جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے زیر اہتمام ’ہندوستان کا بدلتا منظرنامہ اور ہماری ذمہ داری ‘ کے عنوان پر عوامی اجلاس :مسلمان آزمائش پر مشتعل نہیں بلکہ چیلنج کے طورپر قبول کریں ؛امیرحلقہ ڈاکٹر سعد بیلگامی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 24th January 2020, 8:13 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:24؍جنوری(ایس اؤ نیوز)فرقہ پرستوں کے مذموم منصوبوں پر قد غن لگانے ، بند باندھنے کا بہترین موقع میسر آیا ہے  اور اس کام کو ملت کے نوجوان بہتر طورپر انجام دے سکتےہیں، مسلم نوجوان اپنی روشن عملی زندگی سے دنیا کے لئے ایک مثال پیش کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں میں دنیا کو مسحور کرنےکی قوت ہے ، ان کے ایک ہاتھ میں قرآن تو دوسری طرف تعلیم کے میدان میں اعلیٰ سے اعلیٰ منازل طئے کرنا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے امیر حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بیلگامی نے ان خیالات کااظہار کیا۔

وہ یہاں 23جنوری 2020بروز جمعرات کی رات رابطہ ہال میں جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے زیراہتمام ’ ہندوستان کا بدلتا منظرنامہ اور ہماری ذمہ داری‘ کے عنوان پر منعقدہ عوامی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ موصوف نے اپنے خطاب میں مسلم نوجوانوں پر زیادہ زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے نوجوان بے پناہ قوت کے مالک ہیں، انہیں اجتماعیت سے جڑ کر کام کرنا چاہئے۔ ایک بامقصد زندگی گزارتے ہوئے نفرت کے ماحول میں محبت کا پیغام وہیں پھیلا سکتےہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ کبھی کسی حال میں بھی ملت کا وقار مجروح ہونے نہ دیں۔ گرچہ اس وقت سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں مگر مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ، نفرت کا جواب نفرت نہیں محبت ہے ، آزمائش کے موقعوں پر مشتعل نہیں بلکہ حالات کو ایک چیلنج کے طورپر قبول کرتے ہوئے بدلنے کی کوشش کریں۔ اپنے علم سے خاطرخواہ فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے مسائل، عورتوں کے مسائل ، معاشی ابتری کے مسائل ، بے روزگار ی، کسانوں کے بے شمار مسائل ہیں ان کو عوام کےسامنے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کابہترین حل اسلام نے جو پیش کیا ہے وہ بھی ان پر واضح کریں۔ یہی اس وقت ملت کے نوجوانوں کی اہم ذمہ داری ہونے کی بات کہی۔

بدلتے ہندوستان کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد بیلگامی نے کہاکہ ہم ایک عظیم امت کے فرد ہیں، ہمارا ماضی شاندار رہاہے، ہماری تہذیب، ہماری فکر دنیا میں غالب رہی ہے، یہ تو بس چند برسوں کی بات  ہے کہ جب ہم اپنے مقصد سے غافل ہوئے تو مغربی تہذیب نے اپنے پیر پھیلائے یعنی ہم نے کام نہیں کیا ، ہماری روشن تہذیب کو ہم سے ہی بٹہ لگاہے۔

