کنڑا روزنامہ کا بی جے پی پر پھر وار؛ لکھا،کرناٹک سے بی جےپی کے 25ایم پی منتخب ہونے کے باوجود مرکز نے کیا کرناٹک کو نظر انداز

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 3rd January 2020, 12:55 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:2؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے۔ مسلسل دوسرے دن بی جے پی پر نشانہ لگاتے اخبار نے سرخیوں میں لکھا ہے کہ کرناٹک سے بی جے پی کے 25 ارکان پارلیمان ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کرناٹک کو نظر انداز کررہی ہے۔

کرناٹک نظر انداز:وزیر اعظم نریندر مودی   ٹمکور میں کسان سمان منصوبے  کے دوسرے مرحلے کے اجرائی پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچ رہے ہیں ایسے میں اپنی ہی پارٹی کی اقتدار والی حکومت سے سوتیلا سلوک کئے جانےکےمتعلق بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔

اخبار کےمطابق ریاست سے بی جےپی کے 25ارکان پارلیمان کو منتخب کرنےکے باوجود فنڈ کی تقسیم میں نظر اندازی ، ریاست کی شکایات پر خاموشی ، سیلاب معاوضہ معاملے میں ان دیکھی، مہادائی تنازعہ میں گوا، مہاراشٹرا لابی کی حمایت سمیت بے شمار معاملات کنڑیگاس کے تحمل کا امتحان لے رہے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے غصہ پھوٹنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018 کے ودھان سبھا اور 2019 کےلوک سبھا انتخابات کے موقع پر اس بات کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ترقی کا سیلاب آجائے گا۔ چونکہ پچھلے دو تین دہائیوں سے مرکزمیں اقتدار والی پارٹی ریاست میں اقتدار پر نہیں تھی اوراسی وجہ سے مرکز سے ریاست کو توقع کے مطابق امداد نہیں مل پارہی تھی۔ اسی لئے مرکز میں مودی اور ریاست میں یڈیورپا نامی نعرے کی ووٹروں نے حمایت کی جس کےنتیجےمیں بی جےپی سب سے زیادہ یعنی 105نشستوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ۔

مخلوط حکومت گرنے کے بعد سنگین حالات میں بی ایس یڈیورپا نے اقتدار سنبھالاتو عوامی حمایت کے مطابق مرکزاور ریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت بن گئی ۔ اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جےپی نے ریکارڈ 12حلقوں سے جیت درج کی۔ اتنا زبردست اور بہتر مظاہرہ کرنےکے بعد بھی مودی حکومت ریاست کی مانگوں پر توجہ دینا تو دور کی بات، ان کی سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہے، یہی وجہ کہ نئے منصوبوں کے متعلق کوئی بھروسہ نہیں دیا جارہاہے۔ ریلوے اور زمینی نقل وحمل محکمہ کے ذریعے اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مانند کچھ امداد کے سوا دیگر محکمہ جات کی طرف سے کوئی تعاون نہیں مل رہاہے۔ انتخابی تشہیر کے دوران بنگلورو میں وزیر اعظم مودی نے جو بھاشن دیا تھا اور جو باتیں کہی تھیں ابھی تک انہی کے پارٹی کے کانوں میں گونج رہی ہیں۔

بنگلورو کے تشہیری جلسہ میں وزیر اعظم مودی نے اس وقت کی کانگریس حکومت سے سوال کیا تھا کہ پچھلے ساڑھے چارسالوں میں مرکز سے آئی ہوئی امداد ابھی تک ریاستی عوام تک نہیں پہنچی ہے۔ اخبار کے مطابق مرکز میں جب کانگریس کی حکومت تھی تو ریاست کو 73،000کروڑ روپئے کی امداد ملتی تھی مگر بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد ریاست کو 2لاکھ کروڑ روپئے سے زائد کی امداد ملتی ہے، اخبار نے سوال کیا ہے کہ وہ رقم گئی کہاں ؟  اخبار کے مطابق کرناٹک میں اب بی جےپی کی ہی حکومت ہے ، اس کے باوجود اس کے حصہ کی امدادی رقم کے لئے بار بار اپیل کرنے کی نوبت آئی ہے۔ نریگا اور سیلاب معاوضہ کی رقم حاصل کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کرنی پڑرہی ہے۔ ایسے میں خصوصی پیکیج کی بات ہی کہاں ہے ۔

