اخلاقی پولیسنگ کی تائید کرنے پر وزیر اعلیٰ بومئی کو بنایا گیا تنقید کا نشانہ۔ وزیر اعلیٰ پر کرناٹک کو دوسرا اترپردیش بنانے کا الزام

Source: S.O. News Service | Published on 14th October 2021, 7:36 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

منگلورو، 14؍اکتوبر (ایس او نیوز ) وزیراعلیٰ  بسوراج بومئی نے  کہا کہ جہاں اخلاق نہیں ہوتے وہاں عمل اور ردعمل  ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم اخلاق کے بغیر زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ ریاست میں بڑھتے ہوئے اخلاقی پولیسنگ سے متعلق میڈیا کے کئے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ  نے یہ بات کہی ۔انہوں نے کہا کہ یہ اہم ہے کہ لوگوں کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں ۔اسی طرح سماجی  فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا تحفظ کیا جا سکتا ہے ۔ آئے دنوں سوشیل میڈ یا پر ریاست کرنا ٹک  میں بھی اخلاقی پولیسنگ کے واقعات کی بھر مار ہے جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ بومئی  کو تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے ۔ کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں نے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ اگر ریاست میں ایک طبقہ کے خلاف بیانات اور اخلاقی پولیسنگ کور و کانہیں گیا تو فرقہ پرست قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے اور کر نا ٹک ایک دوسرے گائے کی پوجا کرنے والی ریاست میں تبدیل ہوجاۓ گا۔

منگلورو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بومئی  نے کہا کہ چند نو جوانوں کو لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہئے ، یہ ایک بڑا سماجی معاملہ ہے ۔ ہم میں اخلاق ہونا چاہئے اور اخلاق کے بغیر ہم زندگی نہیں گزار کر سکتے ۔ کانگریس ترجمان لوانیا بلال نے وزیراعلیٰ  بومئی  پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اخلاقی پولیسنگ کی تائید کرتے ہوئے بیانات جاری کر رہے ہیں ۔ایک ریاست کا وزیراعلی جب اخلاقی پولیسنگ کی تائید کر رہا ہے تو ارباب اقتدار سے کیا انصاف کی امید کی جاسکتی ہے ؟ لوانیا نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ لوگ اپنی حفاظت خود کریں،  حکومت آپ کا تحفظ کرے گی اس کی امید نہ کریں ۔ یوتھ کانگریس لیڈرمحمد حارث نلپاڑ نے کہا ہے کہ بومئی  اور ان کے کابینہ ساتھیوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے لوگوں کے تحفظ سے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے ۔لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اس حکومت سے کون کہے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نفرت آمیز بیانات دینے اور ایسے واقعات کو ہوا دینے میں مصروف ہے ۔ٹوئیٹر کا استعمال کرنے والے گلن  ڈی سوزا نے بومئی  پر الزام لگایا ہے کہ بومئی کر نا ٹک کو دوسرا اتر پردیش بنانا چاہتے ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں زوردار بارش سے ہوئے نقصانات پر ایم ایل اے نے کہا؛ 4483 بارش سے متاثرہ مکانات میں سے اب تک 3890 گھروالوں میں معاوضہ تقسیم

   2 اگست کو بھٹکل میں  ہوئی زوردار بارش کے نتیجے  میں جو  نقصانات  ہوئے تھے، اس پر بھٹکل  ایم ایل اے  سنیل نائک نے کہا کہ مشکل کی  اس گھڑی میں پہلے دن سے ہی  وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ بارش سے جملہ  4483    مکانات میں پانی گھس جانے سے گھروں کے اندر موجود کافی چیزوں کو نقصان پہنچا ...

بھٹکل تعلقہ میں برسات کی تباہ کاریاں - اہم دستاویزات سیلاب کی نذر ہونے سے متاثرین کو ہوسکتی ہیں دشواریاں

بھٹکل تعلقہ کے مختلف علاقوں میں پچھلے دنوں شدید بارش کے بعد جو سیلابی کیفیت پیدا ہوئی تھی اس دوران جن گھروں میں پانی گھس آیا تھا ان میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساز و سامان کے علاوہ کئی اہم دستاویزات بھی  پانی میں بھیگ کر خراب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بڑی دشواریوں کا ...