اقتدار پر قابض فرقہ پرست قوتیں تواتر کے ساتھ کچھ ایسے قوانین نافذ کر تے چلی جارہی ہیں، اپنی کوشش  کو یہاں تک پہنچادیا ہے کہ اب وہ ملک کے دستور ، اس کے منشاء کو بدلنے پر آمادہ ہیں۔ یہاں کی اقلیتوں ، پسماندہ طبقات کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتےہیں ۔  سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے ذریعے ایک ہوا کھڑا کرکے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے عوام کو اوپن جیل میں قید کرنےکی سازش رچ رہے ہیں، حسین وعدوں سے عوام کو بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں ہیں، مگر ایسا نہیں ہوا، کیونکہ جتنا وہ نگل سکتے تھے اس سے زیادہ چبانے کی کوشش کی تو  عوام بپھر گئے ، ان کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ اس میں ملک کے دیگر طبقات کے دانشور، طلبا و طالبات، مفکر وغیرہ اس کے خلاف جو آواز اٹھارہے ہیں مسلمانوں کو  اس کا استقبال کرتےہوئے  دیگر اقوام کے ساتھ کھڑے ہوکر شانہ بشانہ چلتے ہوئےعوامی بیداری کو رخ دینے ، متحرک رکھنے  اور اس جدوجہد کو  اس کے انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے ، خاص کراس سلسلے میں  مسلم نوجوانوں کو  آگے بڑھنے کی اپیل کی۔  

مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب سے فرقہ پرستوں نے  اقتدار سنبھالا ہے  اپنے ترکش کے آخری تیر کو چلایا ہے،  جس کے ذریعے مسلمانوں کو فراموش نہیں بلکہ عمداً خارج کیا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ  سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر مسلمانوں کے لئے کوئی نیا قانون نہیں ہے ان قوانین کے نکات کا تذکرہ قرآن نے کیاہے، وقت کے رسولوں پر ایسی آزمائشیں آئی ہیں۔ایسے حالات اس وقت آتی ہیں جب  غرور  اپنے  انتہا کو پہنچتاہے تو ایسی بے تکی باتیں کہی جاتی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ ظالموں کو تباہ کرے گا۔ یہ وعدہ اس وقت پورا ہوگا جب مسلمان اپنی ذمہ داری کو ادا کریں گے۔

دراصل ان کی کوشش تھی کہ وہ  مذہب کے نام پر مسلمان کو یکہ و تنہا کریں مگر حالات  پتہ دے رہے ہیں کہ اللہ کے فضل سے وہ نا کام ہورہی ہیں۔موجودہ ملک میں جاری مظاہروں اور احتجاجات کے متعلق مولانا نے کہاکہ  یہ مسلمان اور ہندو کی لڑائی نہیں ہے، ہماری لڑائی اس ملک کو، ملک کے دستور کو ، ملک کی تہذیب کو بچانے کی ہے۔ کیونکہ یہاں مسلمان اور ہندو  صدیوں سے ساتھ رہتے آر ہےہیں ، دونوں  اپنی اپنی تہذیب اور عقائد کے ساتھ رہتے ہوئے بھی کبھی ٹکراؤ نہیں ہوا ہے، مگر اب عمداً اس کی کوشش کی جارہی ہے اور غنڈہ گردی اور دھونس کے ذریعے غلط قوانین کو عوام پر تھوپا جارہاہے۔ جو لوگ بھی  اس  کے پیچھے ہیں وہ کبھی اس ملک کے لئے کوئی اچھا کام نہیں کیا ہے۔ ملک کو بنانے ، سنوارنے ، ترقی دینے اور آزاد کرانے میں ان کا  کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس ملک کی بڑی اقلیت مسلمانوں نے ہر میدان میں اپنے بہترین رول اداکیا ہے اس کی تاریخ گواہ ہے۔

مولانا نے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان میں جو تفریق ، پھوٹ، نفرت جس تیزی، منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلائی گئی اور ان کے ذہنوں میں جو شکوک و شبہات پیدا کئے گئے اس کے برعکس  مسلمانوں نے اتنی سرگرمی سے کام نہیں کیا ہے  گرچہ حال کے دنوں میں کچھ رفتار بڑھی ہے ، کم سے کم اب تو ہم ان کی غلط فہمیوں کو  دورکرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہر سطح پر ہندووں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے ، صرف زبانی دعوت کی حد تک نہ ہو بلکہ عملی طورپر ہماری زندگی اس کی شہادت دے، ان کو سوچنے پر مجبور کیا جائے۔ مولانانے کہاکہ طاقت سے لوگوں پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا ، کچھ لوگوں کی جانیں ضرور لی جاسکتی ہیں، مگر طاقت کے زور سے کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتاہے، نافذ کرنےکے لئے لوگوں کے دلوں میں اترنےکی ضرورت ہوتی ہے۔ ائے کاش کہ ہم اگر یہاں کی قوم کے دلوں میں اترتے تو ماحول کچھ اور ہوتا، آج جس طرح کا تعاون مل رہاہے کم ازکم اب تو دل میں اترنے کی اپیل کی۔