کوئی توجہ نہیں : ریاستی محکمہ معیشت کے افسران کا کہنا ہے کہ معاشی سطح کی مانگوں کے متعلق مرکز سے کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ وہاں کیا ہورہاہے ہمیں پتہ نہیں چل رہاہے، ہماری ریاست میں حکومت کرنے والی پارٹی کو مرکز کے خلاف آواز اٹھانے کا موقع نہیں ہے ، جب کہ دیگر پارٹیوں کی اقتداروالی ریاستیں متحدہ طورپر مرکز پر دباؤ بنانے کی بات کہہ رہے ہیں۔

معاشی مندی کے چلتے مرکزکو ممکنہ سطح پر ٹیکس نہیں ملا ہوگا، لیکن اس کی بنا پر ریاستوں کو اندھیرے میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ آخر کار سب مل کر آواز اٹھائیں تو ایک قسط کی رقم موصول ہونے کی افسران نے جانکاری دی ہے۔

خطرہ درپیش ہے : جی ایس ٹی معاوضہ کی پہلی قسط منظور ہونے کی وجہ سے ڈسمبر تک کوئی مشکل نہیں تھی ، لیکن آئندہ کے معاشی منصوبہ جات کو انجام دینے کے لئے بقیہ رقم کی منظوری ضروری ہے ورنہ مشکلات میں اضافہ ہونے کا محکمہ معیشت کے ذرائع نے جانکاری دی ہے۔ شروع شروع میں ہر مہینہ مرکز سے رقم ادا ہوتی تھی، اس کے بعد دو تین مہینوں کے بعد ہونے لگی۔ اب درخواست دے کر دباؤ ڈال کر منظور کروانے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔

مہا دائی منصوبہ مہا ناٹک : مہا دائی اور کرشنا ندی کے منصوبہ جات کے نفاذ میں مرکزی حکومت ہی رکاوٹ بن گئی ہے۔ پانی کے استعمال کے متعلق اعلامیہ جاری کرنے کے بجائے ریاستوں کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ریاست کے بی جے پی لیڈران پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ریاست کی امیدیں : مرکز سے ٹیکس حصہ داری کے طورپر رواں معاشی سال میں ریاست کو 36،215کروڑروپئے اور 15،371کروڑ روپئے کی معاشی امداد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اسی کے مطابق ریاستی حکومت اپنا بجٹ تیار کرتی ہے۔ مرکز سے حصہ داری کم ہوتی ہے تو ریاست کے لئے ضروری ہوگا کہ اپنے اخراجات کو کم کرے۔اخبار نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس بار مرکز سے 5ہزارکروڑ روپئے کی مدد کم ملنے کا خدشہ ہے۔

سوال جن کے جواب نہیں ملے : 1۔سیلاب میں ہوئے نقصان 38ہزار کروڑ روپیوں میں اصولوں کےمطابق کم سے کم 3800 کروڑروپیوں کا معاوضہ ملنے کی امید تھی ۔ ابھی تک صرف 1200کروڑروپئے ہی دئیے گئے ہیں وہ بھی بروقت نہیں مل پائے۔ بقیہ رقم کی منظوری کا دور دور تک پتہ نہیں۔

2۔ سیلاب معاوضہ اصولوں میں شمار نہیں کئے گئے نقصانات کے معاوضہ کے لئے پیش کش کی گئی تھی۔ باغبانی فصل، بنیادی سہولیات وغیرہ کے لئے 10ہزار کروڑ روپیوں کا اندازلگایاگیا تھا۔ اس تعلق سے کوئی آواز تک نہیں ۔

3۔سال بہ سال تعلیمی بجٹ میں کمی کی جارہی ہے، گزشتہ  برس بچوں کو دوسران یونیفام مہیا کرنا ممکن نہیں ہوا، امسال اسکولی عمارات کی درستی کے لئے بجٹ کی کمی ہے۔

