پارلیمنٹ میں داخلے پر عائد پابندی ہٹانے کو لے کر صحافیوں نے نکالا مارچ

Source: S.O. News Service | Published on 2nd December 2021, 8:40 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،2؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) پارلیمانی اجلاس کے دوران صحافیوں کے پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی کے خلاف ملک کے مشہور و معروف مدیران، صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس نے آج پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ نکالا۔ صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقل پاس والے صحافیوں کو پارلیمنٹ احاطہ اور راجیہ سبھا و لوک سبھا کے پریس سیکشن میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ وہ ایوان کی کارروائی کو پہلے کی طرح باضابطہ طور پر کور کر سکیں۔

حکومت نے کووڈ ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں کے پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ صحافیوں نے کہا ہے کہ جولائی میں لوک سبھا سربراہ نے طے کیا تھا کہ پارلیمنٹ کو مستقل پاس ہولڈرس کو کور کرنے کے لیے صحافی پہلے کی طرح طویل راہ گیر بن جائیں گے، اس فیصلے کو نافذ کیا جانا چاہیے۔ وہیں پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال کے پاس بنائے جانے پر لگائی گئی روک کو ہٹاتے ہوئے پہلے کی طرح نئے پاس بنائے جائیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ جن صحافیوں کو اجلاس کی پوری مدت کے لیے پاس مل جاتے تھے، انھیں پہلے کی طرح ہی بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ ایوان کی کارروائی کو کور کر سکیں کیونکہ صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے سبب ان کی ملازمت اور سروس بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس سے انھیں چھٹنی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی میں شامل ہونے والے اسیم ارون پر اکھلیش یادو کا حملہ ’کیسے کیسے لوگ وردی میں چھپے بیٹھے تھے‘

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سابق آئی پی ایس اسیم ارون کے بی جے پی کی رکنیت حاصل کرنے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افسران پانچ سال تک بی جے پی کے لئے کام کر رہے تھے آج انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کر دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ...

دارا سنگھ سماجوادی پارٹی میں شامل، یوگی کے تیسرے وزیر اکھلیش کی سائیکل پر سوار

 سوامی پرساد موریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو خیر آباد کہنے والے یوگی حکومت کے سابق وزیر دارا سنگھ چوہان نے اتوار کے روز سماج وادی پارٹی (ایس پی) کا دامن تھام لیا۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد رامپور پہنچے عبد اللہ اعظم ’ہم پر جتنا ہو سکتا تھا ظلم ہوا، میرے والد کی جان کو خطرہ‘

اتر پردیش میں انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو بڑی راحت ملی ہے۔ تقریباً 23 مہینے بعد جیل سے رہا ہونے کے بعد عبد اللہ اعظم نے حکومت اور انتظامیہ پر جم کر نشانہ لگایا۔