مارچ روکنے کے خلاف لبریشن فرنٹ کا دھرنا

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 8th October 2019, 5:41 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

مظفرآباد، اسلام آباد /8اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) کشمیر کی خود مختاری کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں اور حامیوں نے چار روز قبل چکوٹھی کے راستے سری نگر کی جانب مارچ شروع کیا تھا، جسے پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی انتظامیہ نے کنٹرول لائن سے کچھ فاصلے پر روک دیا ہے۔مارچ کے روکے جانے کے خلاف جلوس میں شامل افراد نے لائن آف کنٹرول کے قریب دھرنا شروع کر دیا ہے۔پولیس نے جلوس کو کنٹرول لائن کے قریب جانے سے روکنے کے لیے اتوار کی شام چکوٹھی سے آٹھ کلو میٹر دور جسکول کے مقام پر سری نگر مظفرآباد شاہراہ پر کنٹینر لگا کر اسے بند کر دیا تھا۔پیر کے روز پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے کہا کہ مارچ کو روکنے کے خلاف دھرنا شروع کر دیا گیا ہے اور جب تک آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی یا اقوام متحدہ کا کوئی نمائندہ ان کے پاس نہیں آتا، وہ جسکول کے مقام پر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔مارچ میں شامل لبریشن فرنٹ کے حامی آزادی اور رکاوٹیں ہٹانے کے حق میں لگاتے رہے۔  پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر لائن آف کنٹرول جانے والا راستہ بن کر دیا ہے۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے ترجمان راجہ وسیم نے بتایا کہ مارچ کے شرکاء کو اس خطرے کے پیش نظر آگے نہیں جانے دیا گیا کہ بھارتی فوج ان پر فائرنگ کرے گی۔لبرشن فرنٹ کی طرف سے 4 اکتوبر کو پاکستانی کشمیر کے آخری شہر بھمبر سے سری نگر براستہ ایل او سی چکوٹھی مارچ کا آغاز کیا گیا تھا، جس میں فرنٹ کے ہزاروں حامیوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

تبلیغی جماعت کا ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو ہتک عزت کا نوٹس، بے بنیاد خبریں شائع کرنے کی پاداش میں معافی مانگنے اور ایک کروڑ ہر جانہ ادا کرنے کا مطالبہ 

تبلیغی جماعت سے منسلک ایک رکن نے آج ٹائمز آف انڈیا گروپ کو جماعت کے بارے میں اشتعال انگیز اور بے بنیاد خبریں شائع کرنے کی پاداش میں ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

کرونا سے لڑنے کے بہانے ملک پر ایک خاص مذہبی عقیدے کو تھوپنے کی کوشش: ڈاکٹر شکیل احمد، سابق مرکزی وزیر نے کہا “ملک کو اس وقت مستحکم طبی نظام کی ضرورت”

کرونا بلا شبہ ایک خطرناک مہلک مرض ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں جانچ اور علاج کے مستحکم انتظام کے ساتھ مضبوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کا بڑھتا ہوا قہر۔ مزید 9افراد کی جانچ رپورٹ آئی پوزیٹیو۔ مریضوں کی تعداد ہوگئی 151

کیرالہ کے کاسرگوڈ میں کورونا وائرس کاقہر ابھی تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔ 6اپریل کی شام تک کی جو صورتحال ہے اس کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے مزید9معاملات سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ضلع میں جملہ مریضوں کی تعداد 151ہوگئی ہے۔

اترپردیش: بی جے پی کی خاتون لیڈر نے کورونا کو مارنے کے لیے چلائی گولی، ایف آئی آر درج

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اتوار کو رات 9 بجے 9 منٹ تک چراغاں کرنے کی اپیل کے دوران بعد اترپردیش کے ضلع بلرامپور میں 'دیا' جلانے کے بعد کورونا وائرس کو مارنے کے لئے ہوا میں فائرنگ کرنے والی بی جے پی کی سینئر خاتون لیڈر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