بس صبر کا دامن پکڑے رہیے۔۔۔۔ از: ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 9th January 2022, 1:42 PM | اسپیشل رپورٹس |

پھر وہی چھچھوری حرکت، ہندوتوا گروپ کی جانب سے اب بُلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم ماں بیٹیوں کی نیلامی۔ جی ہاں، اس نیلامی میں نوجوان صحافی بھی ہے تو پچاس برس سے زیادہ عمر کی ماں بھی ہے اور تیس پینتیس برس کی سیاسی اور سماجی کارکن بھی ہے۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس ویب سائٹ پر جس کی بھی تصویر لگی ہے ان سب نے کبھی نہ کبھی بی جے پی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مقصد صاف ہے اور وہ یہ کہ تمھاری عورتیں بھی اگر ہمارے خلاف آواز اٹھائیں گی تو ہم ان کو ایسا ذلیل کریں گے کہ پھر ہمارے خلاف آواز اٹھانے کی وہ جرأت نہ کر سکیں۔ یہ سب کچھ ایک جمہوری نظام میں ہو رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی ہے۔ ہاں، دو تین نوجوان پکڑے گئے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم اور بی جے پی کے دیگر اعلیٰ قائدین خاموش ہیں۔ جب اس ذلیل حرکت کے خلاف عالمی میڈیا میں شور مچا تو نائب صدر ونکیا نائیڈو نے اس بات کی مذمت کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وزیر اعظم کیوں خاموش ہیں۔ بی جے پی کو کیوں چپی لگی ہے!

بھلا بھارتیہ جنتا پارٹی ان حرکتوں کے خلاف آواز اٹھائے تو اٹھائے کیسے! حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم منافرت کی سیاست کی بنا پر ہی بی جے پی مرکزی اور صوبائی اقتدار تک پہنچی ہے۔ شروعات بابری مسجد-رام مندر قضیے سے ہوئی۔ سنہ 1986 میں مسجد کا تالا کھلتے ہی مسلم مخالف دنگوں کی جھڑی لگ گئی۔ سنہ 1992 میں مسجد گرا دی گئی اور مسلمان ہندو دشمن ٹھہرا دیا گیا۔ پہلے ممبئی میں مسلم نسل کشی ہوئی اور پھر مودی کے گجرات میں سنہ 2002 میں نہ صرف مسلم نسل کشی ہوئی بلکہ مسلم عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی۔ اسی دوران گجرات سے آبرو ریزی کے ویڈیو چلائے گئے۔ سنہ 2014 میں نریندر مودی کے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد سے تو نفرت کی سیاست کا بازار گرم ہو گیا۔ کبھی موب لنچنگ تو کبھی اذان کی مخالفت تو کبھی بہانے سے جمعہ کی نماز پر پابندی تو کبھی حجاب کی مخالفت اور اب خواتین کی بے حرمتی۔ الغرض ہندو گروپ مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر مسلمان ہے کہ صبر و شکر سے تمام پریشانیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ دراصل مسلمانوں کی اس صبر سے ہندوتوا طاقتیں پریشان ہو چکی ہیں۔ کیونکہ بی جے پی سیاست اس وقت تک چمکتی نہیں ہے جب تک کہ عام ہندو کے سامنے ایک مسلم دشمن نہ ہو۔ جیسے کہ جب رام مندر تعمیر کا معاملہ کھڑا ہوا تو ایک بابری مسجد تھی اور اس مسجد کے تحفظ کے لیے علماء کے ساتھ بابری مسجد ایکشن کمیٹی جیسی ایک مسلم تنظیم تھی جو نعرہ تکبیر کے ساتھ اس جگہ پر مندر تعمیر کی مخالفت کر رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں وشو ہندو پریشد ایک ہندو پارٹی کے طور پر کھل کر رام مندر تعمیر کی حمایت کر رہی تھی۔ اس طرح ملک میں ہندو-مسلم دو مخالف گروہ بالکل آمنے سامنے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف غصہ پیدا ہو رہا تھا۔ اور بابری مسجد کا انہدام اسی غصے کا نتیجہ تھا جس کا سیاسی فائدہ بی جے پی نے اٹھایا۔