جلسے کا آغازشمس اسکول کے متعلم عبداللہ آرمار کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ شمس کے متعلم محمد فاریز نے نعت  پیش کی۔ امیر مقامی انجنئیر حافظ نذیر احمد قاضی نے مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے سبھی کا استقبال کیا۔ ناظم علاقہ مولانا محمد سلیم عمری نے افتتاحی کلمات اداکئے ۔  ناظم ضلع طلحہ سدی باپا نے شکریہ اداکیا تو مولانا سید یاسر ندوی برماور نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈائس پر جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے سکریٹری محمد بلال،مجلس اصلاح وتنظیم کے صدر سید احمد پرویز ایس ایم موجود تھے۔ جلسے میں شرور، ہوناورسمیت اطراف کے مقامات سے کثیر لوگ شریک ہوکر کامیاب بنایا۔ مولانا خواجہ کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلوروکے ایک دیہات میں لگا نیا پوسٹرہندو بیوپاریو! ہمارے گاؤں میں آکر تجارت کرو:منفی پروپگنڈا کرنے والوں کومنھ توڑ جواب

کورونا وائرس کی وباء کو مسلمانوں کی سازش قرار دینے اور ان کے سماجی بائیکاٹ کرنے کی جو لہر چل پڑی ہے اور مختلف مقامات پر مسلمانوں کے داخلے اور آمد ورفت پر پابندی کے جو پوسٹرس، بیانرس اور آڈیو مسیج عام ہورہے ہیں اس سے سماج میں ایک عجیب تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

ایمرجنسی معاملات میں کیرالہ کے مریضوں کا علاج مینگلور کے ڈیرلکٹہ اسپتال میں کرنےجنوبی کینرا ڈپٹی کمشنرکی رضامندی

کورونا وائرس کی وبا ء پھیلنے کے بعد کرناٹکا نے کیرا لہ کے ساتھ لگنے والی تمام سرحدیں بند کردی تھیں، جس کی وجہ سے مینگلور سے لگے کیرالہ کے سرحدی علاقہ  کاسرگوڈ اور اطراف سے علاج کے لئے منگلورو آنے والے مریض بری طرح متاثر ہوگئے تھے۔پھر یہ تنازعہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا تھا۔ اور ...

بھٹکل سے ایک پرائیویٹ ڈاکٹر سمیت مزید 15 مشکوک لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ؛ کورونا سے متاثرہ خاتون کو مینگلور منتقل کرنے کی ہورہی ہے تیاری

آج بدھ کو بھٹکل کی ایک حاملہ خاتون کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد اُس کی جانچ کرنے والی ایک ڈاکٹر سمیت قریب 15 لوگوں کے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے روانہ کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ذرائع نے اس بات کی بھی خبردی ہے کہ خاتون کے رابطے میں رہنے والے پانچ قریبی رشتہ داروں کو ...

ناکہ بندی معاملہ: کرناٹک اور کیرالہ کے درمیان تنازعہ کا تصفیہ، کیس بند

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس ’كووڈ -19‘ کے بڑھتے پھیلاؤ کے سلسلے میں جاری ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے پیش نظر کرناٹک حکومت کی جانب سے کیرالہ سے متصل سرحد سیل کر دیئے جانے کے معاملے کی سماعت منگل کے روز اس وقت بند کر دی جب اسے بتایا گیا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ کا تصفیہ ہو گیا ...