4۔ نریگا منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں عوام کو روزگار فراہم کئے جانے پر ابھی 2000کروڑروپئے بقایہ ہے، ریاستی حکومت اس کو اپنے خزانے سے اداکرنے کے بعد مرکز سے موصول ہونے کے انتظارمیں ہے۔

5۔ ریاست  کے باقی اور ادھورے آب پاشی منصوبہ جات کو مکمل کرنے کے لئے  خصوصی امداد دینے کا مرکزی لیڈران نے ہی اعلان کیا تھا۔ مگرا ب درخواست دینے کے لئے بھی موقع نہیں دیا جارہاہے۔

6۔برائے نام نئے ریلوں کو ہری جھنڈی دکھائےجانے کے سوا ریلوے میں بنیادی سہولیات ، اعلان کردہ منصوبہ جات کے لئے امداد منظور نہیں کی گئی ہے۔ سب اربن منصوبہ بھی کیچوے کی چال میں ہے۔

7۔مرکزی حکومت کے مختلف منصوبوں کی شراکت داری میں کٹوتی کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت مجبوری میں اپنے خزانے سے جاری رکھنے کی وجہ سے کوئی نیا منصوبہ اعلان کرنا ممکن نہیں ہوپارہاہے۔

8۔بے تحاشہ بڑھتے ہوئے بنگلورو کے بنیادی سہولیات کی ترقی کے لئے مرکزی حکومت سے اضافی امداد کی امید لگائی گئی تھی ، انتخابات کے دوران اس کاوعدہ بھی کیا گیا تھا، لیکن اب وہ وعدہ صرف فہرست میں ہی ہے۔

9۔ زرعی اور آب پاشی منصوبہ جات میں حصہ داری کم کئے جانے کی وجہ سے ریاستی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ رقم جٹانے میں ہورہی تکالیف کے پیش نظر منصوبہ جات بڑی آہستگی کے ساتھ جاری ہیں۔

10۔جب یو پی اے کی حکومت تھی تو جے نرم منصوبہ بھی تھا جس کے تحت شہری علاقوں کے ٹرافک شعبہ کو لگاتار رقم ملتی تھی ۔ اس منصوبے کے نتائج آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ متعلقہ منصوبے کو رد کئے جانےکی وجہ سے عوامی ٹرافک کی آمدنی میں بھاری کمی ہوئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا کا خوف؛ ہارٹ کے مریض کو دیکھنے سے پرائیویٹ اسپتال سمیت مرڈیشور سرکاری ڈاکٹر کا بھی انکار؛ دو تین گھنٹوں کی دوڑ دھوپ کے بعد مریض نے توڑا دم

لیڈران، ذمہ داران یہاں تک کہ ڈاکٹرس پوری شدت کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ  کورونا سے کسی کو ڈرنے یا خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے،  مگر دیکھا جائے تو عوام سے زیادہ    ڈاکٹرس ہی  کورونا سے خوف کھاتے ہیں بعض ڈاکٹرس کورونا سے اتنا زیادہ خوف کھاتے ہیں کہ وہ ہر مریض کو  کورونا کا ہی مریض ...

مینگلور کے سابق ایم ایل سی ایوان ڈیسوزا کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آتے ہی رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کیا ہوم کورنٹائن کا اعلان

سابق ایم ایل سی ایوان ڈیسوزا کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے کی اطلاع کے اگلے ہی روز رکن اسمبلی یوٹی قادر نے اتوار کو  اعلان کیا کہ وہ خود سے ہی ہوم کورنٹائن ہوگئے ہیں کیونکہ وہ ایوان ڈیسوزا کے ابتدائی رابطے میں تھے۔

منگلورو:کووِڈ سے فوت ہونے والوں کی آخری رسومات ان کے گھر والے ادا کرسکیں گے۔جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع انتظامیہ کی مشروط اجازت

منگلورو کے اسسٹنٹ کمشنر مدن موہن کے بیان کے مطابق اب کووِڈ کی وجہ سے فوت ہونے والوں کی آخری رسومات اگر ان کے گھر والے اداکرنا چاہیں تو مشروط طور پر وہ یہ کام کرسکیں گے۔