یعنی بی جے پی کی سیاست کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ مسلمان کسی ایشو پر کھل کر مسلم مخالفت کریں اور اس ایشو پر سڑکوں پر مظاہرہ کریں تاکہ ہندوتوا گروہ پھر ہندو پارٹی کے طور پر میدان میں کود پڑے۔ پھر بی جے پی چناؤ میں اس کا فائدہ اٹھائے۔ ان دنوں پھر سے وہی بابری مسجد-رام مندر قضیے کی حکمت عملی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ جلد ہی پانچ صوبوں کے اسمبلی چناؤ ہیں۔ اتر پردیش میں بھی چناؤ ہونا ہے۔ وہاں سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ بی جے پی کے لیے پریشان کن ہیں۔ چنانچہ اب کوشش یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو غصہ دلا کر ان کو جذبات میں سڑکوں پر نکالا جائے۔ اسی لیے کبھی جمعہ کی نماز پر پابندی تو کبھی بُلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم عورتوں کی نیلامی تو کبھی حجاب کا قضیہ کھڑا کیا جاتا ہے۔

کوشش یہی ہے کہ کسی طرح سے مسلمان جذبات میں سڑکوں پر نکل آئیں۔ اسی لیے مسلمانوں کو دکھتی رَگ دبائی جا رہی ہے۔ جمعہ کی نماز ہر مسلمان پڑھتا ہے۔ اس کو روک دو تاکہ اس کو غصہ آئے۔ اس کی ناموس کو ذلیل کرو تاکہ ہیجان پیدا ہو۔ حجاب کو ایشو بناؤ تاکہ وہ کھڑا ہو جائے۔ لیکن مسلم معاشرے کو ہندوتوا طاقتوں کی یہ حکمت عملی سمجھ میں آ چکی ہے۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ جذباتی سڑکوں کی سیاست مذہبی قیادت کے ساتھ اس کے لیے خودکشی کا سودا ہے۔ وہ اب صبر اور شکر کے ساتھ خاموش بیٹھا ہے۔ چناؤ سر پر آتے جا رہے ہیں اور ابھی تک سیاست کسی طرح سے ہندو-مسلم رخ نہیں لے سکی ہے۔ اگر کسی طرح منافرت کی آگ نہیں پھیلی تو بی جے پی کے ہاتھوں سے یو پی جیسا اہم صوبہ نکل نہ جائے۔ اس گھبراہٹ میں ہندوتوا طاقتیں آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کرتی رہتی ہیں کہ کسی طرح مسلمان غصے میں سڑکوں پر نکل پڑے۔ بُلی بائی ایپ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

لیکن صرف مسلم سماج ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے حق میں یہی ہے کہ وہ صبر کے ساتھ خاموش رہے جو وہ عقلمندی سے کر رہا ہے۔ بس خاموش رہیے، صبر کا دامن پکڑے رہیے۔ ان شاء اللہ یہ برا وقت بھی گزر جائے گا۔

آخر پنجاب میں ہو کیا رہا ہے!

لیجیے اب پنجاب حکومت پر وزیر اعظم نے ان کو جان سے مروا دینے کا الزام لگا دیا۔ آپ واقف ہی ہیں کہ پچھلے ہفتے وزیر اعظم پنجاب کے دورے پر گئے۔ پہلے وہ ہوائی جہاز سے بھٹنڈا پہنچے۔ ان کو آگے حسینی والا ہیی کاپٹر سے جانا تھا جہاں ان کو ایک سرکاری پروگرام کے بعد ایک چناوی ریلی سے خطاب بھی کرنا تھا۔ لیکن چونکہ اس علاقے میں بہت سخت بارش تھی اس وجہ سے وزیر اعظم آگے کا سفر ہیلی کاپٹر سے نہیں کر سکتے۔ لیکن یکایک انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ حسینی والا اپنے قافلے کے ساتھ موٹر سے جائیں گے اور یہ جا وہ جا مودی جی ایکدم سے کار سے چل پڑے۔ پنجاب کے کسان پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ان کی مخالفت کریں گے۔ اور یہی ہوا۔ کسانوں نے وزیر اعظم کا راستہ روکا۔ ان کے خلاف نعرے لگائے۔ اور مجبوراً ان کو واپس بھٹنڈا آنا پڑا۔ وہاں پہنچ کر مودی جی نے بہت تلخ لہجے میں پنجاب کے ایک وزیر سے یہ کہا کہ اپنے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کر دینا کہ میں زندہ سلامت واپس آ گیا۔

بس اس کے فوراً بعد بی جے پی صدر سے لے کر مرکزی وزرا تک وزیر اعظم کی صحت و سلامتی کے لیے خدا کا شکر کرنے لگے۔ پنجاب حکومت کے خلاف الزاموں کی بوچھار شروع ہو گئی۔

لیکن سیاست تو سیاست ہوتی ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی بی جے پی کو جواب دیا کہ ان کی جانب سے وزیر اعظم کی سیکورٹی میں کوئی غفلت نہیں برتی گئی۔ یہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ یکایک بائی روڈ چل پڑے۔ اس کی اجازت صرف ان کی ایس پی جی سیکورٹی ہی دے سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایس پی جی نے حالات کا جائزہ لیے بغیر وزیر اعظم کو بائی روڈ جانے کی اجازت دی۔ اور راستے میں کسانوں نے ان کو روک لیا۔ پنجاب والے یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ وزیر اعظم چناؤ میں اپنی جان کے خطرے کا ہوا پہلے بھی کھڑا کر چکے ہیں۔ اس طرح جب ان کو کچھ نہیں ملتا تو اپنی جان کے خطرے کی بازی لگا کر وہ اپنے لیے ہمدردی پیدا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ پنجاب کے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی حالت خستہ ہے۔ سب واقف ہیں کہ وہاں کسان بی جے پی سے سخت ناراض ہیں۔ بی جے پی کسی طرح سے چناؤ کو کسانوں کے معاملے سے ہٹا کر کوئی اور معاملہ کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ پنجاب میں وزیر اعظم کی سیکورٹی کو لے کر جو قضیہ کھڑا ہوا اس سے یقیناً بی جے پی کو ایک نیا ایشو مل گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کا کسان پی ایم سیکورٹی کے جذبات میں بہتا ہے یا پھر وہ اپنی سیاست پر ووٹ کرتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مندر-مسجد کرنے والے نفرت پھیلانے کے لیے تاریخ کا غلط استعمال کر رہے۔۔۔۔۔۔۔ از: بھرت ڈوگرا

ہندوستان میں مندر-مسجد تنازعہ بھڑکانے والوں اور فرقہ واریت کی تشہیر کرنے والوں سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آپ تاریخ کی ان کئی سچائیوں کے بارے میں کیوں خاموش ہو جاتے ہیں، جن سے بھائی چارے اور صبر کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ کیا یہ لوگ تاریخ کا مطالعہ صرف نفرت پھیلانے کی مثالیں تلاش ...

گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور میڈیا کی فرقہ واریت۔۔۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

فرقہ واریت کا زہر اب رفتہ رفتہ پورے ملک میں سرائت کرتا جا رہا ہے۔ اب تو تعلیم یافتہ افراد بھی واٹس ایپ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے لگے ہیں۔ صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ ذہنی طور پر معذور ایک شخص کو محض اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے کہ اس پر مسلمان ہونے کا شبہ ہے ...

بس اللہ ہی بچائے کاشی اور متھرا مساجد۔۔۔۔ از: ظفر آغا

پھر وہی مندر مسجد قضیہ، پھر وہی ہندو مسلم تکرار، کیونکہ راقم الحروف نے سن 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھولنے کے بعد سے سن 1992 میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے تک پورے معاملات بطور ایک صحافی اتنے قریب سے دیکھے اور رپورٹ کئے کہ اب گیان واپی مسجد وارانسی اور متھرا عید گاہ کے سلسلہ میں جو ...

اُدے پور سے کانگریس کے نئے سفر کا آغاز ۔۔۔۔۔ از:ظفر آغا

آخر کانگریس پارٹی نے اُدے پور کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ دیر آئے درست آئے۔ یہ سفر بہت پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ کانگریس کو خود اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اس قسم کے کیمپ کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب جب کانگریس مشکل حالات میں پھنسی ہے تب تب کانگریس نے ایسے کیمپ منعقد کر کے پارٹی ...

بھٹکل : شرالی پروگرام میں سوامی برہمانند کی تقریر کا خلاصہ - ریاستی سیاست کا شدھی کرن کرنے کے لئے سادھو سنت اتریں گے میدان میں ۔ رام راجیہ لانے کے لئے لڑیں گے انتخابات 

"مذہبی عقیدت و احترام کے مراکز لوگوں کے اندر تحریک و ترغیب پیدا کرنے کا سبب بننے چاہئیں ۔آج راجاوں کا دور نہیں رہا ہے ۔ اب ہم کاگیری (اسمبلی کے اسپیکر) یا کسی رکن اسمبلی کو راجا مانتے ہیں ۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنی پرجا کی دیکھ بھال اپنی اولاد کی طرح کریں ۔