بھٹکل : مٹھلّی گرام میں لال پتھروں کی کھدائی والے علاقے میں بسنے والوں پر منڈلا رہا ہے خطرہ

گزشتہ دنوں ہوئی بھاری برسات کے بعد مٹھلّی گرام پنچایت علاقے میں پہاڑی کھسکنے سے چار افراد کی موت واقع ہونے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کے بعد وہاں پر بسنے والے لوگ خوف اور خدشات میں گھر گئے ہیں ۔ 

بھٹکل میں زوردار بارش کا سلسلہ جاری؛ منڈلّی اسکول کی دیوار بیٹھ گئی - اسکول میں چھٹی رہنے سے ٹل گئی ٹریجڈی؛ اپسر گونڈا میں پہاڑی میں شگاف

سنیچر کے دن پوری رات برسنے والی بھاری بارش کی وجہ سے     منڈلّی میں واقع سرکاری اسکول نمبر 1 کی دیوار گر گئی اور چھت کا ایک حصہ  بھی منہدم ہوگیا ۔   واردات اتوار کو پیش آئی۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اتوار ہونے کی بنا پر اسکول میں چھٹی تھی، اس لئے  ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔

بھٹکل تینگنگونڈی کے ماہی گیروں کو ایک ایک لاکھ روپیہ معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ لے کر ویلفئیر پارٹی نے تحصیلدار کو دیا میمورنڈم

گذشتہ ہفتہ بھٹکل میں ہوئی  زبردست بارش میں جہاں کئی  مکانوں ، دکانوں  اور کھیتوں وغیرہ کو نقصان پہنچا وہیں ماہی گیروں کی کشتیاں اور مچھلیوں کا شکار کرنے والی بوٹوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، کئی ماہی گیروں کی کشتیاں سمندر میں بہہ کر لاپتہ بھی ہوئی ہیں  تو بعض  کی کشتیاں سمندر میں ...

بی جے پی کو ترقی کا مطلب ہی معلوم نہیں ہے: رام لنگاریڈی

بی جے پی حکومت کے سربراہ ملک کی ترقی کے بارے میں سوچنے کی بجائے سرکاری ملکیت والے اداروں کو پرائیوٹائز کرنے اور صنعت کار ادانی اورامبانی کو مزید دولتمند بنانے میں لگے ہوئے ہیں،جس سے ملک کے عوام کو کئی مشکلو ں کا سامناکرناپڑرہاہے۔بی جے پی کو ترقی کا مطلب ہی معلوم نہیں ہے۔یہ بات ...

اس ملک کوبی جے پی نے کیا دیاہے؟: سابق وزیراعلیٰ سدارامیا

کانگریس پارٹی نے اس ملک کو آزادی دلائی اور ہمیں یہاں آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دیاہے،مگر اس ملک کیلئے بی جے پی جیسی بدعنوان اور فرقہ پرست پارٹی نے کیا دیاہے؟یہ سوال سابق وزیراعلیٰ و اپوزیشن لیڈرسدارامیانے کیا۔

جشن آزادی کی مناسبت سے75الیکٹرک بسیں دوڑانے کافیصلہ، بنگلورو شہرکے بس اسٹانڈوں میں 300چارجنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے: بی ایم ٹی سی

آزادی کے75سال کی منا سبت سے منائے جا رہے امرت مہا اتسو کے موقع پر بنگلور شہر کے مسافروں کیلئے بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن(بی ایم ٹی سی)نے مزید 75 الیکٹرک بسوں کو سڑکوں پر دوڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت عوام پرورمنصوبے جاری کرنے میں ناکام:کانگریس

)مہا دیو پورہ اسمبلی حلقہ کے منوکولا لو وارڈ کے سابق کانگریس کارپوریٹر ایس،ادے کمار نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اپنے دوراقتدار کے دوران عوامی مفادات پروگرامس کو جاری کرنے میں نا کام رہی ہے،اور وہ ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے 40فیصد کمیشن کے دھندہ کو اپناتے ہو ئے ...