ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

Source: S.O. News Service | Published on 17th September 2019, 12:59 PM | ملکی خبریں |

چینائی،17؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ و بی جے پی قومی صدر امیت شاہ نے ایک قوم ایک زبان پر ہندی زبان کو ترجیح دی تھی۔ پیر کے دن کمل ہاسن نے ایک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کیا جس میں انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ایک بار پھر زبان کے لئے تحریک چلے گی او ریہ تحریک جلی کٹو سے بھی زیاد ہ بڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان یا تمل ناڈو میں ایسی جنگ کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی ترانہ بنگلہ زبان میں ہے لیکن ہم اسے نہایت احترام سے گاتے ہیں او رجس شخص نے اسے لکھا ہے وہ ہر زبان کو اہمیت او راحترام دیتا تھا۔ اداکار مسٹر ہاسن نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تمام لوگ ہم آہنگی کے ساتھ ملک بیٹھتے ہیں او رکھاتے ہیں ہمیں زبردستی کھلایا نہیں جاتا۔ وہیں دوسری جانب کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنائی رائی وجین نے اس معاملہ کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ہندوستانی اپنی زبان کے باعث ملک میں اجنبی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار نے زبان کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے ایک نئی جنگ کا آغاز کیا ہے۔ پنائی رائی وجین نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ بی جے پی قومی صدر امیت شاہ کے اس بیان پر سارے ملک میں احتجاجی مظاہرہ ہورہے ہیں لیکن انہوں نے اپنا بیان واپس نہیں لیاجس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سنگھ پریوار کا ایک ایجنڈا ہے۔رکن پارلیمنٹ حیدرآباد و صدر مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے بھی امیت شاہ کے اس بیان پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندی ہر ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین کی دفعہ 29ہر ہندوستانی کو زبان‘ تہذیب او رتحریر کی واضح طو پر اجازت دیتی ہے۔ رکن پارلیمان نے کہا کہ وہ ملک کی کثرت میں وحدت‘ خوبصورت او رکئی مادری زبانو ں کی ستائش کرتے ہیں جو اس ملک کی بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ صرف ہندی ہی ملک کو متحد کرسکتی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہندی کو پہلی زبان بنایا جائے کیونکہ ہندوستان کی نمائندگی کرنے کیلئے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خود ساختہ گرو ’کلکی بھگوان‘ کے ٹھاکانوں پر چھاپے، 500 کروڑ کی غیرمعلنہ جائداد کا انکشاف

  محکمہ انکم ٹیکس نے تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرپردیش اور تلنگانہ میں ایک خود ساختہ روحانی گرو کلکی بھگوان کی جانب سے ویل نیس (تندرست بنے رہنے) کا پروگرام چلانے والے اداروں اور کمپنیوں کے 40 مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے جن میں اس گروپ کے 500 کروڑ روپیے کی غیرمعلنہ جائداد کا انکشاف ہوا ...

گزشتہ پانچ سالوں میں مہاراشٹر میں ہر دن7کسانوں نے کی خودکشی:ایک حیران کن رپورٹ

مہارشٹرا میں ووٹ کےلیے صرف دو دن باقی ہیں، سیاست گرم ہے، اور سبھی سیاسی پارٹیاں مصروف ہیں، شیوسینا سمیت بی جے پی پھر سے عوام کو جھوٹے خواب دکھا رہی ہے، اس میں کسانوں کو لے بھی کئی بڑی بڑی باتیں کی گئی ہے۔

وادی کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال کے 2.5 ماہ مکمل، تاریخی جامع مسجد کے محراب و منبر مسلسل خاموش

 وادی کشمیر میں جہاں جمعہ کے روز غیر اعلانیہ ہڑتال کے ڈھائی ماہ پورے ہوئے تو وہیں پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع 6 سو سالہ قدیم اور وادی کی سب سے بڑی عبادت گاہ کی حیثیت رکھنے والی تاریخی جامع مسجد کے منبر ومحراب مسلسل ڈھائی ماہ سے خاموش ہیں

پورے ملک میں این آرسی لازمی طورپر نافذ کی جائے گی : بنگلوروکے قریب نیل منگلا میں حراستی کیمپ کی تعمیر ، این آر سی کے پیشگی کارروائیاں :وزیر داخلہ امیت شاہ

قومی شہریت رجسٹریشن (این آر سی ) کو لے کر وزیر داخلہ امیت شاہ نے دوبارہ بیان دیا ہے کہ وہ آسام کی طرح پورے ملک میں اس کو نافذ کریں گے۔ دراصل مہاراشٹرا اور کرناٹکا میں تعمیر کئے جارہے حراستی کیمپ کے متعلق سوشیل میڈیا پر چلنےوالی خبروں پر انہوں نے وضاحت کی ہے۔

اپنے معاملات شرعی ضابطے کے مطابق حل کروائیں، راجستھان میں منعقدہ اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کا خطاب

  شریعت اسلامی پر عمل مسلمانوں کیلئے لازمی اور ضروری ہے، من چاہی زندگی اور نفس و شیطان کی غلامی اور اخلاق کا بگاڑ ہمیں تباہی سے دو چار کردے گا۔ اپنے اخلاق کی پختگی اور اعمال کی درستگی پر پوری توجہ دینی چاہیے اور اپنے معاملات کو شرعی ضابطے کے مطابق حل کرنا چاہیے۔مذکورہ بالا ...