپا مالیکوڈیا] نے بغاوت کا جرم کیا ہے۔‘‘

وہیں بری کیے گئے لوگوں کے وکیل اُلپڈی نے کہا کہ سیشن کورٹ نے انھیں ’’باعزت بری‘‘ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب پولیس نے جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے اور گرفتار شدہ شخص کی عزت بحال کرنی ہے تو اسے باعزت بری کیا جاتا ہے۔ لیکن ’’عدالت نے صرف بری کیا ہے اور ہم باعزت بری ہونے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

چامنڈی پہاڑ پر زمین کھسکنے کے واقعات: نندی مجسمے کے راستے کو پیدل چلنے والے راستہ میں تبدیل کرنے اپیل

گزشتہ چند دنوں سے میسورو ضلع میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے میسور کے قریب واقع چامنڈی پہاڑ پر زمین کھسکنے کے واقعات پیش آرہے ہیں جس کی وجہ سے پہاڑ پر واقع چامنڈیشوری دیوی کے درشن کو پہنچنے والے زائرین کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چکبالاپور ضلع میں کانگریس کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش تیز

چکبالاپور اسمبلی حلقہ میں کانگریس پارٹی کی ساکھ باقی رکھنے اور نچلی سطح سے پارٹی کی مضبوطی پرتوجہ دیتے ہوئے اگلے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو کامیاب کرانے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار کے پی سی سی ممبر وینشام (ونے شام) نے اپنی رہائش پر نامہ نگاروں سے گفتگو ...

وشوا کنڑا کلا کوٹہ کے زیر اہتمام تہنیتی اجلاس، ڈاکٹروں کو لالچی نہیں بلکہ دلدار ہونا چاہئے:ڈاکٹر منجوناتھ

ئے دیوا انسٹی ٹیوٹ آف کار ڈیا لوجی کے ڈائرکٹر و پد ماشری ڈاکٹر سی این منجوناتھ نے کہا کہ ڈاکٹر کو پیشہ و ر اور دلدار ہونا چاہئے نہ کے دولت کا لالچی۔وشوا کنڑا کلا کوٹہ کے زیر اہتمام منعقد تہنیتی اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے ڈاکٹر منجوناتھ نے اس خیال کا اظہار کیا او رکہا کہ دنیا میں ...

ایس ڈی پی آئی کے عہدیداروں کا اخباری نمائندوں کے ساتھ”میڈیا مکالمہ“پروگرام ، ریاستی صدر عبدالمجیداور دیگر نے کئی موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نئے ریاستی عہدیداروں نے پریس کلب میں اخباری نمائندوں کے ساتھ”میڈیا مکالمہ“پروگرام کا انعقاد کیا،

ہاسن چرچ میں ہنگامہ کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ریاست کرناٹک کے  ہاسن ضلع کے ایک چرچ  میں جب مسیحی برادی کے لوگ اپنی خصوصی عبادت میں مشغول  تھے ، تبھی راشٹرییہ سویم سیوک سنگھ کے ذیلی تنظیمیں بجرنگ دل و وشوہ ہندو پریشد کے ورکرز اچانک چرچ میں گھسے اور ہنگامہ کرنے کی کوشش کی۔