دبئی :یو اے ای میں مقیم ہندوستانیوں کا پاسپورٹ 2دن میں رینول ہوجائے گا۔ قونصل جنرل کی یقین دہانی

متحدہ عرب امارات  کے لئے ہندوستانی قونصل جنرل امن پوری نے یو اے ای میں مقیم ہندوستانیوں کو یقین دہانی کرائی  ہے کہ درخواست ملنے کے 2دنوں کے اندر ان کا پاسپورٹ رینیوکردیا جائے گا۔

ملک کے وزیرداخلہ کے بعد اب کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی کورونا رپورٹ بھی نکلی پوزیٹیو؛ کرناٹک میں آج بھی کورونا کے معاملات پانچ ہزار سے زائد

کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ اُن کی کوویڈ۔19 رپورٹ آج اتوار کو  پوزیٹیو پائی گئی ہے۔ رات قریب 11:30 بجے ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ویسے تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر   احتیاطاً   اسپتال میں  ایڈمٹ ہوگئے ہیں۔

کرناٹک کے ضلع گدگ میں ماں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ٹی وی خریدنے کے لئے "منگلسوتر" بیچ دیا

ریاست کرناٹک کے ضلع گدگ کی ایک خاتون نے کووڈ 19 وباء کے درمیان ٹی وی کے ذریعے کلاس جاری رکھنے کے کرناٹک حکومت کے فیصلے کے بعد اپنے بچوں کے لئے ٹیلی ویژن سیٹ خریدنے کے لئے اپنا "منگلسوتر" فروخت کر دیا۔

مینگلور کے سابق ایم ایل سی ایوان ڈیسوزا کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آتے ہی رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کیا ہوم کورنٹائن کا اعلان

سابق ایم ایل سی ایوان ڈیسوزا کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے کی اطلاع کے اگلے ہی روز رکن اسمبلی یوٹی قادر نے اتوار کو  اعلان کیا کہ وہ خود سے ہی ہوم کورنٹائن ہوگئے ہیں کیونکہ وہ ایوان ڈیسوزا کے ابتدائی رابطے میں تھے۔

منگلورو:کووِڈ سے فوت ہونے والوں کی آخری رسومات ان کے گھر والے ادا کرسکیں گے۔جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع انتظامیہ کی مشروط اجازت

منگلورو کے اسسٹنٹ کمشنر مدن موہن کے بیان کے مطابق اب کووِڈ کی وجہ سے فوت ہونے والوں کی آخری رسومات اگر ان کے گھر والے اداکرنا چاہیں تو مشروط طور پر وہ یہ کام کرسکیں گے۔

کیاکرناٹکا میں قابو میں آرہا ہے کورونا ؟ پانچ ہزار سے زائد معاملات آنے کا سلسلہ جاری،اُڈپی اور مینگلور میں ایک ہی دن دس اموات

کرناٹک میں آج پھر ایک بار پانچ ہزار سے زائد کورونا کے معاملات درج کئے گئے ہیں البتہ  آج بنگلور میں  کورونا سے متاچڑہ لوگوں کی تعداد جو کافی دنوں سے  دو ہزار کو پار کررہی تھی، آج دو ہزار  سے  گھٹ گئی۔ راحت کی دوسری خبر یہ بھی رہی کہ آج ایک ہی دن 3860 لوگ ڈسچارج بھی ہوئے۔

بھاسکر راؤ نے بنگلورو پولیس کا شکریہ ادا کیا

کمل پنت کو شہر بنگلور کا نیا پولیس کمشنر مقررکیاگیا ہے۔ سبکدوش ہونے والے پولیس کمشنر بھاسکر راؤ نے وائرلیس کے ذریعہ شہرکی پولیس کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی میعاد میں پولیس نے ان کا بھرپور تعاون کیا۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک ...

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

بابری مسجد کے "بے گناہ" مجرم ............ تحریر: معصوم مرادآبادی

بابری مسجد کا انہدام صدی کا سب سے گھناؤناجرم تھا۔ 6 دسمبر1992کو ایودھیا میں اس پانچ سو سالہ قدیم تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کرنے والے سنگھ پریوار کے مجرم خودکو سزا سے بچانے کے لئے اب تک قانون اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں۔ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ...